مضامین ومقالات

اپنی بقا کے لئے ………. خدارا اپنے ہونے کا ثبوت دیجئیے …………

 

احساس نایاب ( ایڈیٹر گوشہء خواتین بصیرت آن لائن شیموگہ, کرناٹک )

ایک دن پورے جنگل میں آگ لگ گئی گھبرائے ہوئے جانوروں میں افرا تفریح مچ گئ سبھی جانور جن میں کیا شیر کیا چیتا اور کیا ہاتھی سبھی کے سبھی اپنی جان بچانے کے خاطر بھاگ رہے تھے لیکن ایک ننھی سی چڑیا اپنی ننھی سی چونچ میں پانی کے قطرے لے کر آگ بجھانے کی کوشش کرنے لگی جسے دیکھ کر جانور حیران ہوکر اس کا مذاق اڑاتے ہوئے اس پہ طنز کسنے لگے یہ کہہ کر کہ
اے چڑیا ! تو ایک حقیر ذات , تیرا کمزور سا وجود اپنی چونچ میں پانی کے چند قطروں سے کیا اس بھیانک آگ کو بجھاسکتی ہے چل بھاگ اور اپنے آپ کو آگ میں جھلسنے سے بچا
جانوروں کی اس بات پہ چڑیا مسکراتے ہوئے بولی

اے اپنے مضبوط وجود پہ اترانے والوں !
بیشک میری ذات چھوٹی ہے اور مجھے پتہ ہے کہ میں ان چند پانی کے قطروں سے جنگل میں لگی آگ کو بجھا نہیں سکتی باوجود اس کے مجھے کوشش کرنی ہے اپنی آخری سانس تک کوشش کرنی ہے تاکہ روز قیامت اپنے رب کی بارگاہ میں جب مجھ سے پوچھا جائے گا کہ بتا تونے اپنوں کو بچانے کے خاطر کیا کیا ؟
تو اُس وقت میں اپنے رب کے آگے شرمندہ نہیں ہونا چاہتی آج بھلے آپ سبھی میرا مذاق بناؤ میری ہنسی اڑاؤ مجھے اس کی کوئ پرواہ نہیں کیونکہ مجھے آپ کو اور اس دنیا کو رازی نہیں کرنا ہے بلکہ اپنے پروردگار شہنشاہ دوجہاں کو رازی کرنا ہے.
یہ کہہ کر چڑیا دوبارہ آگ بجھانے میں لگ گئی

جب ایک ننھی سی چڑھیا میں اتنا جذبہ ہے روزقیامت کا ڈر ہے تو ہم خواتین تو اشرف المخلوقات میں سے ہیں.
ہم کیوں خود کو کمزور سمجھیں کیوں بےبس و لاچار بن کے جئیں ؟
اپنے ملک و ملت کے لئے جو ایک مرد کرسکتا ہے الحمدللہ وہ ہم خواتین بھی کرسکتی ہیں اور الحمدللہ ہماری چارسو سالہ تاریخ بھی ہمیں اسی کا درس دیتی ہے کہ ہم کبھی کمزور بن کے نہ جئیں .
ہمیں اپنی اُس تاریخ کو ہمیشہ جوان رکھنا ہوگا تاکہ حضرت سُمیہ رضی اللہ عنہ جیسی شہادت ہمارا مقدر بنے, حضرت ام عمارہ رض جیسی جراءت بہادری و بیباکی ہماری پہچان ہو اور ہم بھی خولہ بنت الازور رض کی طرح تنہا دشمن کی صفوں کی صفیں خاک کرڈالیں.
اس بات کو کبھی نہ بھولیں کہ ہم ان دلیر جانباز ہستیوں سے وابسطہ ہیں……….

ہم وہ نہیں جو حالات سے ڈر کر گھبرا کر گھروں میں چھُپ جائیں, ہم اُن مفاد و مطلب پرستوں جیسے بھی نہیں جو صرف میں بنا میرا بنا باقی سب منع جیسی زندگی گذاریں , نہ ہی ہم اُن منافقوں جیسے ہیں جو زبان پہ شیرینی گھولتے ہوئے پیٹھ پیچھے چھُرا بھونکتے ہیں .

بلکہ ہمیں تو صحابیات رضی اللہ عنہ کی طرح وعدوں کے سچے, ایمان کے پکے اور اسلام کے خاطر جام شہادت کو نوش کرنے کا جذبہ ہونا چاہئیے
اس لئے خود کے اندر صحابیات رض کا جذبہ جگائیں ان جیسا خود کو دلیر و بہادر بنائیں کیونکہ دور حاضر ظلم و تشدد حد سے تجاوز کرچکا جابجا ہماری حق تلفی ہورہی ہے , ہمارے مذہب ہماری شریعت میں مداخلت کی جارہی ہے, ہمارے بھائیوں کو بچوں کو بےرحمی سے قتل کیا جارہا ہے, ہماری معصوم بچیوں کو سرعام رسوا کیا جارہا ہے ……..
اب بس بہت چکا صبر کے تمام پیمانے لبریز ہوچکے ہیں.
ہم اپنے معصوم بےگناہ بھائیوں کی نعشیں نہیں دیکھ سکتے اُن کے جنازے اٹھتے نہیں دیکھ سکتے ہم مسلمان ہیں ایک جسم کے مانند ہیں زخم بھلے وہاں لگے درد کا احساس ہمیں ہونا چاہئیے ورنہ دنیا میں ہمارا وجود بےمعنی ہے کیونکہ ہمارا ضمیر مردہ ہے اور ہم بےحس ہیں اس لئے خود کو کمزور, بزدل, بےحس بننے نہ دیں اپنے اور اپنوں کے حق کے خاطر انصاف کے خاطر
اپنی آوازیں بلند کریں اپنے مظلوم بھائی بہنوں ان کے روتے بلکتے بچوں اور بےسہارا بزرگوں کے خاطر اپنے گھروں سے نکلیں
آج آپ کی بہنیں آپ کو پکارہی ہیں آپ کا انتظار کررہی ہیں انہیں آپ کے ساتھ کی ضرورت ہے یہ ہرگز نہ سوچیں کہ یوم جمعہ ہے اور ہم کیا کرسکتے ہیں ہم سے کیا ہوگا کیونکہ اس طرح کی ناامیدی کفر ہے.
اس لئے مایوسی والی سوچ اپنے اندر سے نکال کر پھینک دیں کیونکہ جب دنیا میں کسی کا کوئ مددگار نہیں ہوتا تو اللہ سبحان تعالی خود اُس کی مدد فرماتے ہیں جب کوئی ساتھ نہیں دیتا یا یہ محسوس ہو کہ ہم بےسہارا ہیں تو سمجھ جائیں کہ جہاں کسی کا سہارا نہیں ہوتا وہاں سے اللہ سبحان تعالی کا واحد سہارا ہر سہارے پہ غالب ہوتا ہے …..
ہمیں بس نیک نیت کے ساتھ اپنے ذاتی اختلافات کو بھول کر متحد ہونا ہوگا بنا پیچھے دیکھے اپنے مقصد کی اور بڑھتے جانا ہوگا پھر ان شاءاللہ ہمیں کامیاب ہونے سے دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی .
اسی یقین کے ساتھ 19 تاریخ بروز جمعہ صبح 11 بجے ڈی سی آفس کے پاس اپنی اور اپنوں کی بقا کے لئے لبیک کہتے ہوئے اکٹھا ہوجائیں اور اپنی بہنوں کی ہمت طاقت بن کر اُں کا حوصلہ بڑھائیں تاکہ ہم سب مل کر ظلم و تشدد کے خلاف اپنی یہ جنگ جاری رکھ سکیں
اور اس ظالم سماج کو یہ بتاسکیں کہ

عورت بھلے نرم و نازک ہے, پر کمزور نہیں یہ یاد رہے
جبرا جلے تو عبر بن کر ظالموں کو یہ فنا بھی کرے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker