ہاں میں ہوں

ہاں میں ’ماب لنچنگ ‘ کا شکار مسلمان ہوں۔۔۔!

نازش ہما قاسمی
جی ماب لنچنگ کا شکار، ہجومی دہشت گردوں، گئو رکشکوں اور شدت پسند و سخت گیر نظریات والے ہندوؤں کے ہاتھوں کبھی گائے کو بیچنے کے شک میں، کبھی گائے کا گوشت کھانے اور اسے بیچنے کے الزام میں، کبھی جے شری رام نہ بولنے کی پاداش میں، کبھی جے ہنومان نہ کہنے کے جرم میں، کبھی وندے ماترم نہ گانے پر، کبھی داڑھی رکھنے پر، کبھی ٹوپی پہننے پر، کبھی نماز پڑھنے پر، موت کے گھاٹ اتار دیے جانے والا ہندوستان کی دوسری سب سے بڑی اکثریت اور پہلی بڑی اقلیت سے تعلق رکھنے والا مسلمان ہوں۔ سب سے پہلے گئو رکشک دہشت گردوں کی دہشت گردی کا شکار بیف رکھنے کے شک میں دادری میں مارا جانے والا اخلاق ہوں، آسام میں جبراً خنزیر کا گوشت کھلائے جانے والا شوکت علی ہوں، جھارکھنڈ میں ہجومی دہشت گردوں کا شکار مظلوم انصاری، امتیاز خان، شیخ حلیم، سراج خان، محمد ساجد، شیخ نعیم، علیم الدین انصاری، ممتاز انصاری، ببلو اورحالیہ ہندو دہشت گردوں کی بھیڑ کے ذریعے جس میں مرد بھی تھے، بچے بھی تھے، عورتیں بھی تھیں جنہوں نے مجھ سے جے شری رام کے نعرے لگوائے، جے ہنومان کے نعرے لگوائے، اور بجلی کے کھمبے سے گھنٹوں باندھ کر مارا پیٹا اور موت کے گھاٹ اتار دیا وہ تبریز انصاری ہوں۔ راجستھان میں گئو رکشکوں کا شکار ہونے والا پہلو خان ہوں، الور میں مارا جانے والا اکبر خان ہوں، ہاپوڑ میں گئوکشی کے الزام میں بھیڑ کے ذریعے خدا کے حضور پہنچادیاجانے والا قاسم ہوں جس کی لاش کو پولس کے سامنے ہے گھیسٹ کر انسانیت کا مذاق اڑایا گیاتھا۔ راجستھان میں ہندو دہشت گرد کے ذریعے جو اپنی منہ بولی بہن کا زانی تھا جس نے مجھے زنا کی پردہ پوشی کے لیے زندہ جلا دیا تھا وہ افرازل ہوں۔ عید سے کچھ دن قبل بے رحمی سے ٹرین میں موت کے گھاٹ اتار دیا جانے والا حافظ جنید ہوں، دہلی کے ایک مدرسے میں چھوٹا سا معصوم بچہ جسے علاقے کے بچوں نے موت کے گھاٹ اتاردیا تھا وہ عظیم ہوں۔ ہاں میں وہی ماب لنچنگ کا شکار مسلمان ہوں جو کبھی ہریانہ میں، کبھی گروگرام میں، کبھی لکھنؤ میں، کبھی سیتا مڑھی میں، کبھی مظفرپور میں، کبھی نوادہ میں، کبھی ارریہ میں، کبھی چمپارن میں، کبھی نالندہ میں، کبھی اورنگ آباد میں، کبھی تھانے ممبرا میں، کبھی رانچی میں، کبھی سورت میں، کبھی ہاپوڑ میں، کبھی رامپور، کبھی بروڈہ میں، کبھی بھوپال میں، کبھی اندور میں، کبھی کشمیر میں غرضیکہ ہندوستان کے تمام صوبوں، ضلعوں، تحصیلوں، قصبوں اور پنچایتوں میں مذکورہ الزامات کےتحت مار کھانے والا، زخمی ہونے والا، ہاتھ پاؤں سے معذور ہونے والا، موت کے گھاٹ اتاردیے جانے والا، ٹوپی پہنے ہوئے، داڑھی رکھے ہوئے، بنا داڑھی والا؛ لیکن ٹوپی پہنے، کبھی نام پوچھ کر، کبھی شکل وحلیہ دیکھ کر ہندو دہشت گردوں کا شکار ہجومی بھیڑ کا ستایا ہوا مسلمان ہوں۔ میں اس لیے موت کے گھاٹ اتارا جاتا ہوں کہ میں مسلمان ہوں، میرا جرم مسلمان ہونا ہے۔ میں جے شری رام اپنے مذہب پر عمل پیرا ہونے کی وجہ سے نہیں کہہ سکتا، وندے ماترم میں نہیں گا سکتا؛ کیوں کہ میں خدا کے علاوہ کسی کو عبادت کے لائق نہیں سمجھتا وہ چاہتے ہیں کہ ہم ان کی طرح لاکھوں کروڑوں بھگوان کے آگے سرجھکائیں؛ لیکن میں موحد ہوں توحید پر ایمان رکھتا ہوں خدا کے علاوہ کسی کے آگے جھکنا ہمارے مذہب میں جائز نہیں ہے؛ اس لیے میں کفریہ کلمات نہیں پڑھ سکتا؛ لیکن فرقہ پرست عناصر مجھے اسے پڑھنے پر مجبور کررہے ہیں، مجھ پر ظلم کررہے ہیں، مجھے ستارہے ہیں، جبراً جے شری رام کے نعرے لگوا رہے ہیں، ہم برادران وطن کے عقائد کی عزت کرتے ہیں گئو کشی نہیں کرتے؛ لیکن جان بوجھ کر ہمیں مارا جارہا ہے مسلم قوم کے تئیں ہندوؤں میں کچھ فرقہ پرست نفرت گھول رہے ہیں کہ یہ تمہاری ماتا کو کھاتا ہے؛ لیکن ہم نہیں کھاتے، تم فرقہ پرست اور گئو رکشک ہی کھاتے ہو، اپنی ماتا سے تم ہی استفادہ کرتے ہو، تم ہی اس کا گوشت بیرون ممالک سپلائی کرتے ہو؛ لیکن زد پر ہمیں لیتے ہو اور برادران وطن کے دلوں میں نفرت بھرتے تم یہ سمجھتے ہو کہ اس طرح کرنے سے مسلمان ڈر جائے گا، سہم جائے گا، خوف کھاجائے اور ملک چھوڑ دے گا تو ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ یہ ملک ہندوستان تمہارے باپ کی جاگیر نہیں ہے، ہم مسلمان یہاں کرائے دار نہیں ہیں، حق دار ہیں! تمہیں پتہ ہونا چاہیے کہ جب جنگ آزادی لڑی جارہی تھی تو تمہارے باپ دادا انگریزوں کی غلامی کررہے تھے، تلوے چاٹ رہے تھے، معافیاں مانگ رہے تھے اور ہمارے آباواجداد توپوں کے آگے بھون دیے جارہے تھے؛ لیکن فتوی واپس نہیں لے رہے تھے، مالٹا کو بھر رہے تھے، دریائے راوی میں بہہ رہے تھے، مسجدوں میں پھانسی چڑھ رہے تھے؛ لیکن ملک کاسودا نہیں کیا ملک کو آزاد کرا کے ہی دم لیا، تم یہ سمجھتے ہو کہ ہم بزدل قوم سے تعلق رکھتے ہیں تو یہ خام خیالی ہے ہمیں اس ملک سے محبت ہے، الفت ہے، یہاں ہماری پشتیں زمین میں دفن ہیں اور نسلیں زمین کے اوپر پروان چڑھ رہی ہیں ہم اسی ملک کے رہنے والے تھے ہیں اور رہیں گے ۔ خواہ تم فرقہ پرست، شدت پسند ہندوؤں اپنے مقدس بھگوان کے نام کی توہین کرکے ہمیں مارو، ستاؤ ہمارے لیے زمینیں تنگ کرو ہم یہیں رہنے والے تمہارے سینے پر مونگ دلتے رہیں گے ایسا نہیں ہے کہ ماب لنچنگ پرخاموش رہیں گے تمہارے خلاف اب سینہ سپر ہوکر تمہارا مقابلہ کریں گے، ہم نہیں چاہتے کہ ملک میں نفرت پھیلے؛ لیکن تم نفرت کے پجاری نفرت کی کھیتی کررہے ہو تم چند گنے چنے لوگ ہو جو لوگوں کے اذہان سے کھلواڑ کررہے ہو تمہیں علم ہوناچاہیے جس طرح تمہارے آبا و اجداد کو غلط نام سے پکارا جاتا ہے تمہیں بھی دنیا اسی طرح کے القابات سے پکارے گی۔ ہم نفرت کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں، پورے ملک میں نفرت کے خلاف احتجاج کررہے ہیں، مظلوموں پر ظلم وستم کی اس لڑائی میں ہماری قیادت کے ساتھ تمہارے بھگوان رام جی کا نام لینے والے سیکولر ہندو بھی ہیں، گرنتھ پڑھنے والے سکھ بھی ہیں، بائبل پڑھنے والے عیسائی بھی ہیں برسوں سے تمہارے ظلم وستم کی چکی میں پسنے والے دلت بھی ہیں، تم اکیلے ہو کتنی نفرت پھیلاؤ گے، کتنا ظلم کروگے اک دن تمہارے ظلم کا خاتمہ ہوکر رہے گا، نفرت کے مقابلے میں محبت جیت جاتی ہے اور ہم محبت کے پیامبر ہیں محبت کو فروغ دے کر تمہارا مقابلہ کریں گے اور تمہیں کیفرکردار تک پہنچا کر دم لیں گے ۔ ان شاء اللہ !

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker