فقہ وفتاویٰ

مسجد میں جماعتِ ثانیہ؛ مقصدِ جماعت اور سنت کے خلاف ہے۔

 

حضرت! کچھ غیر مقلد کالج کے طلبہ ہیں جو عشا کی جماعت ہونے کے بعد مسجد میں آتے ہیں اور اوپر کے حصہ میں جاکر عشا کی دوسری جماعت کرتے ہیں۔
حضرت! اس مسئلہ میں ہمیں کیا کرنا چاہیے۔؟
حدیث پاک میں اس کا کیا حکم ہے۔؟؟
وصی احمد ممبئی

الجواب حامدا ومصلیا ومسلما اما بعد

جماعت کا مطلب اجتماعیت، اتحاد اور قوم میں جوڑ پیدا کرنا۔ ایک ہی نماز کے لیے اسی مسجد میں ایک کے بعد دوسری تیسری جماعت کرنے کا مطلب امت کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنا ہے۔
المیہ یہ ہے کہ امت میں بے شمار فتنے اور فساد دین کے نام سے فروغ دیے جارہے ہیں۔ انہیں فتنوں و فساد میں ایک فتنہ اور فسادغیر مقلدیت ہے۔ اور اس فتنے کا ایک موضوع جماعتِ ثانیہ کے عنوان سے امت کے درمیان اختلاف پیدا کرنا ہے۔ اگر وہ لوگ امت میں اختلاف نہیں چاہتے ہیں تو جب مقررہ امام کی اقتدا میں عام مسلمان باجماعت نماز ادا کریں تو جماعت کی فضیلت حاصل کرنے کے لیے اس جماعت میں انہیں کوشش کرکے شریک ہونا چاہیے؟ اگر اس جماعت میں شریک نہیں ہوتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ شعوری یاغیر شعوری طور پر جماعت کے نام پر وہ امت میں افتراق اور اختلاف پیدا کرنےوالے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے کبھی بھی ایک مسجد میں جماعت ثانیہ نہیں فرمائی۔ چنانچہ حضوراکرم ﷺ ایک مرتبہ انصار کےدر میان صلح کرانے کے لیے تشریف لے گئے، اور اس وقت واپس ہوئے جب مسجد نبوی میں نماز ہوچکی تھی تو آپ ﷺ اپنے کسی گھر تشریف لے گئے اور گھر والوں کو جمع کر کے نماز پڑھائی۔(1)
جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مقیم حضرات کے لیے مسجد میں جماعت ثانیہ کاحکم نہیں ہے۔ اگر مسجد میں جماعت ثانیہ جائز ہوتی تو رسول اللہ ﷺ مسجد نبوی کو چھوڑ کر اپنے دولت خانہ میں جماعت نہ فرماتے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب صحابہ کرام رضوان اللہ علیم میں سے کچھ لوگوں کی جماعت چھوٹ جاتی تھی تو وہ مسجد میں جماعت ثانیہ کے بجاے انفرادی نمازیں ادا فرما تے تھے۔(2)
حضرت سالم بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ مسجد میں جماعت ثانیہ کو منع فرماتے تھے۔ نیز حضرت ابن شہاب اور یحی بن سعید اور ربیعہ اور اللیث جیسے محدثین اور ائمہ مسجد میں جماعت ثانیہ سے منع فرماتے ہیں۔(3)
اسی لیے حضرت امام شافعی رحمة اللہ علیہ نے کتاب الام میں بیان فرما یا ہے کہ بعض حضرات کی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جماعت چھوٹ گئی تو ان لوگوں نے جماعت کی فضیلت کو جانتے ہوے بھی الگ الگ نماز ادا کی جب کہ وہ لوگ باجماعت نماز ادا کرنے پر قادر تھے۔اسی طرح جب بھی کسی کی جماعت چھوٹ جاتی تو وہ دوسری جماعت بنا کر نماز پڑھنے پر قدرت کے باوجود انفرادی نماز ادا کرتے تھے۔( تاکہ جماعت کا مقصد “اتحاد” فوت نہ ہونے پاے) ( کتاب الام: ج1، ص136)(4)
جماعت کی عظمت، وقار اور مقصد کے پیش نظر رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام نے ایک ہی نماز کے لیے جماعت ثانیہ نہیں کی؛ اسی لیے حنابلہ کےسوا ائمہ ثلاثہ (امام اعظم ابو حنیفہؒ، امام مالکؒ، امام شافعیؒ) اور جمہور علماء رحمھم اللہ مسجد میں جماعت ثانیہ سے امت کو منع فرما تے ہیں۔اور خاص حالات ہی میں اجازت دیتے ہیں۔مثلا کسی مسجد میں امام و مؤذن مقرر نہیں ہیں۔مقررہ وقت سے قبل غیر اعلانیہ کسی وجہ سے اتفاقی طور پرجماعت کرلی گئی ہو۔ نمازی مقامی نہ ہوں بلکہ مسافر ہوں۔ مسجد گزر گاہ اور راستے پر واقع ہو۔ ورنہ عام حالات میں جماعت ثانیہ ممنوع ہے۔(5)
جو بعض علما، جماعتِ ثانیہ کی اجازت دیتے ہیں ان کا مستدل وہ حدیث ہے جس میں ہے کہ:
“ایک شخص (مسجد) آیا، رسول اللہ ﷺ نماز پڑھ چکے تھے، تو آپ نے فرمایا: ”تم میں سے کون اس کے ساتھ تجارت کرے گا؟ ایک شخص کھڑا ہو اور اس نے اس کے ساتھ نماز پڑھی“۔(6)
اس روایت میں آنے والے شخص کی تعین نہیں ہے مقیم ہے یا مسافر؟ بلکہ جس انداز میں بیان ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شخص مسافر ہے۔ اور پھر جو شخص اس اجنبی کے ساتھ نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوا وہ شخص حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ تھے۔ جب کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ باجماعت نماز ادا فرمالی تھی (7)، جس سے واضح ہوا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جماعت ثانیہ میں فرض نہیں ادا کی؛ بلکہ نفل پڑھی ہے۔ اس طرح اجنبی کو نماز کی تعلیم دینی بھی مراد ہوسکتی ہے کہ اس کے فرض نماز میں نفل کی نیت سے شریک ہوکر اس کو نماز سکھانے اور اس کی دل جوئی کے لیے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہو۔
اس ایک واقعہ کے سوا پورے ذخیرہ احادیث میں دوسری کوئی مثال نہیں ملتی ہے، جس سے جماعت ثانیہ پر استدلال کیا جاسکے۔
اور اس معاملے میں تو اختلاف ہے نہیں کہ حالت سفر میں جماعت ثانیہ کی جاسکتی ہے۔
آپ لڑکوں کو محبت اور نرمی سے سمجھائیں کہ یہ فتنوں کا دور ہے۔ دین دار علما کی رہنمائی میں سارے دینی کام کرو ۔کوئی چنٹو، پنٹو، ڈاکٹر، ماسٹر، کنڈکٹر اور پنٹر تم کو حدیث بتاے تو فورا اس کو مت مان لیا کرو۔ فتنوں سےحفاظت کے سلسلے میں امام مسلمؒ نے امام ابن سیرینؒ کا یہی اصول نقل کیا ہے کہ معلوم ہونا چاہیے کہ یہ حدیث بیان کرنے والا حدیث کی “ح” کو جانتا بھی ہے یا نہیں؟ اور حدیث کی عظمت کا قائل ہے یا ریال اور ڈالر کے لیے حدیث حدیث کی رٹ لگا رہا ہے۔؟
ابن سیرینؒ فرما تے ہیں کہ:
“ابتدائی دور میں حدیث کی اسناد کے بارے میں کوئی سوال نہیں کیا جاتا تھا، جب فتنہ شروع ہو گیا تو احاديث نبوية على صاحبها الصلاة و السلام کو جمع کرنے والے علماء، حدیث بیان کرنے والوں سے کہتے کہ یہ حدیث جس سے سنی اور لی ہے ان سب کے نام بتاؤ تاکہ ان راویوں کو سنت کے مطابق جانچ کر ان سے حدیث لی جائے اور اہل بدعت کو دیکھ کر ان کی بیان کردہ حدیث نہ قبول کی جائے”(8)
امام بخاری نے کتاب الفتن میں ایک حدیث نقل فرمائی جس میں فتنوں کے دور میں من مانی اور ہر شخص کو اپنی ناقص معلومات کے بجائے مسلمانوں کے درمیان مروج طریقوں اور علماء اور دینی معلومات رکھنے والوں کی تقلید وپیروی کا حکم فرمایا گیا ہے۔ اگر ہر کسی سے شرعی مسائل معلوم کیے جائیں گے یا مسلمانوں میں جاری و متواتر معمولات کے خلاف عمل کیا جاے گا تو فتنوں سے محفوظ رہنا مشکل ہے۔(9)
ان طلبا کو جماعت ثانیہ کے نقصانات بتلاکر پہلی جماعت میں شریک ہونے کی فہمائش کی جاے۔ اگر نہ مانیں تو سختی سے روکاجاے۔ اگر ان کو جماعت ثانیہ سے نہیں روکا گیا تو مسجد انتظامیہ اور وہاں کے علماء گنہ گار ہوں گے۔(10)

(1) عن أبي بكرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أقبل من نواحي المدينة يريد الصلاة، فوجد الناس قد صلوا، فمال إلى منزله فجمع أهله فصلی بهم.
( سنن ابن ماجہ: رقم الحدیث 312.
السنن الکبری للبیھقی؛ ج1، ص79.
المستدرک للحاکم: ج4، ص 334.
الطبراني في الأوسط: ج3، ص284 رقم: 4601،
مجمع الزوائد: ج 2ص45، بحواله: هامش الفتاوی التاتار خانیة: ج2، ص 155، رقم: 2012 زکریا، كذا في إعلاء السنن 266/ 4 بیروت)

(2) عن أنس رضي الله عنه أن أصحاب النبي صلى الله عليه – وسلم کانوا إذا فاتتهم الجماعة في المسجد صلوا في المسجد فرادی،. (إعلاء السنن: ج4 ص265 بیروت)

(3) عن عبد الرحمن بن المجبر قال: دخلت مع سالم بن عبد الله مسجد الجمعة، وقد فرغوا من الصلاة، فقالوا: ألا تجمع الصلاة؟ فقال سالم: لا تجمع صلاة واحدة في مسجد واحد مرتين. قال ابن وهب: وأخبرني رجال من أهل العلم عن ابن شهاب ويحيى بن سعيد وربيعة والليث مثله، كذا في المدونة الكبرى لمالک ورجاله كلهم ثقات. (إعلاء السنن: ج 4، ص262 رقم: 1260.دار الكتب العلمية بيروت)

(4) قال الشافعي: وإنا قد حفظنا أن قد فاتت رجالا معه – صلى الله عليه الم – الصلاة، فصلوا بعلمه منفردين وقد كانوا قادرين على أن يجمعوا، وإن انه فاتت الصلاة في الجماعة قوما فجاؤوا المسجد، فصلی كل واحد منهم منفردا. وقد كانوا قادرين على أن يجمعوا في المسجد ……….. الخ.( الأم: ج 1، ص136)

(5) ويكره تكرار الجماعة في مسجد محلة بأذان وإقامة.
(شامی: ج2، ص292زکریا۔
البحر الرائق: ج 1، ص 346،
هندیہ: ج1، ص83 ۔ منحة الخالق: ج 1، ص345)
و قال في “كنز العمال‘ نقلا عن الكافي: لا يجوز تكرار الجماعة، وفي الجامع الصغير : رجل دخل مسجدا قد صلى فيه أهله، فإنه يصلي بغير أذان وإقامة، لأن في تكرار الجماعة تقليلها بأن كل واحد لا يخاف فوت الجماعة فيكون مكروها كذا في القطوف الدانية لشيخنا المحدث الكنكوهي ص:۱۳، وإنما اختصت الكراهة بمسجد المحلة لانعدام علتها في مسجد الشارع، والعراق ، ونحوهما، فإن الناس فيه سواء لا اختصاص له بفريق دون فريق ، وهذا هو مذهب أبي حنيفة وإليه ذهب مالك والشافعي كما في “رحمة الامة ص 24.(اعلاء السنن: ج 4، ص 261 بیروت )

(6)، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ:‏‏‏‏ جَاءَ رَجُلٌ وَقَدْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَيُّكُمْ يَتَّجِرُ عَلَى هَذَا ، ‏‏‏‏‏‏فَقَامَ رَجُلٌ فَصَلَّى مَعَهُ۔۔۔( ترمذی: رقم الحدیث 220 باب ماجاء فی الجماعة فی مسجد قد صلی فیہ مرة)

(7)۔۔وفیہ فقام ابو بکر رضی اللہ عنہ فصلی معہ وقد کان صلی مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔( سنن الکبیر للبیھقی: ج 3ص69و70)

(8) عاصم الاحوال ، عن ابن سيرين ، قال : لم يكونوا يسائلون عن الاسناد، فلما وقعت الفتنة، قالوا:سمو النا رجالكم، فينظر الى اهل السنة فيوخذحديثهم وينظر الى اهل البدع فلا يوخذ حديثهم.
(صحيح مسلم: برقم الحديث 27)

(9)عن عبد العزيز بن رُفيع، قال: سألت انس بن مالك، اخبرنی بشی ء عقلته، عن النبي صل اللہ علیہ وسلم این صلى الظهر يوم التروية؟ قال : بمنی، قلتُ: فاين صلى العصر يوم النفر قال: بالابطح، افعل كما يفعل امرائُك! ( بخاری: برقم الحدیث1763)

(10) بخاری: برقم الحدیث 4514. سورہ بقرہ آیت 19)

فقط واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: محمد اشرف قاسمی
خادم الافتاء شہرمہدپور
ضلع اجین،ایم پی
2019/07/09ء
ashrafgondwi@gmail.com

ناقل: محمد توصیف صدیقی قاسمی
معین مفتی و منتظم گروپ: دارالافتاء شہر مہدپور

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker