ہاں میں ہوں

ہاں میں زائرہ وسیم ہوں۔۔۔!

نازش ہما قاسمی
جی وہی زائرہ وسیم جو سابق بالی ووڈ اداکارہ، دنگل گرل سے شہرت کی بلندی چھونے والی ۔۔۔انتہائی حسین، خوبصورت، شوخ وچنچل، کمسن، وادئ کشمیر کی حسین وادیوں میں آنکھیں کھولنے والی، برفانی پہاڑوں اور خوبصورت جھیلوں میں پروان چڑھنے والی زائرہ وسیم ہوں۔ مجھے پیار سے گھر والے اور عزیز واقارب ’زائے‘ پکارتے ہیں۔ میری پیدائش ۲۳ اکتوبر ۲۰۰۲ میں آبائی گاؤں میں ہوئی۔ میرے والد کا نام زاہد وسیم وہ ایگزیکٹیو منیجر ہیں ، والدہ کا نام زرقہ وسیم ہیں وہ ٹیچر ہیں اور بھائی کا نام زوریض وسیم ہے۔ میں ہوال، ڈون ٹاؤن سری نگر کشمیر کی رہنے و الی ہوں۔ میری تعلیم یہاں کے مقامی اسکول وکالج سے ہوئی، فی الحال بارہویں کی ذہین، زیرک و کامیاب طالبہ ہوں ۔میں نے ہر امتحان میں ۹۰ سے زائد مارکس حاصل کیے ، ہونہار طالبہ میں میرا شمار رہا۔ میں بالی ووڈ سے کنارہ کشی اختیار کرچکی ہوں۔ جی ہاں میں زائرہ وسیم جسے ۲۰۱۷ میں فلم دنگل کے لیے بیسٹ اسپورٹنگ ایکٹریس کےلیے نیشنل فلم ایوارڈ سے نوازا جاچکا ہے۔ مجھے اسٹار اسکرین ایوارڈ، نیشنل چائلڈ ایوارڈ، فلم فیئر ایوارڈ، ’’سیکرٹ سپر اسٹار‘‘ ایوارڈ، لکش گولڈن روز ایوارڈ وغیرہ کم عمری میں ہی حاصل ہوچکے ہیں۔ مجھے سابق صدرجمہوریہ پرنب مکھرجی اور موجودہ صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند سے ایوارڈ لینے کا اعزاز حاصل ہے۔ ہاں میں وہی زائرہ وسیم ہوں جس نے وہ مقام محض چند مہینوں میں حاصل کرلیا جس کے خواب ہر رات نئی نسل اور ہماری عمر کے لڑکے لڑکیاں دیکھتے ہیں۔ جب میں فلمی دنیا سے منسلک ہوئی اور وہاں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے تو کہاجانے لگا کہ ’ہماری بیٹیاں پنجرہ توڑ کر بڑھنے لگی ہیں‘۔مجھے اسلام میں دی گئی عورتوں کے حقوق کےخلاف استعمال کیاگیا، مجھے رول ماڈل قرار دیاگیا اور دجالی میڈیا اور دجالی کارکنان کے ذریعے یہ ثابت کیا گیا کہ اسلام میں عورتوں کا کوئی ’مقام‘ نہیں وہاں عورتوں کو قید رکھاجاتا ہے، صنف نازک کے ساتھ ناروا سلوک کیاجاتا ہے۔ برقع کی پابندی کے ساتھ ان کے حسن و جمال کو ڈھانک دیاجاتا ہے، لیکن میں نے سبھی کی تردید کی، میں پانچ سال فلم انڈسٹری میں رہی اپنے آپ سے لڑتی رہی، اپنے ضمیر اور دماغ کی لڑائی میں غوطے کھاتی رہی، فیصلہ نہیں کرپارہی تھی کہ کیا درست ہے اور کیا غلط؟ اپنے آپ سے لڑتے لڑتے تھک گئی ، فلمی دنیا میں ہورہی ہلچل اور وہاں کی رنگینیوں اور پیسوں کی ریل پیل سے اپنے ضمیر کو سمجھاتی رہی، بہلاتی رہی کہ یہی صحیح ہے یہی عزت ہے، دولت ہے، شہرت ہے، ترقی کے راستے ہیں؛ لیکن میں اپنے دل کو سمجھانے میں ناکام رہی؛ کیوں کہ میں بظاہر خوش وخرم نظرآرہی تھی؛ لیکن اندر سے اوب چکی تھی،اور آخر کب تک کوئی صحرا کے سراب کو ’’پانی‘‘ سمجھتا رہے گا، فلمی دنیا بھی ایک سراب ہے۔ اور اس سراب سے میں جنگ جیت گئی۔فلمی دنیا کی رنگینی مجھے ڈسنے لگی تھی، فلمی دنیا میں رہتے ہوئے اپنے مذہب سے دور ہوتی جارہی تھی، اپنے پیدا کرنے والے خالق کی عبادت میں کوتاہی کررہی تھی، ڈھیر ساری سہولیات اور لاکھوں کروڑوں روپیے ہونے کے باوجود زندگی سے برکت ختم ہوگئی تھی۔ بے برکتی کی زندگی گزرہی تھی، دنیا کے رنگین ہونے کے باوجود اندھیرا چھایا ہوا تھا، ہیرے، جواہرات کی چمک کے باوجود تاریکی تھی۔ پھر میں اپنے خدا کی طرف رجوع ہوئی۔ قرآن مقدس سے رشتہ استوار کیا، اپنی سابقہ زندگی پر شرمندہ ہوئی اور حتمی فیصلہ کرلیا کہ وہ چیز جس سے میں اپنے مذہب اور دین سے دور ہورہی ہوں اس ’سراب‘ سے کنارہ کشی اختیار کرلوں گی اور بالآخر میں نے اس سے کنارہ کشی کا اعلان باضابطہ طور پر اپنے سوشل میڈیا کے آفیشل پیج سے ۳۰ /جون (۲۰۱۹) کو کردیا۔ میں نے ہمیشہ کےلیے بالی ووڈ چھوڑدی۔آج سے تقریباً دو صدی قبل مرزا جواں بخت جہاں دار جیسے شاعر نے سچ کہاتھا ؏؎
آخر گل اپنی صرف در مے کدہ ہوئی ے پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا
میراخاک جس مٹی کا خمیر تھا ،اس خمیر نے مجھے واپس بلالیا؛ لیکن میرے بالی ووڈ کے چھوڑنے کےساتھ ہی دوغلی میڈیا، دجالی کارکنان، منافق انسان میرے مذہب کو لعن طعن کرنے لگے،غول بیابانی کی بھیڑ آکر میری اس نئی زندگی کی راہ میں کھڑی ہوگئی۔ مجھے گالیاں دی جانے لگیں، عجب عجب سرخیاں لگا کر میرے مالک حقیقی کی توہین اور میرے آفاقی مذہب اسلام کی تذلیل کرنے لگی، سیکولرازم کے پاسداران حلالہ وایکٹنگ کو ایک ہی نظر سے دیکھنے لگے۔ دونوں ہمارے مذہب میں درست نہیں، خواہ حلالہ ہو یا ایکٹنگ۔ میں بھٹک گئی تھی؛ اس لیے میں نے ’’گمرہی‘‘ میں ایکٹنگ کی دنیا میں قدم رکھ دیا تھا۔ اب خدا نے جب مجھے توفیق دی ہے، میں الحمد للہ اب اس سے دور ہوگئی۔ یہ میرا ذاتی فیصلہ تھا؛ لیکن میرا ذاتی فیصلہ لوگوں کو قبول نہیں، آزادئ نسواں کا نعرہ دینے والوں کو یہ گوارہ نہیں ہوا کہ میں آزادئ نسواں کی آڑ میں چل رہے گندے اور فحش کھیل کا پردہ فاش کروں، آزادئ نسواں کی آڑ میں نسواں تک پہنچنے والوں کو آئینہ دکھاؤں۔ کیا مجھے یہ حق نہیں ہے کہ میں اپنے مذہب پر عمل کروں؟ آخر وہ لوگ کہاں گئے جو کہتے ہیں ایک بالغ لڑکا یا لڑکی اپنے فیصلےمیں خود مختار ہے۔ کیا مجھے یہ حق نہیں کہ میں اپنا فیصلہ خود کروں؟۔ جب میں فلم میں آئی تھی تو میرا شاندار استقبال ہوا تھا، لوگ ہاتھوں ہاتھ لے رہے تھے کہ میں اسلام میں دی گئی عورتوں کی آزادی کےخلاف آئی ہوں؛ لیکن جب میں یہاں سے دلبرداشتہ ہوکر یہاں کی خرابیوں سے اوب کر واپس اپنی جگہ گئی، جہاں سکون ہی سکون ، طمانیت ہی طمانیت، برکت ہی برکت، آزادی ہی آزادی، عزت ہی عزت ہے۔ زندگی میں بھی عزت، مرنے کے بعد بھی عزت ہے تو کیا میں غلط ہوں؟ نہیں! میں غلط نہیں ہوں۔ خدا مجھے استقامت دے، میں واپس اس دلدل میں نہیں جانا چاہتی جہاں میں بے برکتی اور گناہ کی زندگی گزاروں۔ جہاں میں اپنے مذہب اور خدا سے دور ہوجاؤں۔ ابھی میں کم عمر ہوں، میں ان شاء اللہ ان مسلم لڑکیوں کےلیے رول ماڈل بنوں گی جن کی آنکھیں فلمی دنیا کی رنگینیوں سے خیرہ ہیں اور وہ وہاں جاکر اپنا مستقبل تلاش کرنا چاہتی ہیں میں ان کے لیے پیش رو ہوں مجھے دیکھ کر وہاں جانے کا فیصلہ ترک کردیں ، وہاں مستقبل تابناک نہیں، بلکہ انتہائی تاریک ہے۔ وہاں آپ اپنے مذہب سے رشتہ توڑ لیں گی، اپنے خالق حقیقی کو بھول جائیں گی، اپنی دینی تعلیمات کو پس پشت رکھ کر انسانیت سوز فعل انجام دینے پر مجبور ہوں گی، وہاں بے حیائی، فحاشی، عریانیت، لادینیت کا زور ہے وہاں آپ کو صرف جوانی تک استعمال کیاجائے گا جب حسن کافور ہوگا آپ کسی کام کی نہیں رہ جائیں گی؛ لیکن مسلم معاشرے میں جہاں آپ نے آنکھیں کھولیں ہیں۔ اخیر دم تک آپ کی جان و مال عزت و آبرو کے لیے آپ پر جان نچھار کرنے والے، آپ کے بچپن سے لے کر جوانی تک اور جوانی سے لے کر بڑھاپے تک باپ، بھائی، شوہر، بیٹے، پوتے اور نواسے کی شکل میں سائبان اور محافظ نظر آئیں گے۔ اللہ ہماری ان مسلم بہنوں کو ہدایت دے (آمین )جو بالی ووڈ کی جعلی، کھوکھلی اور بناوٹی دنیا میں کھو کر اپنے دین سے رشتہ توڑ بیٹھی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker