مسلم دنیا

قرآن کی تعلیم و تدریس کے جرم میں قید فلسطینی دوشیزہ آلاء کی حالت زار

قرآن کی تعلیم وتدریس کے’جرم’ میں قید فلسطینی دوشیزہ “آلاء” کی حالت زار

 

رام اللہ: 8 جولائی (پی آئی سی/بی این ایس)

فلسطینی اتھارٹی کی جیلوں میں سیاسی بنیادوں پر پابند سلاسل فلسطینیوں میں آلاء احمد بشیر نامی  ایک معلمہ قرآن بھی شامل ہیں جن کا قصور صرف قرآن پاک کی تعلیم وتدریس قرار پایا ہے۔ آلاء اس وقت فلسطینی اتھارٹی کی قید میں رام اللہ اتھارٹی کےجلادوں کےوحشیانہ ظلم کے خلاف بہ طور احتجاج بھوک ہڑتال جاری رکھے ہوئے ہے۔ مسلسل خالی معدے اور بھوک ہڑتال کی وجہ سے آلاء کو خون کی قے ہورہی ہے۔

بدقسمتی سے فلسطین کے سیاسی، عوامی اور انسانی حقوق کے حلقوں میں آلاء کے حق میں اتنی جاندار آواز بلند نہیں کی جا رہی جس کی وہ حق دار ہیں۔ خواتین کےحقوق کی علم بردار تنظیمیں بھی آلاء بشیر پرڈھائے جانے والے ظلم اور نا انصافی پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔

 

آلاء بشیر کے وکیل مہند کراجہ کاکہنا ہے کہ اس کی موکلہ 8 دن سے بھوک ہڑتال پرہیں۔ کھانا پینا ترک کرنے کے نتیجے میں اس کی صحت بری طرح خراب ہو رہی ہے اور اسے خون کی قے ہونا شروع ہوگئی ہے۔ انہوں نےکہا کہ آلاء بشیر ضمیر کی قیدی ہیں جو فلسطینی اتھارٹی کے غیر ذمہ دارانہ اور ظالمانہ رویئے کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ فلسطینی اتھارٹی ایک بے قصور معلمہ قرآن کو حراست میں رکھ کرتمام اخلاقی قدروں کی کھلے عام پامالی کی مرتکب ہو رہی ہے۔

 

خون کی قے

آلاء بشیر کے وکیل مہند کراجہ نے بار بار کے مطالبات اور اپیلوں کے بعد جمعرات کے روز جیل میں قید اپنی موکلہ سے ملاقات کی اجازت حاصل کی۔ انہوں‌نے بتایا کہ جب میں نے آلاءسے ملاقات کی تو تشدد کے باعث اس وقت اس کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ تھی اور اسے خون کی قے ہو رہی تھی۔ اس کی بینائی پربھی منفی اثر پڑا اور اس کے گردوں میں بھی شدید تکلیف تھی۔

 

آلاء بشیر کو فلسطینی ملیشیا کے بدمعاشوں‌نے 9 مئی کو بے رحمی کےساتھ  غرب اردن کے شمالی شہر ‘قلقیلیہ’ سے حراست میں لیا۔ اسےمسلسل 34 دن تک پابند سلاسل رکھا گیا۔ رہائی کے صرف چار روز بعد اسے 13 جون کو دوبارہ حراست میں لے لیا گیا۔ حالانکہ اس وقت بھی آلاء پرڈھانے جانےوالے ظلم کی وجہ اس کی صحت بری طرح خراب تھی۔

 

ایڈوکیٹ مہند کراجہ نے مرکزاطلاعات فلسطین کے نامہ نگار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی موکلا آلاء ہر روز موت کےقریب ہوتی جا رہی ہے۔ اس کی  طبی حالت اس کی گواہ ہے۔ اس کے ڈاکٹر نےبتایا ہےکہ اس کا ایک گردہ ناکارہ ہونےوالا ہے۔

 

آلاء بشیر کے ساتھ اس کے کسی قریبی عزیز یا وکیل کی ملاقات بھی انتہائی مشکل بنا دی گئی ہے۔ اسے قلقیلیہ کےایک اسپتال منتقل کیاگیا ہے جہاں اس کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔ اسے اسپتال سے اب جنین کےایک قید خانے میں ڈالنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

 

خیال رہے کہ آلاء بشیر گذشتہ 10 دن سے فلسطینی اتھارٹی کی جیل میں بلا جواز حراست کے خلاف بہ طور احتجاج بھوک ہڑتال جاری رکھے ہوئے ہے۔

 

بھوک ہڑتال ختم کرانے کےحربے

آلاء بشیر کی والدہ نے ایک بیان میں بتایا کہ اس کی بیٹی فلسطینی اتھارٹی کے انٹیلی جنس حکام کی حراست میں  ہے اور اس کی دو ماہ میں دوسری گرفتاری ہے۔ اس پر مذہبی اور فرقہ وارانہ نعروں اور اشتعال انگیزی پھیلانے کا بھونڈا الزام عاید کیا گیا ہے۔ دراصل اس کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ قرآن کی معلمہ ہے اور بچوں کو قرآن پاک کی تعلیم دے رہی ہے۔

 

اسیرہ کی ماں نے بتایا کہ فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے اس کی بیٹی کی بھوک ہڑتال ختم کرانے اور اس کے حوصلے پست کرنے کے لیے دبائو، بلیک میلنگ اور دیگر حربے استعمال کیے جا رہےہیں۔ مگرآلاء نےکھل کر کہا ہے کہ اپنی رہائی یا شہادت تک بھوک ہڑتال جاری رکھے گی۔

 

خیال رہے کہ 23 سالہ آلاء بشیر کو عباس ملیشیا نے9 مئی کو قلقیلیہ میں جینصافوت کالونی کی مسجد عثمان بن عفان سے متصل ایک دینی مدرسے سے حراست میں لیا۔ اس کی گرفتاری کےوقت عباس ملیشیا کے 25 اہلکاروں نے مسجد اور مدرسے میں گھس کراللہ کےگھر کی بےحرمتی کی اور آلاء کو نہایت بے رحمی کےساتھ حراست میں لے لیا گیا۔

 

بدقسمتی سے انسانی حقوق کی تنظیموں، سول سوسائٹی اور حقوق نسواں کےلیے کام کرنے والے گروپوں کی طرف سے بھی آلاء کی حمایت میں کسی قسم کی موثر آواز بلند نہیں کی جا رہی ہے۔

 

خاتون سماجی کارکن میس ابوغوش کا کہنا ہے کہ انسانی حقوق کے اداروں، خواتین کےحقوق کی علم بردار تنظیموں کا آلاء کے معاملے میں کردار شرمناک اور قابل مذمت ہے۔

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker