مضامین ومقالات

رہبانیت کا جنون اور علماء کرام!

 

محمد صابر حسین ندوی
Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043

عصر حاضر میں دیندار طبقہ رہبانیت کی زندگی کو ترجیح دینے لگا ہے، کہفی اور خانقاہی زندگی کو شوق و محبت اور عقیدت سے دیکھتا ہے، عوام میں مقبولیت اور ان کے مابین محبوبیت کا بڑا حربہ صوفی ازم کو تصور کیا جانے لگا ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ تصوف تزکیہ کا اہم میدان ہے، اس کی حیثیت مسلم ہے، اس کا شجرہ حضورﷺ سے جا ملتا ہے، لیکن فی زمانہ تصوف ایک ایسا ذریعہ بن گیا ہے؛ جس سے اسلامی شعائر پر قدغن لگتا ہے، اعتدال کا دامن چھوٹتا ہے، جہاد و جہد کا سرگرم میدان سرد پڑتا ہے، علماء کرام میں ایک بڑی تعداد نے اصلاحی مجالس اور خانقاہوں کی مسانید کو ہی اصل بنا لیا یے، حالاں کہ اس کی ضرورت آٹے میں نمک کے برابر تھی؛ لیکن یہاں تو پورا آٹا ہی نمک ہوا جاتا ہے، خال خال کوئی ایسا عالم نظر آتا ہے؛ جس کے اندر علم کی حرارت، تقوی و زہد اور سربکف ہونے کا جوش یکساں ٹھاٹھیں مارتا ہو، قرآن کریم کو دستور و آئین سمجھتا ہو، اپنے اندر رسول ﷺ کےلیے سرکٹا دینے کا شوق ایسے رکھتا ہو، کہ کسی لحظہ اسلامی دستور میں کمی و کوتاہی کو برداشت نہ کرتا ہو، وہ سیاست اور معاملات کو بھی ایسے ہی دین کا حصہ سمجھتا ہو جیسے نماز اور روزہ ہے، حج اور زکات ہے، اسلامی خلافت اور امیر المومنین کی اطاعت اور اس کی ضرورت امت کے حق میں ناگزیر جانتا ہو؛ لیکن افسوس صد افسوس اس امت کے قائدین غاروں میں خود کو قید کرنے اور زمانہ جاہلیت کے طرز پر رہبانیت کو اختیار کرنے کی راہ پر گامزن ہیں، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ رہبانیت کا جنون سوار ہو گیا ہے، علم اور علما کی خاص پہچان بنادی گئی ہے، ان کے میادین طے کردیے گئے ہیں، یا دیگر تعبیر میں یوں کہا جائے کہ ان کے خول بنا دیے گئے ہیں، جن سے ان کا نکلنا دشوار معلوم ہوتا ہے، وہ خول رہبانیت کا ہے، تبتل اور غیر شرعی توکل کا ہے، اسلامی تعلیمات پر اجارہ داری اور زمانے کی ضرورت سے منہ پھیرنے کا ہے، جس نے معاشرے سے اسلامی روح نکال دی؛ بلکہ حقیقی اسلام پر ضرب لگائی اور اسے آسمانی مذہب کے بجائے ایک خاص مجموعہ کا دین بنادیا ہے۔
یہ باتیں یوں ہی نہیں کہی جارہی ہے ہیں، بلکہ زمانہ جاہلیت کی رہبانیت کو پڑھنے اور سمجھنے کے بعد لکھی جارہی ہیں، آپ بھی سیدی ابوالحسن علی ندوی رحمہ الله کی یہ عبارت پڑھیے اور اندازہ کیجیے کہ یہ بات کس حد تک درست ہے، مفکر اسلام لکھتے ہیں: “تحریک رہبانیت کا اخلاقی نتیجہ یہ ہوا کہ جتنے کمالات مردانگی و جوانمردی سے متعلق ہیں، وہ سب یکسر معیوب قرار پاگئے۔ مثلا زندہ دلی، خوش طبعی، صاف گوئی، فیاضی، شجاعت، جرات کہ عابدان مرتاض کبھی ان کے قریب بھی ہو کر نہیں گزرے تھے، دوسرا اہم نتیجہ رہبانی طرز معاشرت کا یہ ہوا کہ خانگی زندگی کی بنیادیں متزلزل ہوگئیں، اور دلوں سے اعزا کا احترام و ادب کافور ہوگیا، اس زمانے میں ماں باپ کے ساتھ احساس فراموشی اور اعزاء کے ساتھ قساوت قلبی کی جس کثرت سے مثالیں ملتی ہیں اس کا اندازہ کرنا مشکل ہے، یہ زاہدان صحرا اور عابدان مرتاض اپنی ماوں کی دل شکنی کرتے تھے، بیویوں کے حقوق کی پامالی کرتے تھے، اور اپنی اولاد کو یہ دغا دیتے تھے کہ انہیں بے دلی و وارث محض دوسروں کے ٹکڑوں کے رحم پر چھوڑ دیتے تھے، ان کا مقصود زندگی تمام تر یہ ہوتا تھا کہ خود انہیں نجات اخروی حاصل ہو، انہیں اس سے کوئی غرض نہ تھی کہ ان کے متعلقین و متوسلین جئیں یا مریں؛ لیکن اس سلسلے میں جو واقعات لکھے ہیں، ان کو پڑھ کر آج بھی آنسو نکل آتے ہیں، عورتوں کے سایہ سے وہ بھاگتے تھے، ان کا سایہ پڑجانے سے؛ اور راستہ گلی میں اتفاقاً سامنا ہوجانے سے وہ سمجھتے تھے؛ کہ ساری عمر کی زہد و ریاضت کی کمائی خاک میں مل جاتی ہے، اپنی ماوں، بیویوں، اور حقیقی بہنوں سے بات کرنا بھی وہ معصیت کبیرہ سمجھتے تھے، لیکن اس سلسلہ کے جو واقعات لکھے ہیں، ان کو پڑھ کر کبھی ہنسی آتی ہے کبھی رونا”۔ (انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کا اثر: ۲۱۲-۲۱۳)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker