مضامین ومقالات

ہم امن کے مندر کو بچانے میں لگے ہیں

نازش ہماقاسمی
ملک کے حالات اس وقت انتہائی نازک اور ناگفتہ بہ ہیں، مسلمانوں کو قتل کیاجارہا ہے، انہیں ستایا جارہا ہے، گائے کے نام پر بھیڑ مار رہی ہے، موت کے گھاٹ اتار رہی ہے، مسجدوں میں اذان نہیں دینے دیاجارہا ہے، ان کی معیشت کا بائیکاٹ کیاجارہا ہے،مسلم نوجوانوں کو نوکریاں نہیں دی جارہی ہیں، تعلیمی طور پر بھی پچھڑا بنایاجارہا ہے۔ ایسے حالات میں بھی مسلمان ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو برقرار رکھنے کی کوشش میں مصروف ہیں، امن کے مندر کو بچانے میں مشغول ہیں۔ نفرت کا جواب محبت سے دے کر ملک کی سالمیت کو بچانے کی کوشش کررہے ہیں۔ گزشتہ 30جون کو پرانی دہلی کے حوض قاضی علاقے میں پارکنگ کو لے کر شرابی نوجوانوں سےایک مسلم نوجوان کا تنازعہ ہوگیا تھا اور یہ تنازعہ اتنا بڑھا کہ وہاں پاس کی قدیم مندر کو کچھ شرپسند عناصر نے نشانہ بناکر دہلی سمیت ملک کی فضا کو مکدر کرناچاہا، اس تنازعے کی سنگینی کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ اس پر براہ راست وزیر داخلہ امیت شاہ نے رپورٹ طلب کی اور شرپسندوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔خیر یہ آپسی سوجھ بوجھ اور افہام وتفہیم سے معاملہ ٹل گیا اور قدیم درگا مندر میں دوبارہ مورتی نصب کردی گئی۔ فی الحال علاقے میں امن وامان ہے۔ مندر پر حملہ کرنے والے کون تھے؟ یہ اب تک واضح نہیں ہوسکا ہے۔ اتناتو ضرور واضح ہوگیا کہ مندر پر حملہ کرنے والے باہر کے لوگ تھے یہ قدیم منادروں کی بستی ہے یہاں کی مندریں اس وقت بھی محفوظ تھیں جب پورے ملک میں بابری مسجد کی شہادت کے بعد فسادات پھوٹ پڑے تھے؛ لیکن مسلم اکثریتی علاقے ہونے کے باوجود بھی یہاں کی مندروں کو کوئی نقصان نہ پہنچا؛ کیوں مسلمانوں کا یہ شیوہ کبھی نہیں رہا کہ وہ مذہبی مقامات کو نقصان پہنچائیں جو بھی اس طرح کی حرکتیں کرتے ہیں وہ صرف نفرت کے پجاری ہیں۔ خیر دہلی کے حوض قاضی علاقے میں مندر پر حملہ کرنے والے یہ باہر کے کون لوگ تھے؟یہ سوالیہ نشان بنا ہوا ہے؛ لیکن وہاں مسلمانوں کی یکطرفہ گرفتاری ہوئی ہے، ہوسکتا ہے کہ کچھ نام نہاد مسلمان نام رکھنے والے شریک ہوں؛ لیکن اگر منصفانہ جانچ کی جائے تو یہ ثابت ہونے میں دیر نہیں لگے گی کہ یہ باہری لوگ وہی ہیں جن کامشغلہ ہی ہے کہ مندر مسجد پر تنازعہ پیدا ہو یہ وہی لوگ ہیں جو ہندو ئوںجلوس میں جے شری رام کے نعرے لگاتے ہوئے قریب کی مسجد کے پاس رک کر اپنے ہی ہجوم پر پتھر مار دیتے ہیں جس سے فساد پھوٹ پڑتا ہے ان کا کام ہی نفرت پھیلانا ہے ، وہ چاہتے ہی ہیں کہ نفرت قائم رہے اور ہماری روزی روٹی چلتی رہے، ان کا مقصد ہی مندر مسجد کے نام پر ایک دوسرے کو لڑانا ہے یہ علاقائی لوگوں پر منحصر ہے کہ وہ باہری لوگوں کی سازشوں کا شکار ہوکر اپنا سکھ چین کھوبیٹھیں یا ان کی سازشوں کو اپنی آپسی محبت سےشکست دیں دہلی میں بھی ایسا ہی ہوا۔ باہری لوگوں نے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ مسلمان نہیں تھے، شرپسند ہندو تھے انہوں نے ہی مندر پر حملہ کرکے پارکنگ تنازعے کو فرقہ وارانہ فساد کی نذر کرناچاہا؛ لیکن وہاں کے باشعور مسلمانوں اور سیکولر ہندوئوں نے ان کی چال کو ناکام کردیا، مسلمانوں کے علاقائی رہنمائوں نے امن وامان کی اپیل کی اور مندر پر حملہ کرنے والوں کو سخت سے سخت سزا دلانے کا مطالبہ کیا، اماموں نے وہیں مورتی نصب کرانے کا وعدہ کیا اور یہ معاملہ آپسی محبت وبھائی چارگی سے حل ہوگیا ۔۔۔۔جس طرح اس تنازعے کی آڑ میں دہلی سمیت ملک کو آگ میں جھونکنے کی کوشش کی گئی تھی، بڑے بڑے بینر لگا کر علاقے کی فضا کو مکدر کیاگیا تھا اور ایک خوف کا ماحول قائم کرنے کی کوشش کی گئی تھی وہ دم توڑ گئی۔ انہوں نے وہاں بہت چاہا کہ نفرت جیت جائے محبت ہار جائے، فرقہ پرستوں نے خوب روٹی سینکنی چاہی، سڑک پر ہنومان چالیسا کا پاٹھ تک کیا؛ تاکہ علاقے کے مسلمانوں کو یہ باور کرایاجائے کہ ہماری تعداد کے مقابلے میں تمہاری تعداد کچھ بھی نہیں ۔مقامی ہندوئوں کے علاوہ باہر کے لوگوں کو بھی یاترا میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی؛ تاکہ معاملہ سلجھنے کے بجائے مزید بگڑے؛ لیکن ایسا نہیں ہوا، مورتی نصب کرنے والا دن آیا ، شوبھا یاترا نکلی۔۔۔پورا علاقہ پولس چھائونی میں تبدیل تھا، سخت سیکوریٹی اور کشیدگی کے دوران یہ یاترا نکلی؛ لیکن پیغام محبت نے دلوں کو فتح کرلیا اور نفرت ہار گئی۔ ۔۔مسلمانوں نے محبت کا پیغام دیتے ہوئے اس شوبھا یاترا کا نہ صرف استقبال کیا؛ بلکہ اس میں شریک برادران وطن پر پھول نچھار کیے ، برادران وطن کی خدمت کے لیے مسلمانوں نے بھنڈارے کا انعقاد کرکے ان کا دل جیتا اور ملک کی گنگا جمنی تہذیب کی حفاظت کا پیغام دیا۔ سوشل میڈیا سمیت دیگر میڈیا نے کوئی کسر نہیں چھوڑ رکھی تھی کہ نفرت کا پیغام ختم ہو، وہ چاہتے تھے کہ یہ سلسلہ بڑھے اور اتنا بڑھے کہ پورا ملک نفرت میں ڈوب جائے اور ملک کی سالمیت خطرے میں پڑ جائے؛ لیکن ایسا نہیں ہوا اور امن وامان کے ساتھ یہ دن بھی گزر گیا ۔پورے ملک کے مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ نفرت کا جواب محبت سے دیں ان شاء اللہ خدا ان کے دلوں کو پھیر دے گا اور وہ ہم میں سے ہوجائیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker