ہندوستان

14 اراکین اسمبلی کے استعفیٰ سے کرناٹک میں سیاسی بحران

کانگریس، جنتا دل حکومت گرنا یقینی
نئی حکومت کےلیے جوڑ توڑ، صدر راج کی بھی قیاس آرائیاں، بی جے پی لیڈر نے کہا ’ہمارا کوئی ہاتھ نہیں‘ وزیراعلیٰ کمارا سوامی کی آج امریکہ سے واپسی
بنگلورو:6؍جولائی(مدثر احمد) کرناٹک میں اراکین اسمبلی کا ناٹک شروع ہوچکا ہے ، اقتدار ، عہدوں اور وزارت کے لئےموجودہ حکومت کو گرانے کی بھرپور تیاری کرلی ہے۔ ہفتے کے روز برسر اقتدار کانگریس۔جنتا دل سیکولر اتحاد کے 14 اراکین اسمبلی نے یہ الزام عائد کرتے ہوئے اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا کہ حکومت نہ عوام کی امیدوں پر کھری اتری اور نہ ہی قیادت نے منتخب اراکین کو اعتماد میں لیا۔ جے ڈی ایس کے سابق ریاستی صدر اور ہونسور سے رکن اسمبلی اے ایچ وشوناتھ نے راج بھون کے باہر صحافیوں سے کہا،’یہ (ایچ ڈی کماراسوامی) حکومت نہ عوام کی امیدوں پر کھری اتری اور نہ ہی منتخب اراکین کے جذبات کا خیال رکھ سکی اس لیے ہم نے اسپیکر رمیش کمار کو اپنا استعفیٰ ارسال کر دیا ہے۔ اب ہم نے گورنر وجوبھائی والا کے سامنے اپنی بات رکھنے کے لیے ان سے ملاقات بھی کی ہے‘۔اچانک ہونے والے اس سیاسی ڈرامے سے ریاست کی 13 ماہ پرانی اتحاد کی حکومت گر سکتی ہے۔ کانگریس کے راما لِنگا ریڈی، ایچ ٹی سوم شیکھر، رمیش جرکیہولی کے علاوہ بی سی پاٹل، سومیا ریڈی،منی رتن جیسے ایماندار اراکین اسمبلی کے ساتھ ساتھ جے ڈی ایس کے وشواناتھ، گوپالیہ اور نارائن گوڑا نے اپنا استعفیٰ بھیجا ہے جس سے کماراسوامی کی قیادت والی اتحاد کی حکومت اقلیت میں آ سکتی ہے۔ حالانکہ حکومت کو بچانے کے لئے کانگریس کے کرناٹک انچارج وینوگوپال بنگلور پہنچ چکے ہیں جبکہ وزیر اعلیٰ کمار سوامی کل شام امریکہ سے لوٹ رہے ہیں ۔ دنیش گونڈورائوبھی اپنے بیرونی ملک کی تکمیل کے بعد کل شام لوٹنے والے ہیں ۔ دریں اثناء بی جے پی کے ریاستی صدر بی یس یڈویورپا نے گورنر واجو بھائی والا سے ملاقات کرتے ہوئے ریاست کے سیاسی حالات پر تبادلہ خیال کیاہے اور انکی ملاقات کو لے کر سیاسی حلقے میں یہ بات گردش کررہی ہے کہ کہیں گورنر ریاست میں صدر راج نافذ کرنے کی تیاری تو نہیں کررہے ہیں ۔ وزیر اعلیٰ کمار سوامی ، کے پی سی سی صدر دنیش گونڈورائو کی کل شام آنے کی وجہ سے فی الحال حکومت منگل تک برقرار رہنے کے امکانات ہیں ۔ ریاست میں ٹربل شوٹر کے نام سے پہچانے جانے والے ریاستی وزیر برائے توانائی ڈی کے شیوکمار نے بھی غیر مطمئن اراکین اسمبلی سے بات کرنے کی کوشش کی ہے ۔ واضح ہوکہ کانگریس اراکین اسمبلی کا ایک بڑا گروہ سابق وزیر اعلیٰ سدرامیاکے برتائو سے ناراض ہیں ، انکا کہنا ہے کہ سدرامیامخلوط حکومت کی مشاورتی کمیٹی کے چیرمین ہونے کے باوجود وہ پارٹی کے سینئر لیڈروں کو اعتماد میں لئے بغیر انہیں مسلسل نظر انداز کررہے ہیں ۔ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور بی جے پی کے ریاستی صدر بی ایس یڈویورپا نے کہاکہ کانگریس۔جے ڈی ایس کے اتحادکی حکومت کے 12 اراکین اسمبلی کے اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ میں بی جے پی کا کوئی کردار نہیں ہے۔ بی جے پی کے ریاستی صدر بی یس یڈو یورپا نے کہا،’موجودہ حکومت کے بحران کے لیے ہم ذمہ دار نہیں ہیں اور بی جے پی کا اتحاد کی حکومت کے 12 اراکین اسمبلی کے استعفیٰ کے پیچھے کوئی ہاتھ نہیں ہے‘۔ انہوں نے ہفتے کے روز یہاں صحافیوں سے کہا،’ہم نے سیاسی واقعات پر نظر رکھتے ہوئے انتظار کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور وقت آنے پر مناسب فیصلہ کیا جائے گا‘۔ انہوں نے کہا،’ یہ جو کچھ بھی ہو رہا ہے ریاست کے لیے ٹھیک نہیں ہے۔ اس بحران سے ریاست میں ترقیاتی کام متاثر ہوں گے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے قد آور رہنما اور کھاد کے مرکزی وزیر ڈی وی سدانند گوڑا نے ہفتے کےروز کرناٹک میں کانگریس۔ جےڈی ایس اتحاد کی حکومت 14 اراکین اسمبلی کے استعفیٰ پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک خوشگوار واقعہ قرار دیا ہے۔ سدانند گوڈا نے یہاں صحافیوں سے کہا کہ حالانکہ اس میں کچھ تاخیر ہوئی اوربالآخر اراکین اسمبلی نے حکومت پر اپنا غصہ ظاہر کیا اور بڑی تعداد میں باہر آگئے۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت چلانے کے سلسلے میں جے ڈی ایس اور کانگریس دونوں پارٹیوں میں شدید اختلاف ہے۔ اراکین اسمبلی کے استعفیٰ کے سلسلے میں بی جے پی کی جانب سے کوئی ’آپریشن لوٹس‘ ہونے سے انکار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگروہ خود بکھر جاتے ہیں تو بی جےپی حکومت بنانے کے لیے تیار ہے کیونکہ اسمبلی میں ان کے پاس اراکین کی کافی تعداد ہے اور وہ بڑی ذمہ داری سے حکومت چلائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اراکین اسمبلی نے اچھی طرح سے جانتے ہوئے کہ کانگریس ڈوبتا جہاز ہے اور پارٹی میں رہنے سے مستقبل میں کوئی موقع نہیں ہے، استعفیٰ دے دیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker