اخبارجہاں

ہندوستان میں مسلمانوں پر مظالم جاری: امریکہ

اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی سالانہ رپورٹ میں گائے کے نام پر گئو رکشکوں کے ذریعے لنچنگ کے واقعات کی مذمت

بی جے پی نے رپورٹ کو مودی سرکار کے تئیں تعصب پر مبنی قرار دیا

نئی دہلی:۲۲ ؍جون(بی این ایس /ایجنسی) ایک امریکی رپورٹ کے ایک دن بعد، جس میں ہندوستان میں اقلیتوں پر ظلم کا تذکرہ کیا گیا ہے،بی جے پی کے سینئیر لیڈروں نے کہا ہے کہ امریکی رپورٹ میں واضح کئے گئے انکشافات میں نریندر مودی کی زیرِ قیادت حکومت کے تئیں تعصب صاف نظر آ رہا ہے۔بھگوا پارٹی نے بتایا ہے کہ ہمارے لیڈران نے اقلیتوں اور سماج کے کمزور طبقات پر مظالم کی شدید مذمت کی ہے۔عیاں رہے کہ امریکہ کی وزارتِ داخلہ نے بین الاقوامی مذہبی آزادی سے متعلق سالانہ رپورٹ میںکہا تھا کہ ہندوستان میں اقلیتی فرقوں خاص طور سے مسلمانوں پر پُرتشدد انتہا پسند ہندو گروپوں کے حملے جاری ہیں۔حملے ان افواہوں پر کئے جا رہے ہیں کہ متاثرین بیف کے لئے گائے فروخت کرتے ہیں یا ان کو ذبح کرتے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ۲۰۱۸ ء میں لگ بھگ ایک تہائی ریاستی سرکاروں نے مذہب کی تبدیلی اور گائے کے ذبح پر پابندی سے متعلق پوری شد و مد سے قوانین نافذ کئے لیکن دراصل اس کا نشانہ غیرہندو اور دلت تھے۔گئو رکشا کے نام پر ہجوموں نے مسلمانوں اور دلتوں پر مظالم ڈھائے ہرچند کہ ان میں کچھ کا نسلوں سے ڈیری، چمڑے یا بیف کا قانونی کاروبار تھا۔عیسائیوں پر بھی ہجومی تشدد ہوا اور ان پر یہ الزام تھا کہ وہ جبر سے یا ترغیب دے کر لوگوں کا مذہب تبدیل کراتے ہیں۔دوسری طرف رپورٹ میں ہندوستان کی غیرجانبدار عدلیہ کی ستائش کی گئی ہے کیوں کہ اس نے اکثرقانون کی حقیقی تفہیم کے ذریعہ مذہبی اقلیتی فرقوں کو مطلوبہ تحفظ فراہم کیا۔رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ ۲۰۱۸ ء سپریم کورٹ نے چند ریاستوں میں مذہبی آزادی کی ابتر اور دگرگوں صورتحال کو نمایاں کیا اور کہا کہ ہم اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ بعض صوبائی حکومتیں مذہبی اقلیتوں پر ظلم کی روک تھام کے لئے خاطرخواہ کارروائی نہیں کر ہی ہیں اور بعض سنگین معاملات میں فرقہ وارانہ تشدد ڈھانے والے مجرموں کی طرف سے چشم پوشی کی گئی۔یہ بھی بتایا گیا ہے کہ امریکہ سے کہا گیا کہ وہ ہندوستان پر زور ڈالے کہ یو ایس سی آئی آر ایف کے وفد کو ہندوستان جانے اور وہاں کے ذمہ داروں سے ملنے کی اجازت دی جائے تاکہ وہ وہاں مذہبی آزادی کی صورتحال کا جائزہ لے سکے۔دریں اثناء بی جے پی کے شعبۂ ذرائع ابلاغ کے سربراہ اور راجیہ سبھا کے رکن انیل بالونی نے امریکی رپور ٹ پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستان میں جمہور ی اداروں کی جڑیں گہری ہیں، عدلیہ غیرجانبدار اور خاصی متحرک اور فعال ہے، جو اس طرح کے تنازعات سے نمٹنے اور قصور واروں کو سزا دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔پی ٹی آئی کی اطلاع کے مطابق بالونی نے کہا کہ اس رپورٹ میں بنیادی مفروضہ یہ ہے کہ اقلیتوں پر مظالم کے پسِ پشت کوئی گہری سازش ہے، جو سراسر غلط ہے۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کے بیشتر معاملات میں در اصل مقامی جھگڑے ہوتے ہیں اور مجرمانہ سوچ رکھنے والے افراد لڑائی کرتے ہیں۔موصوف نے یہ بھی کہا کہ مودی کی حکومت نے جو اسکیمیں وضع کیں اور ان پر موثر طریقے سے عمل درآمد کیا، اس سے تمام ذاتوں، مذاہب اور خطوں کو برابر سے فائدہ پہنچا ہے۔بی جے پی کو اس پر فخر ہے کہ اس نے بلا تفریقِ مذہب و ملت اور صنف سماج کے مفلس اور دبے کچلے طبقے کے معیارِ زندگی کو بہتر بنایا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker