ہندوستان

بہار میں ماب لنچنگ کا خونخوار چہرہ؛ تین لوگوں کو پیٹ پیٹ کر مارڈالا گیا ۔مہلوکین میں ایک مسلمان اور دو دلت شامل ۔آر جے ڈی ایم پی منوج جھانے مذمت کی

پٹنہ۔ ۱۹؍جولائی: ملک بھرمیں ماب لنچنگ کے واقعات تھم نہیں رہے ہیں تازہ واقعہ ریاست بہار میں پیش آیا۔ بہار کے چھپرا ضلع میں چوری کے الزام میں تین افراد کو گاؤں کے کچھ لوگوں نے پیٹ پیٹ کر موت کے گھاٹ اتاردیا۔مہلوک کی شناخت کےبعد اہل خانہ نے صدر اسپتال کے باہرہنگامہ کیا۔مہلوکین میں ایک مسلمان اور ۲ دلت ہیں ۔ مسلم لڑکے کا نام نوشاد قریشی بتایا جارہاہے۔ واقعے کے بعد پولیس نے احتجاجیوں پر جم کر لاٹھی برسائی۔یہ واردات پیغمبر پور گاؤں کے لڑکوں کے ساتھ ہوئی ہے۔اہل خانہ نے اس معاملے کو ہجومی تشدد بتا رہےہیں وہ حکومت سے جانچ اور کاروائی کا مطالبہ کررہے ہیں۔ ادھر گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ یہ لوگ گاڑی کے ساتھ بھینس چوری کرنے آئے تھے۔پولیس کے مطابق سارن ضلع میں بھی بھیڑ19 جولائی کو علی الصبح سارن ضلع ہیڈکوارٹرچھپرہ میں ناراض لوگوں نے 4 مشتبہ افراد کی زبردست پٹائی کردی جس میں 3 کی موت ہو گئی ۔ جب کہ ایک زخمی شخص اسپتال میں زیرعلاج ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ واقعہ صبح 3 سے 4 بجے کے درمیان پیش آیاہے۔وہیں میڈیا رپورٹس میں بتایاگیاہے کہ بنیاپور علاقہ میں 4 لوگوں کو مویشی چوری کے الزام میں پٹائی کی گئی۔ پہلے خبر آئی تھی کہ 2 لوگوں کی اس پٹائی میں موت ہو گئی لیکن بعد میں پولیس نے 3 لوگوں کی موت کی تصدیق کردی ہے ۔اس درمیان مہلوکین کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ مویشی چوری کا غلط الزام لگا کر انھیں مارا گیا ہے اور قصورواروں کی جلد از جلد گرفتاری ہونی چاہیے۔نند لال ٹولہ گاؤں کے باشندوں کا اس واقعہ کے تعلق سے کہنا ہے کہ 4 چور مویشی چوری کرنے کے مقصد سے آئے تھے لیکن وہ پکڑے گئے۔ مقامی لوگوں کے مطابق یہ چور پِک اَپ وین لے کر آئے اور انہوں نے ایک گھر کے باہر بندھے ہوئے مویشی کو کھولنے کی کوشش کی لیکن مویشی مالک کی نیند کھل گئی اور اس نے شور مچا دیا۔ شور کی وجہ سے آس پاس کے لوگ جمع ہو گئے اور چوروں کو پکڑ کر پٹائی شروع کردی۔ اب پولیس نے اس پورے واقعہ کی جانچ شروع کردی ہے۔وہیں اس معاملے پراب سیاست بھی شروع ہوگئی ہے ۔راجیہ سبھا رکن اور آر جے ڈی لیڈر منوج جھا نے کہا کہ ’’مرنے والے چاہے مجرم ہی کیوں نہ ہوں لیکن سزا دینے کا حق صرف قانون کو ہے۔‘‘منوج جھا نے سوال کیا بہار میں بھیڑ اس طرح سے حاوی ہو چکی ہے کہ سرکاری نظام ٹھپ ہو جائے؟۔بنیا پور میں ہوئے اس واقعے کے بعد پورے علاقے میں غم وغصے کی لہر ہے، وہیں جب بھیڑ کے شکار لوگوں کی موت کی خبر اہل خانہ کو ملی تو کہرام مچ گیا، واردات کے بعد اہل خانہ کا رو رو کر برا حال ہے، گائوں والوں کا کہنا ہے کہ جب یہ چاروں شخص کسی کے گھر میں جانور چرانے کےلیے گھسے تھے تبھی انہیں پکڑ لیاگیا تھا، او ران کی پٹائی کردی گئی ، پولس نے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا ہے او رمعاملے کی تحقیقات کررہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker