ہندوستان

مغربی بنگال کے کانکی نارہ میں مسجد پر شرپسندوں کا بم سے حملہ، مسلمانوں کا غصہ پھوٹ پڑا، ریلوے لائن پر دو گھنٹے تک دھرنا ، ماحول میں خوف وہراس، حالات قابو میں

کولکاتہ۔۱۵؍جولائی: لگاتار دو مہینوں سے ۲۴ پرگنہ میں لوک سبھا انتخابات کے قبل سے ہی سیاسی جماعتوں کی دین فرقہ وارانہ تشدد کی آگ ایک با رپھر بھرک اُٹھی ہے۔ بتایاجارہا ہے کہ آج ایک مسجد پر پھر بمباری کی گئی، اور اس کے ساتھ ہی کانکی ناڑہ کے ۶ نمبر گلی، دو نمبر کانٹا پوکر نامی علاقوں میں صبح کے دس بجے کے قریب سے زبردست بمباری شروع ہوگئی، جس سے ایک بار پھر پورا علاقہ جنگ کے میدان میں تبدیل ہوگیا ہے، اس واقعے سے ناراض لوگوں نے مقامی کانکی نارہ ریلوے اسٹیشن پر زبردست احتجاج کیاجس سے پورا علاقہ متاثر ہوگیا اور گاڑیوں کی آمدورفت میں اس قدر رخنہ پڑا کہ سیالدہ روٹ پر سبھی اسٹیشن کے مسافروں کو پریشانیوں سے دوچار ہونا پڑا۔ بتایاجارہا ہے کہ اس دوران ریلوے کے ایک ٹوٹے پھوٹے کوارٹر سے کچھ زندہ بم پولس نے برآمد کیا ہے، ابھی پورے علاقے میں فورس کو تعینات کیاگیا ہے۔ آج پھر شرپسندوں کی بمباری سے کانکی نارہ گونج اُٹھا، اقلیتی فرقوں کے مرد، خواتین بچے اور بوڑھوں نے کانکی نارہ میں امن وامان قائم کرنے کی پکار پر کانکی نارہ ریلوے اسٹیشن پر ریل روکو احتجاج کیا مظاہرہ کے دوران اسٹیشن روڈ، بھاٹ پاڑہ، روڈ بازار گلی نمبر ۶، ۴، ۳، شرپسندوں کے مسلسل نشانے پر رہا۔کانکی نارہ سے موصول اطلاعات کے مطابق آج صبح 9.30بجے سے کانکی نارہ ریلوے اسٹیشن اور ریلوے ٹریک پر مقامی لوگوں کی بھیڑ جس میں خواتین کی بڑی تعداد جمع ہونے لگے اور اس کی وجہ سے ٹرین کی آمد ورفت روک گئی۔جو ٹرین جہاں تھی وہیں روک دیا گیا۔مظاہرین کا کہنا ہے کہ 18مئی سے ہی کانکی نارہ، جگتدل اور بھاٹ پارہ علاقے میں تشدد کے واقعات رونما ہورہے ہیں۔حکومت اور پولس کے دعوؤں کے برعکس ہرچند دن بعد ہمارے گھروں پر بمباری کردی جاتی ہے۔ا ب تو مسجدوں کو بھی نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ریلوے ٹریک پراحتجاج کررہی حبیبہ بی بی نامی خاتون نے بتایا کہ گلی نمبر 6میں واقع جامع مسجد میں کل رات بم پھینکا گیا ہے جس کے نشانات مسجد کے گنبد پر ہیں۔انہوں نے اس سے قبل ہی کانکی نارہ کی دیگر مسجدوں میں بم پھینکا گیا تھا۔گھروں اور دوکانوں پر تو بم پھینکا جانا معمول بن گیا ہے۔پولس کے دعوؤں کے باوجود شرپسند عناصر ہمارے گھروں اور محلوں میں کھلے عام بمباری کررہے ہیں۔ ریلوے انتظامیہ اور پولس کی مداخلت کے بعد ریلوے ٹریک پر دو گھنٹے بعد جام ختم ہوگیا ہے اور ٹرین کی آمدو رفت شروع ہوگئی ہے۔احتجاج میں شامل ایک خاتون نے کہا کہ ہمارے حالات پر نہ حکومت توجہ دے رہی ہے اور نہ ہی میڈیا اس لیے ہم نے ریلوے ٹریک کو جام کیا ہے تاکہ حکومت اورمیڈیا کی توجہ ہماری جانب مبذول ہو اور یہاں پرامن ماحول قائم ہو۔احتجاج میں شامل خواتین اور مقامی لوگوں نے بارکپور لوک سبھا حلقے سے منتخب ممبر پارلیمنٹ ارجن سنگھ پر سنگین الزام عاید کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب ان کے اشارے پر ہورہا ہے۔وہ مسلمانوں کو ختم کرنے کی دھمکیاں دے چکے ہیں۔کانکی نارہ کے لوگوں کا کہناتھا کہ ارجن سنگھ ترنمول کانگریس کے ٹکٹ پر 20سال تک اس علاقے سے منتخب ہورہے تھے۔انہیں مسلم بستیوں سے ووٹ ملتے تھے۔مگر اپریل میں ترنمول کانگریس چھوڑ کر بی جے پی میں شمولیت اختیار کرتے ہی انہیں کانکی نارہ اور جگتدل میں آباد مسلمان غدار نظرآنے لگے۔خیال رہے کہ یہ علاقہ ہمیشہ پرامن رہاہے۔ہندو مسلم کی آبادی مشترکہ ہے۔آپس میں گھریلو تعلقات تھے تاہم لوک سبھا انتخابات سے ہی یہاں کی فضا خراب ہوچکی ہے دونوں فرقوں کے درمیان اعتماد ختم ہوچکا ہے۔کھلے عام ایک دوسرے پرسنگین الزامات لگائے جارہے ہیں۔دوسری جانب کانکی نارہ ریلوے اسٹیشن پر جام ختم ہونے کے تھوڑی دیر بعد ہی بھاٹ پارہ میونسپلٹی کے آس پاس علاقے میں پولس اور شرپسند عناصرکے درمیان زبردست جھڑپ ہوئی، پولس پر بم پھینکے جانے کی خبر ہے اور بعد میں ریف کے جوانوں نے لاٹھی چارج کرکے مجمع کو منتشر کیا۔پولس نے دعویٰ کیا ہے کہ حالات کنٹرول میں ہے۔آس پاس کی دوکانوں میں بھی توڑ پھوڑ کیا گیا ہے۔مارکیٹ اب بھی بند ہیں، آمد ورفت کا سلسلہ کم ہے۔خیال رہے کہ گزشتہ ہفتہ بھاٹ پارہ علاقہ میں پولس فائرنگ میں ’پر بھو شیوا‘نامی شخص جس کی پولس کو کافی دنوں سے تلاش تھی کی پولس مڈ بھیڑ میں موت کے بعد سے ہی کانکی نارہ اور دیگر علاقے میں حالات خراب ہوگئے تھے۔جمعہ کے دن حالات معمول پر تھے مگر سنیچر کی رات سے ہی کانکی نارہ اور آس پاس علاقے میں بمباری ہونے لگی اس کے بعد سنیچر کی دن دوکانیں بند اور بازار بند رہے۔اتوار کو بھی کئی علاقوں سے بم برآمد کیے گئے اور بمباری میں چار افراد زخمی ہوگئے۔مقامی لوگ خوف زدہ ہیں کہ 15دنوں کے سکون کے بعد ایک بار پھر حالات خراب ہوگئے ہیں۔دوسری جانب بارکپور سے ممبر پارلیمنٹ ارجن سنگھ نے ریاست نے صدر راج کے نفاذ کا مطالبہ کیاہے۔انہوں نے کہا کہ وہ پارلیمنٹ میں وقفہ سوالات کے دوران اس ایشو کو اٹھائیں گے۔ بارکپور کمشنریٹ کے ڈی سی زون نمبر ایک اجے ٹھاکر نے کہا کہ بمباری کے الزام میں دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔بھاٹ پارہ اسمبلی حلقے میں ترنمول کانگریس کے چیرمین دھرم پال سنگھ نے کہا کہ اگر علاقے میں امن قائم ہوجائے گا تو بی جے پی کی سیاست ختم ہوجائے گی اس لیے بی جے پی اور اس کے لیڈران یہاں امن وامان کی فضا کو نقصان پہنچانے کی کوشش کررہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker