شمع فروزاںمضامین ومقالات

موجودہ حالات اور مسلمانوں کی معاشی دشواریوں کا حل

حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
(سکریٹری وترجمان آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ)
مسلمانوں کو جن مختلف پہلوؤں سے نظر انداز کیا جارہا ہے ، اُن میں ایک بنیادی چیز معیشت ہے ، گورنمنٹ ملازمت میں اُن کا حصہ ناقابل بیان حد تک کم ہوگیا ہے یا کردیا گیا ہے ، مرکزی ملازمتوں میں بھی اور ریاستی ملازمتوں میں بھی ، اُن ملازمتوں میں بھی جن کے لئے اعلیٰ تعلیم اور لیاقت کی ضرورت ہے اور اُن ملازمتوں میں بھی، جن کے لئے تعلیم کی ضرورت نہیں ہے یا بہت ہی معمولی لیاقت درکار ہے ، جیسے : درجہ چہارم کی ملازمتیں ، پرائیوٹ اور غیر ملکی کمپنیوں کے آنے سے مسلمانوں کو کچھ فائدہ ہوا ہے ؛ کیوںکہ اس میں ریزرویشن نہیں ہے اور ایک حد تک مذہبی تعصب سے آزاد ہوکر صلاحیت کی بنیاد پر ملازمتیں دی جاتی ہیں ؛ لیکن حکومت اب اس کو بھی بعض جہتوں سے اپنے کنٹرول میں لانا چاہتی ہے ، خاص کر ریزرویشن کے مسئلہ میں ۔
یہ بات ظاہر ہے کہ اِس دنیا کے نظام میں معاشی ترقی کے بغیر کوئی قوم سُرخ رُو نہیں ہوسکتی اور نہ آبرومندانہ زندگی گزارسکتی ہے ، اس کے علاوہ اس کا ایک دینی پہلو بھی ہے ، معاشی پسماندگی انسان کو ضمیر فروشی بلکہ کھلے طورپر ایمان کا سودا کرنے کے راستہ پر لے جاتی ہے ، بہت سے علاقوں میں غریب مسلمان عیسائی مشنریز کا شکار ہورہے ہیں ، بعض جگہ سنگھ پریوار کی ذیلی تنظیمیں انھیں ہندو بنانے کے لئے کوشاں ہیں ، قادیانیوں کا پورا تبلیغی مشن غریب اور نادار مسلمانوں ہی کے درمیان سرگرم عمل ہے ، قرض دینے کے نام پر کئی ادارے قائم ہورہے ہیں اور یہ بالآخر قرض کے بدلہ مقروضوں کا ایمان خرید کرلیتے ہیں ، مسلمان کی بڑی تعداد اپنا کما حقہ علاج نہیں کراسکتی ، وہ ذاتی مکان سے محروم ہے ، مسلمان کاشتکار اپنی زراعت کے لئے سودی قرض حاصل کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے ، ایسے واقعات بھی سامنے آرہے ہیں کہ مسلمان لڑکیاں غیر مسلم لڑکوں کے ساتھ جارہی ہیں اور بعض مزدور پیشہ اور ملازمت پیشہ عورتیں گناہ میں مبتلا ہورہی ہیں ۔
ہمارے معاشرہ میں اِن واقعات کا بڑا سبب مسلمانوں کی معاشی پسماندگی، بے روزگاری اور انتہائی درجہ کی غربت ہے ، اگرچہ ان واقعات کے اور اسباب بھی ہوسکتے ہیں ؛ لیکن یہ اس کا ایک نہایت اہم سبب ہے ، موجودہ حالات میں مسلمانوں کو غور کرنا چاہئے کہ وہ حکومت پر منحصر ہوئے بغیر کس طرح اپنی معیشت کو سنبھال سکتے ہیں؟ اس سلسلہ میں تعلیم کو تو بنیادی اہمیت حاصل ہے ہی ؛ لیکن یہ تو اُن لوگوں کے لئے ہے ، جو ابھی تعلیم حاصل کرنے کی عمر میں ہیں اور پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اب تعلیم کا رشتہ روزگار سے ٹوٹتا جارہا ہے ، لاکھوں گریجویٹس اور انجینیئرس ہیں جو روزگار سے محروم ہیں ، کتنے ہی گریجویٹ آٹو رکشا چلا رہے ہیں، اور کتنے ہی انجینئر معمولی کاموں کے ذریعہ اپنا پیٹ بھررہے ہیں ، اب تو بے روزگار ڈاکٹروں کی بھی اچھی خاصی تعداد ہوگئی ہے ؛ اس لئے ہمیں غور کرنا چاہئے کہ روزگار کے وہ کیا مواقع ہیں، جن میں ہم حکومت کے محتاج نہ ہوںاور جن کو اپنے طورپر کیا جاسکتا ہو ؟
یہ تو اصل میں معاشی ماہرین کے غور کرنے کا موضوع ہے ؛ لیکن ہم جیسے لوگ جو سطحی طورپر ایسے مسائل کو دیکھتے ہیں ، ان کے لحاظ سے تین باتیں مسلمانوں کے لئے اس وقت بہت اہم ہیں ، ایک: تجارت ، دوسرے : چھوٹی صنعتوں کا قیام، تیسرے: ہنر مندی ، اللہ تعالیٰ نے تجارت میں بڑی برکت رکھی ہے ، رسول اللہﷺخود تاجر تھے اور ایک کامیاب تاجر تھے ، آپ ﷺے نہ صرف مقامی طورپر تجارت کی ؛ بلکہ مکہ کا مال شام پہنچاتے اور وہاں کا مال مکہ لاتے ، گویا آپ ﷺایکسپورٹ ، ایمپورٹ بھی کیا کرتے تھے ، آپ ﷺنے تجارت کی اخلاقیات کو تفصیل سے بیان فرمایا ہے کہ تجارت میں جھوٹ نہ ہو ، دھوکہ نہ ہو ، معاملات میں وضاحت ہو ، ابہام نہ ہو ، کم نفع حاصل کرکے زیادہ مال بیچا جائے ، آپ ﷺنے تجارت کی ترغیب دی یہاں تک فرمایا کہ قیامت کے دن سچے تاجر کا حشر انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا اور اس کو نیک ترین لوگوں کی رفاقت حاصل ہوگی ۔ ( ترمذی عن ابی سعید خدریؓ، کتاب البیوع، باب ما جاء فی التجارۃ)
خود قرآن مجید نے بھی تجارت کی ترغیب دی ہے ، سورۂ قریش میں خاص طورپر قریش کے تجارتی اسفار کا ذکر کیا گیا ہے ، جو گرما میں شام کی جانب اور سرما میں یمن کی جانب ہوا کرتا تھا اور اس کا ذکر اللہ تعالیٰ کے احسان کے طورپر کیا گیا ہے، سورۂ جمعہ میں تلقین کی گئی ہے کہ نماز ادا کرنے کے بعد زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کی روزی کو تلاش کرو ، خود قرآن مجید میں اس کا اشارہ موجود ہے کہ یہ پھیلنا تجارت کے لئے تھا ؛غرض کہ تجارت ایک بہت ہی بابرکت اور آزاد ذریعۂ معاش ہے ، امام شافعیؒ کا نقطۂ نظر ہے کہ تجارت سب سے افضل ذریعۂ معاش ہے (عمدۃ القاری: ۶؍۱۸۶)؛ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت ابوبکرؓ ، حضرت عمرؓ ، حضرت عثمانؓ اور اکثر مہاجرین صحابہؓ نے تجارت کو اپنا ذریعۂ معاش بنایا تھا۔
تجارت ایسا ذریعۂ معاش ہے جو شہر ، قصبہ ، گاؤں ، ریلوے اسٹیشن ، بس اسٹینڈ ، ہاسپٹلوں اور تعلیمی اداروں کے قریب ہر جگہ شروع کیا جاسکتا ہے اوراگر تاجر اچھی طرح جائزہ لے کہ کہاں کس چیز کی کھپت ہے ؟تو وہ ضرور اپنی تجارت میں کامیاب ہوگا ، ہندوستان کے بعض علاقوں خاص کر گجرات ، ممبئی ، کلکتہ وغیرہ میں مسلمانوں نے چھوٹی بڑی تجارت کی طرف توجہ دی ہے، اس کی وجہ سے وہاں کے مسلمان بحمد اللہ خوش حال ہیں ، ضرورت ہے کہ مسلمانوں کو عمومی طورپر تجارت کی طرف متوجہ کیا جائے ؛ تاکہ وہ اپنے روز گار کے معاملہ میں زیادہ سے زیادہ خود مکتفی ہو سکیں۔
دوسری چیز جس کی طرف توجہ کی ضرورت ہے، وہ ہے چھوٹی صنعتیں ، رسول اللہﷺ نےصنعت و حرفت سے واقف مسلمان کی تعریف کی ہے :ان اللہ یحب المؤمن المحترف (مجمع الزوائد:۴؍۶۲، باب الکسب والتجارۃ) بھاری صنعتیں تو بہت خرچ طلب ہوتی ہیں ، اس کے قیام میں قانونی مسائل بھی درپیش ہوتے ہیں، اور اس پر جس طبقہ کی اجارہ داری ہے ، وہ عموماً مسلمانوں کا راستہ کاٹنے کی کوشش کرتے ہیں ، تو کوشش تو بڑی صنعتوں کے لئے بھی کرنی چاہئے، اس سے صرف صنعت کے مالک ہی کو نہیں؛ بلکہ بہت سے لوگوں کوروزگار ملتا ہے؛ لیکن چھوٹی صنعتوں میں نسبتاً کم دشواریاں ہیں اور کم سرمایہ سے ان کا قیام عمل میں آسکتا ہے ، جن شہروں میں مسلمانوں نے چھوٹی صنعتوں کی طرف توجہ کی ہے، جیسے : بنارس ، مئو ، مرادآباد ، کانپور ، چنئی ، فیروز آباد ، مالیگاؤں ، بھیونڈی وغیرہ ، وہاں اُن کی معاشی حالت بہتر ہے ، اب چھوٹی صنعتوں کا دائرہ بہت وسیع ہوگیا ہے ، اس کے لئے باضابطہ ٹریننگ کورس بھی ہیں اور ان کورسوں میں داخلہ کے لئے زیادہ تعلیم کی ضرورت نہیں ہے، مسلم سماج میں اس کو فروغ دینے کی ضرورت ہے ، ان صنعتوں کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اس میں گھر کے تمام افراد شامل ہوجاتے ہیں ، اور خواتین بھی اپنے گھروں میں رہتے ہوئے اس کا حصہ بن سکتی ہیں ۔
تیسرا ضروری شعبہ ہے ہنر مندی کا ، جس کو آج کل حکومت ’’ اسکیل ڈیولپمنٹ ‘‘ کے عنوان سے فروغ دینے کے لئے کوشاں ہے ، جیسے: الیکٹریشن ، پلمبروغیرہ ، اس میں خواتین کے لئے بھی متعدد کورس ڈیژائن کئے گئے ہیں، ان فنون کی تربیت کے لئے سرکاری ادارے بھی قائم ہیں اور پرائیوٹ ادارے بھی ہیں ، شخصی طورپر بھی اس کی تربیت حاصل کی جاسکتی ہے ، جیسے: اے سی ورکشاپ میں ایئر کنڈیشن کی ، موٹر میکینک کے ساتھ رہ کر اُن کے فن کی ، یہ بھی کسب ِمعاش کا اہم شعبہ ہے ، ڈاکٹرس اور انجینئرس کی ضرورت تو کم ہوتی جارہی ہے ؛ لیکن ہنرمندوں کی ضرورت بڑھتی جارہی ہے اور متمول ملکوں میں بھی ایسے ماہرین کی بہت زیادہ طلب ہے ، اس میدان میں ماشاء اللہ مسلمانوں کی اچھی خاصی تعداد ہے ؛ لیکن اب بھی بے روزگار نوجوانوں کے لئے اس بات کے کافی مواقع ہیں کہ کوئی ہنر سیکھ کر ملک یا بیرون ملک میں محنت اور عزت کی روزی حاصل کر سکیں ۔
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker