مضامین ومقالات

باتیں کتابوں کی

شکیل رشید
اگر اثبات کی خصوصی پیشکش (احیائے مذاہب )
نہ پڑھنا چاہیں تو نہ پڑھیں مگر۔۔۔
سوال تو اُٹھیں گے!
کیوں؟ اس لیے کہ ’’سوال ، جواب کا باپ ہے‘‘ یا باالفاظ دیگر ’’جواب معمولی ہوسکتا ہے مگر سوال معمولی نہیں ہوتا‘‘۔
واوین میں دئیے گئے جملے میرے نہیں مدیر اثبات اشعر نجمی کی ’اثبات‘ کی خصوصی پیشکش ’احیائے مذاہب: اتحاد، انتشار اور تصادم‘ کی پہلی جلد کے اداریے کے ہیں۔ یہ خصوصی پیشکش تین ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے جن کی مجموعی ضخامت 2384صفحات ہے اور قیمت 2000 روپئے۔
پہلی جلد کے ’اداریے‘ سے پتہ چلتا ہے کہ جو سوال اُٹھے یا اُٹھائے گئے وہ مذہبی روئیے، تصورات، فکر اور نظریات سے متعلق ہیں۔ اور اہم ترین سوال یہ ہیں کہ ’’کیا مذاہب اپنی خالصیت اور ابتدائی تعلیمات کو بدلتے ہوئے حالات اور نئے لوگوں میں تبدیلی مذہب کے بعد ان کو برقرار رکھ سکتے ہیں؟ اور کیا مذاہب بھی وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے رہتے ہیں؟ او رنئی اقوام اور برادریوں کے تبدیلی مذہب کے بعد ان کی رسوم ورواج اور ثقافتی اقدار و اداروں کو اپنے میں ضم کرتے رہتے ہیں؟‘‘۔ دوباتیں ہوسکتی ہیں، یا تو مذاہب وقت کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں او رنئی اقوام اور برادریوں کے تبدیلیٔ مذہب کے بعد ان کی رسوم ورواج اور ثقافتی اقدار واداروں کو اپنے میں ضم کرلیتے ہیں، یا نہیں کرتے۔اگر کرتے ہیں تو مذاہب اور ان کی تعلیمات خالص نہیں رہ جاتیں۔۔۔اور اگر نہیں کرتے تو مذاہب وقت کے ساتھ چلنے کی بجائے وقت سے بہت پیچھے رہ جاتے ہیں۔۔۔لہذا ایک سوال یہ اُٹھتا کہ کیا اس سوال پر یا اس کشمکش پر غوروخوض کرکے ہر مذہب کے علماء نے کوئی حل یا کوئی راہ تلاش کرنے کی کوشش نہیں کی ؟ اگر کی تو وہ راہ کیا ہے او راگر نہیں کی تو کیو ںنہیں کی؟
اشعر نجمی کا کہنا ہے ’’ہر مذہب میں احیائی تحریکوں کا جنم ہوتا رہا؛ کبھی اصلاحی تو کبھی تجدیدی اور کبھی عسکری توانائی کے ساتھ کوششیں ہوتی رہیں کہ یا تو متعلقہ مذہب میں نئی تبدیلیوں کے لیے گنجائشیں پیدا کی جاسکیں یا پرانی روایات کو نئی زندگی دی جاسکے تاکہ زوال پذیر ، فرسودہ اور مضمحل معاشرے کو حیات نومل سکے۔ لیکن سوال اُٹھتا ہے کہ کیا کبھی یہ خواب شرمندہ تعبیر ہوا‘‘؟ یعنی ان کے بقول نہ ہی تو متعلقہ مذہب میں نئی تبدیلیوں کے لیے گنجائشیں پیدا کی جاسکیں اور نہ ہی پرانی روایات کو نئی زندگی دی جاسکی۔ اور اس کی وجہ ’بنیادپرستی‘ ہے۔ ’بنیاد پرستی‘ یعنی خاص طریقے سے عمل کرنا یا ان تصورات کو ہی برحق سمجھنا جو بچپن ہی سے ذہن میں ڈالے جاتے ہیں۔۔۔اور یہ عمل اور تصورات بلاشبہ مذہبی اور نظریاتی ہوتے ہیں۔
’اثبات‘ کی اس خصوصی پیشکش کے ذریعے اشعر نجمی یہ چاہتے ہیں کہ سوال اُٹھیں، اختلاف رائے کو قبول کیاجائے اور ہرسوال کا کوئی مثبت جواب تلاش کیاجائے تاکہ نہ منفی اثرات قوم کی راہ میں رکاوٹ بن سکیں اور نہ قوم اپنی صفوں کو سیدھا کرنے کی ترغیب سے محروم رہے۔ چونکہ اشعر نجمی ایک مسلمان ہیں اس لیے مسلم معاشرے کی بات زیادہ ہوئی ہے اور ہونی بھی چاہئے تھی۔
پہلی جلد میں پانچ ابواب کے تحت پچاس مضامین شامل ہیں، ان میں سے چند ایک مضامین پر نظر ڈالنے سے پہلے ’اداریے‘ میں اُٹھائے گئے سوالوں پر کچھ باتیں کرلی جائیں۔ دل ایک سوال پوچھنا چاہتا ہے کہ نئی اقوام اور برادریوں کے تبدیلیٔ مذہب کے بعد ان کی رسوم ورواج اور ثقافتی اقدارواداروں کو ضم کرنے سے مذہب خالص کیوں نہیں رہ سکتا؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ نئی اقوام اور برادریاں جو تبدیلی مذہب کررہی ہیں وہ تبدیلیٔ مذہب کے ساتھ اپنے رسوم ورواج اور اقدار کو کیوں تبدیل نہیں کرسکتیں؟ میرا ان سوالوں کو پوچھنا اس لیے ہے کہ عام طور پر جو بھی نئی اقوام او ربرادریاں تبدیلیٔ مذہب کرتی ہیں ان میں سے اکثر اپنے رسوم ورواج اور اقدار سے بیزار ہوتی ہیں اور تبدیلیٔ مذہب کا ایک بڑا سبب یہی بیزاری ہوتی ہے۔ مثلاً ہندوئوں میں چھوت چھات کے رواج کی وجہ سے دلتوں کا کسی اور مذہب، مان لیں بدھ ازم قبول کرلینا!
’اداریے‘ میں تبدیلیوں کے لیے گنجائشوں اور پرانی روایات کو نئی زندگی دینے کا سوال بھی اُٹھایاگیا ہے۔ ایک ایسا خواب جو کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوا! کیا واقعی ایسا ہے؟ کیا کسی مذہب نےیہاں ،مذہب اسلام کی بات کرناچاہوں گا،گنجائشیں نہیں پیدا کیں؟ اب اگر گنجائشوں کا مطلب ’شریعت‘ کے ڈھانچے سے باہر نکل کر مغرب کی تقلید کرنا ہے ، تو یہ تو نہیں ہوا ہے، پر سماجی، ثقافتی، معاشی، تعلیمی اور تہذیبی سطح پر بہت ساری گنجائشیں پید ا کی گئی ہیں او ربہت ساری روایات کو اپنایاگیا ہے۔ پہلی جلد میں خالد تھتھال کا ایک مضمون بعنوان ’’فکر اسلامی: بند دروازے پر دستک‘‘ ہے جس میں وہ ایک جگہ لگتے ہیں ’’کبھی تصویر حرام ہوتی تھی، ریڈیو شیطانی آوازٹہری تھی، ٹی وی شیطانی ایجاد تھا جسے سرعام جلایاگیا لیکن بغیر کسی واضع اجتہاد یا اپنے پہلے فتاویٰ کی غلطی تسلیم کرنے کا تکلف کیے بغیر ان چیزوں پر یوں قبضہ کرلیاگیا ہے جیسے ان کے استعمال کا حکم مقدس کتابوں میں درج ہے‘‘۔ یعنی اس جلد کے ایک مصنف خالد تھتھال طنزاً سہی پر یہ مان رہے ہیں کہ گنجائشیں پیدا کی گئیں!
ٓاختلاف رائے ضروری ہے، سوال بھی اُٹھنے ضروری ہیں پر جب اختلاف رائے اور سوال دانستہ تلخ ہوں تو ’’اختلاف رائے فطرت کا قانون‘‘ نہیں رہ جاتا او رنہ اختلاف رائے یا سوالوں سے ’’ذہنی ارتقا‘‘ ہوتا ہے۔ خالد تھتھال کا مذکورہ مضمون جاندار اور معلوماتی ہے پر اکثر خیالات معتزلہ کے ہیں، وہی معتزلہ جو آزادی اظہار خیال کے داعی توتھے لیکن اسلام کے بنیادی عقائد پر سوال اُٹھانے کی بجائے انہیں مٹانے پر آمادہ تھے۔ خالد تھتھال آزادیٔ اظہار خیال کے نام پر جو باتیں کرتے ہیں ملاحظہ فرمائیں: ’’مغرب میں جمہوریت اور روشن خیالی در آئی، او رحق اظہار کی آزادی سے مذہب کے صدیوں پر انے تسلط کا خاتمہ ہوا؛ وہیں مسلمانوں کا سارا زور اللہ کی شریعت اور خلافت کے قیام پر ہوگیا‘‘۔ ہمیں مغرب کی ’جمہوریت‘ اور ’روشن خیالی‘ پر کچھ نہیں کہنا جہاں حضرت عیسیٰؑ کی ’توہین‘ جرم یہودیوں کے قتل عام کے سچ یا جھوٹ پر سوال اُٹھانا قابل گردن زنی اور دوسرے مذاہب کے پیشوائوں کی ’توہین‘ آزادی اظہار خیال اور یہودیوں کے ذریعے فلسطینیوں کا قتل عام محض ’جھوٹ‘ قرار پاتا ہے، اور روشن خیالی کا یہ عالم ہے کہ ماں، باپ، بیٹا ،بیٹی، ایک ساتھ ساحل سمندر پر عریاں ٹہلتے ہیں یا بغیر شوہر کے کوئی لڑکی ماں بن جاتی ہے، بس کہنا یہی ہے کہ اسلام کم از کم ایسی روشن خیالی اور اس طرح کے اظہار ر ائے کی آزادی سے پاک ہے۔ اختلاف رائے کے دوران مثبت انداز میں بحث تو ممکن ہے پر اگر ’دلیل‘ کو ’خدا کی منشاء کے سامنے جھکنے‘پر فوقیت دی جائے تو اختلاف رائے مثبت نہ ہوکر منفی ہوجاتا ہے۔ خالد تھتھال کے یہاں سارا اختلاف رائے ’منفی‘ ہے۔
راشد شاز کے مضمون ’’اسلام کا شیعی قالب‘‘ میں سارا زور اس بات پر ہے کہ جس طرح ہم شیعی اسلام کو تاریخ کا پروردہ کہتے ہیں اسی طرح دین کے دوسرے تاریخی قالب اور ان کے انحراف پر ہماری جبینیں شکن آلود کیوںنہیں ہوتیں؟ اس سوال پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔۔۔ویسے اگر راشد شاز کی بات مان لی جائے تو اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ مسلمانوں کی فرقہ بندیوں کی اصل وجہ سیاسی اور فکری انتشار ، اور اس حالت میں نئے فکری قلعے تعمیر کرنے کی کوششیں ہیں۔ باالفاظ دیگر فرقہ بندی کی اصل وجہ ’دین‘ نہیں سیاسی محرکات ہیں۔ پر ان سیاسی محرکات کو تقویت یقیناً مذہب ہی سے ملی ہوگی اور شاید اسی لیے اب فرقہ بندیاں خالص مذہبی بنیادوں پر قائم ہیں۔ یہ مضمون ادھورا سا لگتا ہے پر بہت سے سوالات اُٹھاتا ہے۔
جلد دوم کا اداریہ ’’سینہ چاک اور تاریخ کے پیوند‘‘ کے عنوان سے ہے، اس میں مسلمانوں کے عروج وزوال کے اسباب کےحوالے سے بات شروع کی گئی ہے۔ اشعر نجمی کا یہ دعویٰ ہے کہ ’’ابھی دو صدی پہلے تک مسلمانوں کا سینہ (اپنی تاریخ پر) فخر سے پھول جایا کرتا تھا لیکن برا ہو اس انٹرنیٹ ، اور سوشل میڈیا کا جس نے مسلمانوں کو تاریخ ہی سے متنفر کردیا۔ اب وہ اپنے ہی اس بیش بہا اثاثے سے برأت کا اظہار کرتے آرہے ہیں‘‘۔ ممکن ہے ایسا ہو، ممکن ہے کہ ’’ماضی کی عظمت اور شان وشوکت کے تذکروں کا اثر یہ ہوا (ہو) کہ ہمارے معاشرے میں جھوٹی انا اور بے جا فخر کے احساسات پیدا ہوئے (ہوں)‘‘ پر کیا یہی زوال کے اسباب ہیں؟ کیا مسلم پرسنل لاء کا قیام واقعی مسلمانوں کو زوال کی سمت لے جارہا ہے؟ کیا واقعی اپنی تاریخ سے آنکھیں چار کرکے ہی دنیا میں اپنا مقام بنایاجاسکتا ہے؟ او ریہ نئے عہد کے پیمانے اور وقت کے تقاضے کیا ہیں؟ یہ سوال بے حد اہم ہیں، پر ان کے جواب تلاش کرنے کی کوشش کم کم نظر آتی ہے۔ اگر دوسری جلد میں ہربنس مکھیا کے مضمون ’’ہندوستان میں اسلام کی اشاعت کے اسباب‘‘ پر نظر ڈالی جائے تو وہ مسلمانوں کے ماضی اور حال (جس سے جھوٹی انا اوربے جا فخر کے احساسات پیدا ہوئے) کے حوالے دے کر ایک جگہ لکھتے ہیں ’’چھ ہزار علماء نے فتویٰ دیا کہ دہشت گردی اسلام کے خلاف ہے، تویہ ہندوستانی اسلام کا مزاج ہے، یہ وہ قدر ہے جو ہندوستان کی دھرتی سے جڑی ہوئی ہے، ہندوستان کی زمین سے پیدا ہوئی ہے، جس نے ہندوستان کے نہ صرف مسلمانوں کو بچا کر رکھا ہوا ہے بلکہ ہندوستانیت کو بچا کر رکھا ہوا ہے، جس پر ہمیں فخر ہوناچاہئے‘‘۔ ہر بنس مکھیا ’فخر‘ کرسکتے ہیں توہندوستانی مسلمان کیوں اپنے کسی کارنامے پر ’فخر ‘ نہیں کرسکتے؟ کرسکتے ہیں، ہاں اس فحر میں جھوٹی انا نہیں ہونی چاہئے اور نہ یہ فخر بے جا ہونی چاہئے۔ جلد دوم میں ’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘ کے باب میںکئی اہم مضامین ہیں۔ ایک باب ’تابہ خاک کاشغر‘ کے عنوان سے ہے جس میں مسجد اقصیٰ اور یہود اور امت مسلمہ، طالبانی کلچر، سعودی عرب میں اسلام، امریکہ میں اسلام او رمسلمان، روہنگیا مسلمان وغیرہ پر مباحث ہیں۔ ایک اہم باب ’ہندو، ہندو تو اور ہندوستان‘ کے عنوان سے ہے جس میں سنگھ پریوار، ہندو مذہبی تحریکوں، ایودھیا قضیہ، ہندوراشٹر موضوع بحث ہیں۔ سکھوں، عیسائیوں اور یہودیوں وغیرہ کی مذہبی آزادیوں پر مباحثے کےلیے بھی ایک باب ہے۔ جلد سوم میں اداریہ کا عنوان ہے ’’کوئی آداب تشدد ہی سکھادے ہم کو‘‘ اس میںاشعر نجمی اس بات پر زور دیتے ہیں اور بجا دیتے ہیں کہ مسلمانوں کو فساد اورتشدد کے مذہبی جواز اور نظریاتی اسباب دریافت کرنے کی بجائے قرآن پاک کی اس تنبیہ کو یاد رکھناچاہئے : ’’پھر اگر تم منہ پھیروگے تو جو مجھے دے کر بھیجا گیا تھا وہ تمہیں پہنچا دیا او رمیرا رب تمہاری جگہ اور قوم پیدا کردے گا اور تم اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکوگے۔ بے شک میرا رب ہر چیز پر نگہبان ہے‘‘ (سورہ ہود: 75)۔۔ جیسا کہ اداریے سے ظاہر ہے اس جلد میں جہاد، فرقہ وارانہ کشیدگی اور دہشت گردی پر سوال قائم کیے گئے ہیں۔ اس جلد میں ’محبت‘ کی تلقین کی گئی ہے اور ’تخلیقی اظہار‘ کے تحت اردو اورمختلف زبانوں سے موضوع کے مطابق اچھا ادب پیش کیاگیا ہے۔ یہ تینوں جلدیں سوال اُٹھاتی ہیں۔ اختلاف رائے پر زور دیتی ہیں۔ خدا کرے کہ اس طرح کا آزادانہ اظہار خیال واقعی غوروفکر اور اصلاح کے در وا کردے۔ (آمین)
خصوصی پیشکش اگر کوئی نہ پڑھنا چاہے تو نہ پڑھے مگر میرے خیال میں اس کا پڑھنا مختلف نقطۂ ہائے نظر سے واقفیت کےلیے ضروری ہے۔ یہ تینوں جلدیں کسی کی دل آزاری نہیں کرتیں ہاں بعض مضامین تلخ ہیں۔ ٹھیک ہے تلخ ہوا کریں کہ اس طرح تلخ جواب دینے کےلیے دروازے کھل گئے ہیں۔۔۔لیکن اگر تلخی سے بچ سکا جائے تو زیادہ بہتر ہے کیوں کہ اختلاف رائے کا اصل مقصد تلخی نہیں افہام وتفہیم اور ایک دوسرے کو سمجھنا ہے۔۔۔’اثبات‘ کی اس خصوصی پیشکش کو اشعر نجمی سے یا پھر مکتبہ جامعہ (9082835669)سے حاصل کیاجاسکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker