مضامین ومقالات

ایڈوکیٹ محمود پراچہ آپ کیاچاہتے ہیں؟

اتواریہ: شکیل رشید
ایڈوکیٹ محمود پراچہ آخر آپ کیاچاہتے ہیں؟
میں نے یہ سوال اس وقت بھی دریافت نہیں کیا تھا جب آپ نے ملی تنظیموں پر ایجنسیوں کی ایماء پر کام کرنے کا الزام عائد کیا تھا او رنہ اس وقت دریافت کیا تھا جب آپ ان ساری تنظیموں کو جو کسی نہ کسی سطح پر مسلم قوم کی فلا ح وبہبود اور خیر کےلیے سرگرم ہیں، کٹگھرے میں کھڑا کررہے تھے، پر آج یہ سوال دریافت کرنا ضروری سمجھ رہا ہوں۔ ابھی ابھی آپ کی پریس کانفرنس کی خبر بھی پڑھی ہے اور ویڈیو بھی دیکھا ہے۔ آپ نے ماب لنچنگ کی بڑھتی وارداتوں پر فکر اور تشویش کا اظہار کیا ہے او ربجا کیا ہے کہ ہر محب وطن ہندوستانی کو ان وارداتوں پر فکر وتشویش ہے ۔ اور ہر وہ شہری جو ملک کی جمہوریت اور قانون کا احترام کرتا ہے اور جو ملک کے سیکولر ڈھانچے پر یقین رکھتا ہے وہ ماب لنچنگ کی وارداتوں کی مذمت کرے گا ہی۔
یہ کیسی افسوس کی بات ہے کہ مودی سرکار کی دوسری اننگ شروع ہوتے ہی ماب لنچنگ کا سلسلہ مزید تیزی سے شروع ہوگیا ہے، اور سرکار ہے کہ آنکھوں پر پٹی باندھے اور کانوں میں اُنگلیاں ڈالے بیٹھی ہے۔ سپریم کورٹ نے حکومت کو ماب لنچنگ پر قانونی بندش عائد کرنے کی جو ہدایت دی تھی اسے یکسر فراموش کردیاگیا ہے۔ اور پراچہ صاحب ہر وہ ہندوستانی مسلمان جسے ماب لنچنگ کے مظلومین کی بے کسی، بے بسی او رکرب والم کا احساس ہے ان دنوں سرجوڑ کر اس سوال کا جواب تلاش کرنے میں لگاہوا ہے کہ ماب لنچنگ پر کیسے قابو پایاجائے؟ آپ نے پریس کانفرنس میں اس مسئلے کا حل ’اپنے پاس ہتھیار رکھنا‘ قرار دیا ہے۔ آپ کے اپنے الفاظ میں ’’انفرادی طور پر ایسے شخص کو ہتھیار چلانے کی اجازت دی گئی ہے جن کی جان خطرے میں ہو اور اپنی جان بچانے کےلیے ہتھیار چلانے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہ بچا ہو‘‘۔ آپ کی بات یقیناً سچ ہے پر کیا واقعی ماب لنچنگ پر قابو پانے کایہ درست ’حل ‘ہے؟ یہ تو ممکن ہے کہ ’ہجومی تشدد پر آمادہ دہشت گردوں‘ کا مقابلہ کیاجائے، انہیں مار بھگایاجائے۔ اپنے بچائو کےلیے یہ تو کیاجاسکتا ہے۔ پر بندوق، ریوالور، پستول یا رائفل کیسے اس مسئلے کا حل ہیں؟ کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ اس ملک میں دوفرقوں کے درمیان باقاعدہ جنگ چھڑجائے؟ یہ سوال اس لیے ہے کہ آپ مسلم نوجوانوں کو اسلحے کے لائسنس دلوانے کےلیے باقاعدہ جگہ جگہ کیمپ لگوانے والے ہیں۔ آپ کے بقول ۲۶ جولائی کو لکھنواور پھر دوسری جگہوں پر کیمپ لگیں گے جن میں ہزاروں مسلم نوجوان اسلحہ کے لیے اپلائی کریں گے۔ کیا آپ کو نہیں لگتا کہ اس عمل سے فرقہ وارانہ کشیدگی پھیلے گی، جو کہ سنگھ پریوار چاہتا ہی ہے؟ اور کشیدگی بھی ایسی جس کا نہ کوئی فائدہ نہ مطلب! آپ ابھی سے شور مچارہے ہیں کہ ماب لنچنگ کرنے والوں سے نمٹنے کےلیے لائسنس والے اسلحے حاصل کیے جائیں گے تو کیا کوئی حکومت ،بالخصوص یوگی حکومت، اس کام کےلیے آپ کو کیمپ لگانے دی گی؟ اور اگر کیمپ آپ نے لگا بھی لیا تو کیا اسلحے کے لائسنس جاری کردے گی؟ قطعی نہیں، نہ لا ئسنس جاری ہوں گے اور نہ ہی اسلحے ملیں گے او رنہ ماب لنچنگ سے نمٹنے کےلیے مسلمان اسلحہ استعمال کرسکیں گے ،پر یہ یرقانی ، یہ سنگھی سارے ملک میں افواہ پھیلانے میں کامیاب رہیں گے کہ مسلمان ہتھیار جمع کررہے ہیں! نقصان میں کون ہوگا؟ سنگھی قطعی نہیں ہوں گے نہ بی جے پی کے لوگ ہوں گے کیوں کہ وہ تو اس طرح کی فرقہ وارانہ دراڑ پر سیاست کرنے والے لوگ ہیں۔۔۔۔پر مسلمان صد فیصد نقصان میں رہیں گے۔۔۔۔شدید ترین نقصان میں۔لہذا پراچہ صاحب پھر یہ سوال ہے کہ آخر آپ کیاچاہتے ہیں۔۔۔۔؟؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker