ہندوستان

کرناٹک حکومت کے ۳۰ وزرا مستعفی! کانگریس کے ۲۱ او رجنتا دل ایس کے ۹ وزراء شامل، جلد کابینہ کی ازسر نو تشکیل ہوگی، ممبئی میں مقیم ایم ایل اے گوا منتقل

بنگلورو۔۸؍جولائی: (مدثر احمد ) غیر مطمئن اراکین اسمبلی کے استعفے کے دوران آزاد امیدوار ایچ ناگیش اور آرشنکر نے اپنی وزارت کو استعفیٰ دیتے ہوئے گورنر کو مکتوب روانہ کیا ہے اور انہوںنے بتایاہے کہ وہ مخلوط حکومت کو دی گئی حمایت کو واپس لے رہے ہیں۔اس وجہ سے کرناٹک کی مخلوط حکومت گرنے کے کم وبیش آثار نظرآرہے ہیں،جبکہ وزیر اعلیٰ کمارسوامی اور مخلوط حکومت کے مشاورتی کمیٹی کے چیرمین سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا کی ہدایت کے بعد ریاست کے22 وزراء نے اپنی وزارت سے استعفیٰ دیتے ہوئے حکومت بچانے کی پہل کی ہے۔آج صبح نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر جی پرمیشورکے گھر پر منعقدہ نشست کے بعد آزادامیدوار آرشنکر نے بھی اپنا استعفیٰ گورنر کو روانہ کرتے ہوئے ممبئی کی جانب روانہ ہوئے جس سے مخلوط حکومت کیلئے مزید ایک پریشانی پیدا ہوئی۔اس درمیان ہی وزیر اعلیٰ کمارسوامی،سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا،کرناٹکا پردیش کمیٹی کے انچارج کے سی وینوگوپال،کے پی سی سی صدر دنیش گنڈورائو کے درمیان کئی مرحلوںمیں نشستیں بھی منعقدکی گئی،جبکہ بی جے پی نے بھی حکومت تشکیل دینے کیلئے کوششیں شروع کردی ہیں۔کانگریس وجے ڈی ایس کے12اراکین اسمبلی نے ودھا ن سبھا اسپیکر آر رمیش کمار کو اپنا استعفیٰ سونپ دیا ہے۔اس سلسلے میں9 جولائی کو اسپیکر اپنا فیصلہ سنانے والے ہیں۔دریں اثناء کل شام کو ہی کانگریس کی سی ایل پی نشست کا بھی انعقادکیا گیا ہے۔ودھان سودھامیں منعقدہ اس نشست میں تمام اراکین اسمبلی کو شرکت کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔اس کے علاوہ انسداد پارٹی تبدیلی قانون کے مطابق رکنیت کو استعفیٰ دینے والے اراکین اسمبلی کی رکنیت کو منسوخ کروانے کیلئے بھی کانگریس پارٹی قانون دانوں سے صلاح ومشورہ کررہی ہے،جس سے ایک طرف حکومت خطرے میں دکھائی د ے رہی ہے تو دوسری جانب اراکین اسمبلی کامستقبل بھی خطرے میں جاسکتا ہے۔جن 12 اراکین اسمبلی نےحکومت سے اپنی بغاوت درج کراوئی ہے،انہیںوزارت دینے کیلئے بھی جے ڈی ایس و کانگریس تیار ہوچکے ہیںاور بی جے پی کی لالچ میں نہ جانے کیلئے مسلسل نصیحت کی جارہی ہے اور انہیں واپس بنگلوروآنے کی دعوت بھی دی گئی ہے۔کانگریس پارٹی کے21 وزراء اور جے ڈی ایس کے9 وزراء اپنے عہدوں سے مستعفی ہوچکے ہیںاور مخلوط حکومت کوبچانے کی ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے۔اسی رفتار سے بی جے پی بھی اپنی حکومت بنانے کیلئے مہرے چلارہی ہے،ریاست میں ہر لمحہ سیاسی تبدیلی آرہی ہے۔فی الوقت کانگریس کے9 اور جے ڈی ایس کے3 اراکین اسمبلی کی حمایت حاصل کرتے ہوئے بی جے پی اپنی حکومت بنانے کی کوشش کررہی ہے،بی جے پی کے پاس105 اراکین اسمبلی موجود ہیں،جبکہ کانگریس وجے ڈی ایس کے جملہ106 اراکین اسمبلی ہیں،ایک رکن اسمبلی بی ایس پی سے ہے۔بدلتے حالات کے درمیان ہی ٹربل شوٹر کہہ جانے والے ڈی کے شیوکمار دہلی کیلئے روانہ ہوچکے ہیں جبکہ ممبئی میں باغی اراکین اسمبلی کے ہوٹل کے باہر ممبئی پردیش کانگریس کے کارکنان احتجاج کررہے ہیں۔وزیر اعلیٰ کمارا سوامی نے کہا ہے کہ جلد ہی کابینہ کی سرازنو تشکیل ہوگی،کانگریس وجے ڈی ایس کے جملہ30 وزراء نے اپنی وزارت سے استعفیٰ دیا ہے،حکومت کو بحال رکھنے کیلئے پوری طرح سے کوششیں کی جارہی ہیں۔اس بات کی اطلاع وزیر اعلیٰ کمارسوامی نے دی ہے۔انہوںنے ریاست میں پیدا ہونے والے بحران کے بعد پہلی دفعہ میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی بحران کو ختم کرنے کیلئے ہم نے کابینہ کے تمام وزراء سے استعفیٰ لے لیا ہے،عنقریب کابینہ کی سراز تشکیل دی جائیگی،اس کے علاوہ انہوںنے بی جے پی پر الزام لگایا کہ بی جے پی آپریشن کمل کے تحت حکومت گرانے کی کوشش کررہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker