ہندوستان

تاج محل ’مندر‘ کل آرتی کریں گے! شیوسینا کی شرانگیزی دھمکی، ضلع انتظامیہ سے پوجا کی اجازت مانگی، ڈی ایم نے کہا ’معقول انتظامات کیے جائیں گے‘

آگرہ۔ ۲۰؍جولائی: شدت پسندوں کی نظر میں ہمیشہ سے کانٹے کی طرح چبھنے والے تاج محل کو ایک مرتبہ پھر تنازعہ کا شکار بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ شیو سینا نے اعلان کیا ہے کہ تاج محل مندر ہے لہذا اس میں آرتی کی جائے گی۔ گزشتہ روز شیو سینا کے صوبائی صدر وینو لوانیا نے ایک پریس کانفرنس کر کے یہ دھمکی دی۔ اس پر محکمہ آثار قدیمہ کے افسران کے ہاتھ پیر پھول گئے ہیں، انہوں نے ضلع انتظامیہ کو خط لکھ کر شیو سینا کو آرتی سے روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔شیو سینا کے صوبائی صدر وینو لوانیا نے گزشتہ روز ایک پریس کانفرنس سے کہا، ’’تاج محل ، تیجو مہالیہ ہے اور ہندووں کے عقیدے کی علامت ہے۔ اس کے پیش نظر اس ساون کے مہینے میں چاروں سوموار کو تاج محل کے اندر آرتی کی جائے گی۔ ‘‘سپرنٹنڈنٹ آرکیالوجسٹ (ماہر آثار قدیمہ) بسنت سورنکار نے آگرہ کے ضلع مجسٹریٹ این جی روی کمار کو خط لکھ کر کہا کہ ماضی میں تاج محل میں کبھی کوئی پوجا ارچنا یا مہا آرتی نہیں ہوئی ہے۔ لہذا اس روایت کو قائم کرنے سے روکا جائے۔محکمہ آثار قدیمہ کی طرف سے 18 جولائی کو ضلع مجسٹریٹ کو تحریر کیے گئے خط میں کہا گیا تھا کہ ’انسینٹ مونومنٹ اینڈ آرکیالوجیکل سائٹس ریمینز ایکٹ 1958 ‘ کی شق 5 (6) اور اصول 19598 (ایف) کے التزامات کے مطابق، محفوظ یادگار میں کسی بھی طرح کی مذہبی رسومات کو ادا کرنا اور کسی نئی روایت کو قائم کرنا ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (اے ڈی ایم) کے پی سنگھ نے کہا کہ شہر میں نظم و نسق کی صورت حال کو بگاڑنے کی اجازت کسی کو بھی نہیں دی جائے گی۔ اے ایس آئی (آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا) کی درخواست پر تاج محل میں معقول حفاظتی انتظامات کیے جائیں گے۔ادھر، شیو سینا کے وینو لوانیا نے چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ ضلع اور پولس انتظامیہ انہیں اور ان کے معاونین کو تاج محل میں آرتی کرنے سے روک کر دکھائیں! دیکھنا یہ ہے کہ 22 جولائی کو جب ساون مہینے کا پہلا سوموار ہوگا تو شیو سینا کے اعلان پر تاج محل میں آرتی کے لئے پہنچنے والے لوگوں سے انتظامیہ کس طرح نمٹتی ہے۔واضح رہے کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے جب ہندو شدت پسندوں کی طرف سے تاج محل کے اندر پوجا کرنے کا اعلان کر کے تنازعہ کھڑا کیا گیا ہے۔ گزشتہ سال ہندو وادی تنظیم کی ایک عورت تاج محل کے اندر واقع مسجد میں پوجا کرنے پہنچ گئی تھی۔ قبل ازیں 2008 میں شیو سینا کے کارکنان نے تاج محل میں جبراً داخل ہو کر ہاتھ جوڑ کر پریکرما (چکر لگانا) کی تھی اور پوجا پاٹھ بھی کی تھی۔ ان لوگوں کو جب پولس نے روکنے کی کوشش کی تو وہ ہاتھاپائی پر آمادہ ہو گئے تھے۔ اس کے بعد پولس نے ان سب کو گرفتار کر لیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker