ہندوستان

ثالثی پینل کی جانب سے کوئی پیش رفت نہیں، بابری مسجد مقدمہ کی جلد شنوائی کا امکان، ثالثی پینل اپنا کام کررہا ہے: مہنت دھرم داس ، اقبال انصاری نے مہنت کی حمایت کی، ثالثی پینل سے کچھ ہونے والا نہیں: پجاری رام للا مندر

نئی دہلی ۔ ۹؍جولائی: بابری مسجد۔ رام جنم بھومی معاملے کو جلد حل کرنے کے لیے ایک ہندو فریق گوپال سنگھ شارد نے منگل کے روز سپریم کورٹ میں اپیل کی ہے۔ فریق گوپال سنگھ شارد کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے اس تنازعے کے حل کےلیے ۸؍مارچ کو سپریم کورٹ کی زیر نگرانی ثالثی کمیٹی جو بنائی گئی تھی اس میں بہت کچھ نہیں ہورہا ہے۔ چیف جسٹس رنجن گوگوئی، دیپک گپتا، اور انرودھ بوس کی تین رکنی کمیٹی سےشارد کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ پی ایس نرسمہا نے اس معاملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مالکانہ حق کے اس تنازعے کو برق رفتاری سے سماعت کےلیے کورٹ میں درج کیے جانے کی ضرورت ہے۔ نرسمہا نے کہا کہ تین رکنی کمیٹی کو کورٹ کے ذریعے سونپے گئے زمینی تنازعے کے اس معاملے میں زیادہ کچھ خاص پیش رفت نہیں رہی ہے،اس پر بینچ نے جاننا چاہا کہ کیا آپ نے تیز رفتارسماعت کے لیے درخواست دی ہے اس پر نرسمہا نے مثبت جواب دیا۔ چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی صدارت والی بنچ نے کہاکہ وہ اس پر غور کریگی ۔گوپال شارد کی عرضی کے تعلق سے ہندو فریق مہنت دھرم داس نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ میں جلد شنوائی ہو یہ تو ٹھیک ہے لیکن ثالثی کمیٹی پر انگلی اُٹھانا درست نہیں ہے۔ سپریم کورٹ نے ثالثی پینل بنایا ہے اور پینل اپنا کام کررہا ہے، مہنت دھرم داس نے کہاکہ وی ایچ پی کے چمپت رائے گینگ کی یہ کرتوت ہے جو یہ کررہی ہے وہیں اس بات کی حمایت بابری مسجد کے فریق اقبال انصاری نے بھی کی ہے او رکہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر اعتبار رکھنا چاہئے، سپریم کورٹ نے ثالثی پینل بنایا ہے اور پینل اپنا کام پوری ذمہ داری سے کررہا ہے۔ رام للا کے پجاری اچاریہ ستیندر داس نے گوپال سنگھ کو درست قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ثالثی پینل سے کچھ نہیں ہونے والا ہے اس معاملے میں سپریم کورٹ کو ہی فیصلہ کرنا چاہئے تبھی اس کا فیصلہ درست آئے گا، نرموہی اکھاڑا کے مہنت دنیندر داس نے بھی کہا کہ ہمیں سپریم کورٹ پر بھروسہ ہے ثالثی پینل سے جو بھی نکل کر آئے گا ہمیں منظور ہوگا۔چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی صدارت والی پانچ رکنی آئینی بینچ نے ثالثی کے لیے بنائی گئی اس کمیٹی کے کام کی مدت مئی میں ۱۵ اگست تک کے لیے بڑھا دیا تھا تاکہ وہ اپنی کارروائی پوری کرسکیں۔ بینچ نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ اگر ثالثی کرنے والے نتائج کے بارے میں مطمئن ہیں اور ۱۵ اگست تک کا وقت چاہتے ہیں تو وقت دینے میں کیا نقصان ہے، یہ مسئلہ برسوں سے چل رہا ہے اس کے لیے ہمیں وقت کیوںنہیں دینا چاہئے؟ ثالثی کےلیے قائم کمیٹی میں جسٹس کلیف اللہ کے علاوہ مذہبی پیشوا اور آف آف لیونگ کے بانی شری شری روی شنکر اور مشہور ایڈوکیٹ شری رام پنچو کو اس کا رکن بنایا گیا تھا۔ عدالت نے ۸؍مارچ کے حکم میں ثالثی کے لیے بنی اس کمیٹی کو آٹھ ہفتوں کے اندر اپنا کام مکمل کرنے کےلیے کہا تھا، اس کمیٹی کو ایودھیا سے قریب سات کلو میٹر دور فیض آباد میں اپنا کام کرنا تھا، اس کےلیے ریاستی سرکار کو مناسب بندوبست کرنے کے احکام بھی دئیے گئے۔ واضح رہے کہ الہ آباد ہائی کورٹ نے ۲۰۱۰ میں اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ ایودھیا میں متنازعہ جگہ کی 2.77ایکڑ زمین تین فریقوں سنی وقف بورڈ، نرموہی اکھاڑا او ررام للا کے درمیان برابر تقسیم کردی جائے ، ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف عدالت عظمی میں کل 14 عرضدیاں دائر کی گئی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker