ہندوستان

بیسویں صدی کے عظیم محدث مولانا حبیب الرحمن اعظمی کی حیات و خدمات پر آئی او ایس کے دو روزہ سیمینار کا آج سے آغاز

عصر حاضر کے مسائل اور چیلنجز کے حل کیلئے احادیث نبوی میں غووروفکر کرنا موجودہ محدثین کیلئے ضروری

مولاناحبیب الرحمن اعظمی محدثین کے قافلہ کا خلاصہ اور علامہ کشمیر کا فیض تھے

نئی دہلی:6؍جولائی(پریس ریلیز) بیسوی صدی کے عظیم محدث حضرت مولانا حبیب الرحمن اعظمی رحمۃ اللہ علیہ کی حیات وخدمات پر انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز کے دوروزہ سمینار کا آج کانسٹی ٹیوشن کلب میں آغاز ہوگیا ہے۔ افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری امیر شریعت مولانا سید محمد ولی رحمانی نے کہاکہ مولانا حبیب الرحمن اعظمی بنیادی طور پر میدان حدیث کے ماہر تھے۔ علم حدیث علوم اسلامیہ کا عظیم فن ہے اور اسے انہوں نے پوری زندگی سینچنے اور سنوارنے کا کام کیا۔ انہوں نے محدث اعظمی رحمتہ اللہ علیہ کے بارے میں بتایاکہ ان سے ملاقات کرنے والا شخص بہت متاثر ہوتاتھا۔ ان کا حافظہ بہت مضبوط اور قوی تھااس کو انہوں نے علم حدیث کیلئے وقف کردیاتھا۔ا س موقع پر مولانا سید محمد ولی رحمانی نے انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹو اسٹڈیز اوراس کے بانی وچیرمین ڈاکٹر محمد منظور عالم کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہاکہ علمی دنیا کو ان کا شکر گزار ہونا چاہئیے۔ تحقیق، ریسرچ اور سمینار کے ذریعہ نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔آئی او ایس کے چیرمین ڈاکٹر محمد منظور عالم نے اپنے صدارتی خطاب میں مولانا حبیب الرحمن اعظمی کی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے عصر حاضر کے علماء کی اس جانب توجہ مبذول کرائی کہ موجودہ حالات سے نمٹنے کیلئے احادیث میں کیا رہنما ئی کی گئی ہے اس پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہاکہ آج ذات نبوی پر کس کس طرح کے حملے ہورہے ہیں اور ان حملوں کا کیا جواب ہوسکتاہے؟۔ ہندوستان میں پسماندہ طبقات،اقلیات، جمہوریت پسند غیر مسلم طبقات سب کو متعدد مسائل در پیش ہیں۔ فرقہ واریت،تشدد، انتہاء پسندی،دہشت گردی اور ان جیسے دوسرے خطرناک مسائل سے ہندوستانی معاشرہ جوجھ رہاہے۔ تعلیمات نبوی میں ان مسائل کا کوئی حل ہے یا وہ ان معاملات میں خاموش ہیں؟۔ عالمی نقطہ نظر سے دیکھیں تو سرمایہ داری، قدرتی خزانوں کا غلط استعمال، غریب ممالک کو کچلنے کی سوچ،اور ترقی یافتہ طاقتوں کے ذریعہ پسماندہ یاترقی پذیر ممالک کو آگے نہ بڑھنے دینے کا رجحان پوری قوت کے ساتھ موجود ہے۔ ان تمام عالمی مسائل کے حل کیلئے احادیث نبوی ہمیں کیاعلاج فراہم کرتی ہے؟ آج کے ماہرین احادیث کو ان مسائل پر بھی غور کرنا ضروری ہے۔انہوں نے مزید کہاکہ ہم ہم مولانا حبیب الرحمن اعظمی کے علمی ورثے سے اچھی طرح واقفیت حاصل کریں اور اسے علمی وعصری دونوں بنیادوں پر آگے بڑھانے کی کوشش کریں۔ شاید کو ان کو اس سے بہتر خراج عقیدت نہیں پیش کیا جاسکتا۔مولانا سعید الرحمن اعظمی مہتمم دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنونے افتتاحی خطاب میں مولانا حبیب الرحمن اعظمی کی سوانح اور شخصیت کا تذکرہ کیا اس دوران انہوں نے بتایاکہ محدث اعظمی کی خدمات حدیث کا اعتراف عرب علماء نے بڑی فراخدلی اور وسعت کے ساتھ کیاہے۔ شام کے مشہور عالم ڈاکٹر نور الدین عتور نے لکھاہے کہ مولانا حبیب الرحمن اعظمی حدیث شریف اور علم دین کے حامل شریفانہ مزاج رکھنے والے مثالی اہل علم میں سے تھے۔ جوانوں جیسا حوصلہ اور نشاط رکھتے تھے۔ بے پناہ خدمات انجام دی ا ور ایک نئی راہ دکھائی۔مہمان خصوصی مولانا حکیم عبد اللہ مغیثی صدر آل انڈیا ملی کونسل نے اپنے خطاب میں علوم حدیث کی تفصیلات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ محد ث اعظمی قافلہ محدثین کا خلاصہ تھے۔ ہندوستان میں شاہ ولی اللہ محدث دہلی اور علامہ انور شاہ کشیمری کا وہ فیضان اور عکس تھے جنہوں نے علم حدیث میں ممتاز کارنامہ انجام دیاہے۔پروفیسر عبد الرحمن مومن سابق پروفیسر شعبہ سماجیات ممبئی یونیورسیٹی نے کلیدی خطاب پیش کرتے ہوئے مولانا کی زندگی اور علمی خدمات کے مختلف پہلوؤں کا تفصیل سے تذکرہ کرتے ہوئے بتایاکہ وہ علوم حدیث کے ساتھ زمانے کے حالات سے بھی واقفیت رکھتے تھے۔ ملی مسائل میں گہری دلچسپی رکھتے تھے، جمعیت علماء سے وابستہ ہوکر مختلف محاذ پر انہوں نے مسلمانوں کی فلاح وبہبود کیلئے کام کیا اور ایک عرصے تک وہ جمیعت علماء ہند کے تحت امیر الہند بھی رہے۔ ان کا علم حافظ ابن حجر عسقلانی کی یاد تازہ کرتاہے۔ انہیں سعودی عرب، مصر،کویت،قطر سمیت کئی ممالک سے اچھی تنخواہ کے ساتھ وہاں کام کرنے کی پیشکش ہوئی لیکن انہوں نے انکار کردیا اور ہندوستان میں رہ کر علوم حدیث کی گتھیاں سلجھانے کو ترجیح دیا۔مولانا اعظمی کے خانوادے سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر مسعود احمد نے سوانحی خاکہ پیش کرتے ہوئے بتایاکہ 1900 عیسوی میں مشرقی اترپردیش کے ضلع مؤ میں ان کی ولادت ہوئی۔دارالعلوم دیوبند سمیت کئی اداروں سے تعلیم حاصل کی۔ دارالعلوم مؤ سے تدریس کا آغاز کیا۔ علوم حدیث اور دیگر فنون پر انہوں نے دسیوں کتاب تصنیف کی ہے۔ ہر ایک اہل علم کے درمیان مقبول ہے۔قبل ازیں آئی او ایس کے سکریٹری جنرل پروفیسر زیڈایم خان نے انسٹی ٹیوٹ کا تعارف کراتے ہوئے کہاکہ آئی او ایس کے متعدد تحقیقی اور علمی کاموں میں ایک شعبہ شخصیات پر سمینار کے انعقاد کا بھی ہے۔ آئی او ایس کے تحت ہر سال دوشخصیت پر سمینار کا انعقاد کیا جاتاہے جس میں ایک عالمی شخصیت ہوتی ہے اور اوردوسری قومی شخصیت۔ملکی شخصیت کے تحت سال رواں مولانا حبیب الرحمن اعظمی کی حیات وخدمات کو نئی نسل تک پہونچانے کیلئے ہم یہ سمینار منعقد کررہے ہیں جبکہ عالمی شخصیت کے تحت اسی سال دسمبر میں معروف اسکالر اور محقق فواد سیزگین کی حیات وخدمات پر دہلی میں ہی بین الاقوامی سمینار کا انعقاد عمل میں آئے گا۔سمینار کا آغاز مولانا عبد اللہ طارق کی تلاوت سے ہوا۔ پروفیسر اشیاق دانش فائننس سکریٹری آئی او ایس نے نظامت کا فریضہ انجام دیا جبکہ مولانا شاہ اجمل فاروق ندوی نے کلمات تشکرپیش کیا۔سمینار کے دوران آئی او ایس کی مطبوعات ”ڈاکٹر محمد حمید اللہ کا علمی ورثہ اور اس کی عصری معنویت“ اور عالم اسلام کا بے مثال محقق ڈاکٹر فواد سیزگین“ کا اجراء بھی عمل میں آیا۔سمینار میں حضرت مولانا رابع حسنی ندوی ناظم ندوۃ العلماء کی بھی شرکت ہونی تھی تاہم علالت کی وجہ سے وہیں نہیں آسکے اور اپنا پیغا م بھیجا جسے پہلے تکنیکی اجلاس میں پڑھ کر سنایاگیا۔ واضح رہے کہ مولانا حبیب الرحم اعظمی کی حیات خدمات پر یہ دورزہ سمینار کانسٹی ٹیوشن کلب رفیع مارگ دہلی میں منعقد ہورہاہے۔ افتتاحی اور اختتامی اجلاس کے علاوہ کل چھ تکنیکی اجلاس پر یہ سمینار مشمل ہے جس میں ملک بھر کے علماء واسکالرس مولانا حبیب الرحمن اعظمی کی خدمات کے مختلف جہتوں پر اپنا مقالہ پیش کررہے ہیں۔دیگر اجلاس کی طرح اختتامی اجلاس اتوار کو شام پانچ بجے کانسٹی ٹیوشن کلب میں ہی ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker