مضامین ومقالات

قطر مذاکرات اور چند حقائق

ڈاکٹر نعمت اللہ
امریکی خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد اور طالبان کے درمیان قطر میں امن مذاکرات کا چوتھا دور مکمل ہوا۔ چھ روزہ مذاکرات میں عام تاثر یہ تھا کہ مذاکرات کے بعد فریقین مشترکہ اعلامیہ جاری کریں گے ۔ مذاکرات خلاف توقع اعلامیے کے بغیر ختم ہو گئے۔ اسی وجہ سے میڈیا پر مبہم خبریں شائع ہو رہی ہیں۔ کچھ لوگ امریکا کا پلڑا بھاری سمجھتے ہیں۔ کچھ لوگ طالبان کو کامیاب قرار دیتے ہیں۔ تاہم مصدقہ ذرائع سے پتہ چلتا ہے کہ جومعاہدے کیے گئے ہیں۔  ان کو دنیا کے سامنے پیش کرنے سے امریکا نے نامعلوم وجوہات کی بنیاد پر انکار کر دیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے ان معاہدوں کا اعلان کب کیا جائے گا، یہ مستقبل قریب میں واضح ہو جائے گا ۔ فریقین کے سامنے جو چیلنجز موجود ہیں، ذیل میں اس پر روشنی ڈالیں گے۔
قابل اعتماد طالبان ذرائع کے مطابق طالبان کی جانب سے پیش کیے گئے ایجنڈے پر فریقین نے مذاکرات کیے، جن میں دو معاملات شامل تھے۔ امریکی فوج کا مکمل انخلا اور افغان سرزمین سے امریکا سمیت دنیا کو خطرہ لاحق نہ ہونا۔ طالبان ذرائع کا کہنا ہے ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی ان خبروں میں کوئی صداقت نہیں، جن میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوج کا انخلا 18 مہینوں میں مکمل کیا جائے گا۔ جب کہ طالبان جنگ بندی کا اعلان کریں گے۔ کابل انتظامیہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات کریں گے۔ یہ سب من گھڑت اور بے بنیاد باتیں ہیں۔ ذرائع کے مطابق امریکا نے تمام غیرملکی فوج کی واپسی پر رضامندی کا اظہار کیا ہے ۔ البتہ شیڈول پر اختلاف ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق طالبان نے تین سے پانچ ماہ کا وقت مقرر کیا ہے۔ اس بات پر بھی اتفاق ہوا ہے کہ امریکا اور طالبان رہنماؤں پر مشتمل ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دی جائے گی، جو امریکی فوج کے انخلا کا طریقہ کار اور میکانزم تیار کرے گی۔ امریکی فوج کی واپسی کے بدلے طالبان ایک ایسے معاہدے پر دستخط کریں گے کہ مستقبل میں افغانستان سے امریکا سمیت دنیا کے کسی ملک کے لیے خطرہ نہیں ہوگا۔
طالبان ذرائع کا کہنا ہے مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے کے مقابلے میں امریکی نمائندوں نے تجویز پیش کی کہ اس اعلامیے میں یہ نکتہ بھی شامل کیا جائے گا کہ کابل انتظامیہ کے ساتھ براہ براست مذاکرات کیے جائیں۔  طالبان نے اسے ماننے سے انکار کیا ہے۔ خلیل زاد نے کہا ہے اگر ہم یہ نکتہ شامل کیے بغیر مشترکہ اعلامیہ جاری کریں تو افغان حکومت پر بہت بُرا اثر پڑے گا۔ یہ امریکا کے لیے کسی کامیابی کے بغیر صرف ایک معاہدہ تصور ہوگا۔ لہذا آپ مشترکہ اعلامیے کے مطالبے سے دستبردار ہو جائیں۔ اس میں یہ نکتہ بھی شامل کیا جائے۔ طالبان ذرائع کا کہنا کہ اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ خلیل زاد اپنے مطالبے (افغان حکومت کے ساتھ بات چیت کرنے) سے دستبردار ہوئے اور طالبان مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے کے مطالبے سے دستبردار ہوئے۔ مطلب یہ کہ فریقین نے آپس میں جو معاہدہ کیا ہے، وہ اس پر قائم ہیں۔ معاہدہ بھی اپنے حال پر برقرار ہے ۔ صرف اس کو جاری کرنا مؤخر کیا گیا ہے۔ طالبان کے ایک اور ذریعے نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے۔  معمولی ترمیم کے ساتھ معاہدے کا مسودہ بھی مشترکہ کمیٹی تیار کرے گی۔ امکان ہے کچھ ممالک بھی بطور ضمانت اس معاہدے پر دستخط کریں۔
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مائک پمپز نے کہا کہ امریکا اپنی فوج کی واپس کے لیے سنجیدہ ہے۔ طالبان کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے۔ خلیل زاد نے بھی یک ٹی وی چینل کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے واضح کہا کہ امن مذاکرات اور امریکی فوج کی واپسی امریکا کی اولین ترجیح ہے۔ اس موضوع کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اگر طالبان اور امریکا کے درمیان واقعی کوئی معاہدہ ہوا ہے تو بلا شبہ یہ فریقین کے لیے بڑی کامیابی ہے۔ تاہم بعض تجزیہ کاروں کے نزدیک یہ معاہدہ کافی نہیں ہے۔ کیوں کہ فی الحال دونوں فریق ایک طویل خونی جنگ میں مصروف ہیں۔ اس جنگ سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے یہ معاہدہ اہم پیش رفت ہوگی۔ تاہم اس امر کی وضاحت کی ضروری ہے کہ امریکا مستقبل میں طالبان کی حکومت تسلیم کرے گا۔ کیا وہ سیاسی اور اقتصادی پابندیاں عائد کرے گا؟
یہ امر بہت واضح ہے کہ امریکا مستقبل کے لیے افغان سرزمین سے امن کی ضمانت طالبان سے لینا چاہتا ہے۔ اس بات کا مطلب یہ ہے کہ امریکا نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ مستقبل کے حکمران طالبان ہیں۔ اگر طالبان حکمران نہیں ہوں گے تو پھر ان سے ضمانت لینے کی کیا ضرورت ہے۔ کیوں کہ معاہدے ملکوں اور حکومتوں کے درمیان ہوتے ہیں نہ کہ ایک حکومت اور ایک تنظیم کے درمیان۔ فی الوقت افغانستان میں امریکا کی اتحادی حکومت برسراقتدار ہے۔ اس کے ساتھ امریکا نے سکیورٹی معاہدہ بھی کیا ہے۔ جب طالبان کے ساتھ معاہدے کی روشنی میں امریکا اپنی فوج کے انخلا کا عمل شروع کرے گا تو اس کا مطلب ہے کہ امریکا نے اشرف غنی کے ساتھ سکیورٹی کے نام پر 2024 تک امریکی فوج کو افغانستان میں برقرار رکھنے کا جو معاہدہ کیا ہے، اس کو توڑ دیا۔ یہ واضح طور پر طالبان کو مستقبل کا حکمران تسلیم کرنے کا اعلان ہے۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ مذاکراتی عمل سے طالبان نے دو فائدے اٹھائے ہیں۔ پہلا یہ کہ امریکا اور دنیا پر یہ واضح کر دیا کہ افغانستان میں ان کے علاوہ مضبوط سیاسی اور فوجی قوت کوئی نہیں ہے۔ دوسرا یہ کہ طالبان پر کسی ہمسایہ ملک کا اثر نہیں ہے۔ وہ اپنے فیصلے خود کرتے ہیں۔ ان پر کوئی طاقت اثر انداز نہیں ہو سکتی ہے۔ وہ آزاد اور خودمختار ہیں۔ امریکا نے بھی یہ فائدہ اٹھایا کہ اس کو اصل فریق معلوم ہوا اور افغان جنگ سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے باعزت واپسی کا راستہ مل گیا۔ طالبان نے اسلام اور ملک کے ساتھ وفاداری نبھاتے ہوئے اپنا وعدہ پورا کیا۔ مصلحت کا شکار ہوئے اور نہ ہی اسلام اور ملک کے مفاد پر کوئی سمجھوتہ کیا۔ ہر قسم کی قربانیاں دیں۔ اپنے اسلاف کی تاریخ رقم کرتے ہوئے انگریز سامراج اور سوویت یونین کی طرح امریکا کو عبرت ناک شکست دے کر اجداد کی تاریخ دہرائی۔ یہ ثابت کیا کہ افغان عوام آج بھی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ وہ غیرملکی مداخلت اور جارحیت کبھی برداشت نہیں کریں گے۔ اپنے اباو و اجداد کی طرح حملہ آوروں کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیں گے۔ امید ہے ملک جلد آزاد اور اسلامی نظام نافذ ہو کر رہے گا۔ اللہ تعالی تمام شہداء کے درجات بلند اور ان کی بے مثال قربانیاں قبول فرمائے۔

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker