شخصیاتمضامین ومقالات

جلانے والے جلاتے ہی ہیں چراغ آخر

کاشف قمر قاسمی

حضرت مولانا ولی رحمانی کی ملک وملت کے تئیں خدمات کادائرہ کار بہت وسیع اور بڑا مستحکم ہےجس سے انکار کی گنجائش نہیں جامعہ رحمانی خانقاہ رحمانی رحمانی فاؤنڈیشن رحمانی تھرٹی مسلم پرسنل لا بورڈ اور امارت شرعیہ جیسے مرکزی اداروں کے واسطے سے انہوں نے جوکارہائے نمایاں انجام دئیے ہیں ماضی میں بہت کم لوگوں نے انجام دئیے ہیں حیات ولی مولانا ولی رحمانی زندگی کے سنگ میل دی شائنگ فیس آف اسلامک امہ مولانا محمد ولی رحمانی جیسی کتابوں اور براہ راست مولانا کی زندگی کے مطالعے سے بھی یہ باتیں بہت صاف ہوجاتی ہیں لیکن کچھ مسلمانوں کا معاملہ بھی بڑاعجیب ہے یہا‍ں کام کرنے والوں کے خلاف محاذ کھولےجاتےہیں اور کام نہ کرکےآنکھوں میں دھول جھونکنےوالوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے جان کو ہتھیلی پر رکھ کر خاموشی سے کام کرنے والے کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے اور کچھ نہ کرکے یا بہت کم کام کرکے شور مچانے والوں کی پذیرائی ہوتی ہے ایک مدت سے یہی سب ہوتاآرہاہے اور شاید آئندہ بھی یہی سب ہوتارہیگا

ادھر کچھ دنوں سے مولانا محمد ولی رحمانی کےساتھ ایسی ہی صورتحال پیدا ہوگئ ہے چند لوگ حقائق کا انکار کرکے اور بدہییات کو ٹھکڑاکر ان کے خلاف گندے تبصرے کررہےہیں معاملہ فہمی کے بغیر ان کی ذاتی زندگی پرکمنٹس کررہےہیں اور عام لوگوں میں یہ تاثر بٹھانے کی ناکام اور قابل عذاب کوشش کررہےہیں کہ مولانا ولی رحمانی عہدوں کے لالچی ہیں دولت وشہرت کے بھوکےہیں وہ اپنے بیٹے کو نائب امیر شریعت بناناچاہتےہیں بورڈ پر قبضہ کرناچاہتےہیں اور نہ جا نے ولی کامل کے خلاف کیا کیا ہفوات بک رہے ہیں

مجھے نہیں پتہ کہ کون بیٹھا بیٹھا شرارت کررہاہے اور نہ مجھے اس سے کوئ غرض اور دلچسپی ہےلیکن یہ بات طے ہے کہ جوکچھ بھی مولاناکے خلاف کہااور لکھاجارہاہے وہ واقعہ کے یکسرخلاف ہے سچ تویہ ہے کہ مولانا نے عہدوں کو ہمیشہ جوتے کی نوک پررکھاہے اور بےغرض ہوکر ملک وملت کی خدمت کی ہے تاریخ صفحات میں یہ بات درج ہے کہ ایک بار ایک مخصوص پارٹی نے حضرت مولاناکانام وزیراعلیٰ کےعہدےکےلئےپیش کیاتھا بڑی حدتک لوگوں میں اتفاق بھی ہوچکاتھالیکن مولانا نے انکار کرکے یہ ثابت کردیا تھا کہ عہدوں کی ان کےسامنے کوئی حیثیت نہیں ہے اوریہ کون نہیں جانتا ہےکہ حضرت امیر شریعت رابع رح کے انتقال کے بعد ایک بڑی جماعت مولانا کو امیرشریعت بنانا چاہتی تھی لیکن عین موقع پر انہوں نے انکار کردیا تھا اور اپنی شاندار حکمت عملی سے امت میں اتحاد کی فضا قائم کردی تھی جس سے متاثر ہو کر مولانا فقیہ الدین دہلوی نے کہاتھا کہ مجھے فخر ہے مولانا ولی رحمانی پر جنہوں نے اپنی ذات کو عہدے سے الگ رکھا اور ایسی حکمت عملی اپنائ جس سے امارت شرعیہ کو دو متفق علیہ امیر شریعت ملے.

اگر تلاش کئےجائیں تومزید ایسے واقعات مل سکتےہیں جس پرغور کرنے سے عہدے کےتئیں مولانا کی بےرغبتی ظاہرہوتی ہو لیکن تحریر کے طویل ہوجانے کا خوف دامن گیرہے اور مقصد سے ہٹ جانے ڈر مانع ہے ورنہ مزید مثالیں پیش کردی جاتیں ان سب کے باوجود جس عہدے کو مولانا نےقبول کیا تو صرف اسلئے کہ ان سے بہتر کوئی اس عہدے پرکام نہیں کرسکتا تھا خواہ بورڈ کے جنرل سکریٹری کاعہدہ ہویا بہاراڑیسہ وجھارکھنڈ کے امیر کا عہد ہ ہو یا کوئ اور عہدہ یہی وجہ ہے کہ مولانا جس منصب پرفائزہوئے اس کا نہ صرف پاس ولحاظ رکھا بلکہ حق اداکردیا بالخصوص اگر امارت شرعیہ کی بات کی جائے تو امیر شریعت منتخب ہونے کے بعد امارت کے کام کو جس تیزی سے انہوں نے نے آگے بڑھایاہے وہ انہیں کا حصہ ہے امارت پبلک اسکول کا قیام دارالقضاء کی توسیع اور بیت المال کا استحکام وغیرہم جیسے امور چیخ چیخ کر مولانا کی بے پناہ صلاحیتوں اور اخلاص کے جذبے کی شہادت دیتےہیں.

ریٹائرمنٹ کے قانون کی بات بھی ناقص طریقے سے کی جاتی ہے سچ یہ ہے کہ امارت میں ریٹائرمنٹ کاقانون بھی مولانا نے نہیں بنایا ہےبلکہ سابق امیر شریعت مولانا نظام الدین صاحب نےبنایاتھا اور حسب موقع عمل بھی کرایاتھا پھر خصوصی اختیارات کااستعمال کرتے ہوئے توسیع بھی دی تھی جیساکہ ابھی موجودہ امیرشریعت نے دی ہے مطلب یہ کہ موجودہ امیر شریعت نے ریٹائرمنٹ کے معاملے میں کچھ بھی نیا نہیں کیا ہے سب کچھ وہی ہورہاہے جو اس پہلے ہوچکاہے اور قانون پر عمل توکراناہی چاہیے کہ قوانین کاغذوں پرسجانےکےلئے نہیں بنائےجاتےہیں کون اس کی زد پرآئیگا اورآرہاہے یا کون نہیں آئیگا اس کی فکر توانصاف کے تقاضوں کےخلاف ہے اسلئے مولانا کو اس کی فکر نہیں ہے

یہ وہ حقائق ہیں جن سے وہ لوگ زیادہ آگاہ ہیں جنہیں حضرت مولانا کے زیر نگرانی کام کرنے کا موقع ملاہے یا انصاف کی نگاہ سے چیزوں کوسمجھتے پرکھنے اور دیکھنے کےعادی ہیں ہاں یہ سچ ہے کہ مفاد پرستوں اور ضمیر فروشوں کو مولانا منھ نہیں لگاتےہیں طاقتوں کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کے بجائے اس کا مقابلہ کرتےہیں اصول کی پاسداری کرتےہیں اور ملی مفادات کے تحفظ کےلئے بے خوف ہوکر وہ سب کچھ کرجاتےہیں جو کرناچاہئے جس کے نتیجے میں دوست دشمن اور بہت دشمن دوست ہوجاتے ہیں لیکن مولانا کو اس کی پرواہ نہیں ہوتی اسلئے کہ انہیں روز جزا پر یقین ہے جہاں ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ مل جائے گا اور کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی

یہ وہ باتیں ہیں جنہیں عصبیت زدہ آنکھیں نظرآنداز کررہی ہیں لیکن اس سے کیافرق پڑتاہے کہ کام کرنے والے اپنا کام کر رہے ہیں اور ان شا اللہ آخری سانس تک کرتےرہیں گے

سازشی عناصرنےمتعدد دفعہ مولانا کی راہ میں روڑے اٹکائے بسااوقات اپنوں نے بھی ازراہ ہمدردی آندھیوں کےخلاف چراغ جلانے سے منع کیا لیکن وہ بندہ زبان حال سےیہ کہ کر آگے برھا کہ

جلانےوالےجلاتےہی ہیں چراغ آخر

یہ کیا کہا کہ ہواتیز ہے زمانے کی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker