ہندوستان

جمہوری حقوق میں رکاوٹ ڈالنا بند کریں

نوجوانوں کو پاپولر فرنٹ کی مہم ’’بے خوف جیو؛ باعزت جیو‘‘ میں شامل ہونے کے سبب ہراساں کیا جا رہا ہے

پاپولر فرنٹ آف انڈیا کی جانب سے پریس کلب آف انڈیا، میں منعقدہ پریس کانفرنس سے شرکاء کا خطاب

نئی دہلی۔ ۲۲؍جولائی: (پریس ریلیز)’’وزارت داخلہ کی ماتحت دہلی پولیس اور اتر پردیش پولیس ، جنہوں نے ہجومی تشدد کے واقعات کو روکنے کے لیے اب تک کوئی کارگر قدم تو نہیں اٹھایا، لیکن گذشتہ ایک ہفتے سے پُرامن مہم میں شامل ہونے کی وجہ سے مسلم نوجوانوں کو ضرور نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان نوجوانوں کو پاپولر فرنٹ کی قومی مہم ’’بے خوف جیو؛ باعزت جیو‘‘ میں شامل ہونے کے سبب ہراساں کیا جا رہا ہے۔ اس طرح سے ہراساں و پریشان کیا جانا شہریوں کے آئینی حقوق اور جمہوری طریقہ کار میں رکاوٹ ڈالنے کے سوا کچھ نہیں ہے۔‘‘ ان خیالات کا اظہار پاپولر فرنٹ آف انڈیا دہلی کے صوبائی صدر محمد پرویز احمد نے پیر کے روز نئی دہلی کے پریس کلب آف انڈیا میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران کیا۔محمد پرویز نے کہا کہ ’’جدید تاریخ میں ہم نے کبھی ایسا نہیں سنا کہ کچھ لوگ اپنے مذہبی عقائد کی خاطر گائے کا گوشت کھانے یا گائے رکھنے کے الزام میں بے قصور لوگوں کو مار مار کر ان کی جان لے لیتے ہوں۔۲۰۱۴ میں بی جے پی کی سرکار بننے کے بعد سے تقریباً ۱۸۰ بڑے اور ۳۳ چھوٹے ہجومی حملے سامنے آئے ہیں جن میں پچاس سے زائد لوگوں کو دن کے اجالے میں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔کچھ واقعات میں تو لوگوں کو زندہ جلا کر مار دیا گیا۔ بھیڑ کا شکار بننے والوں میں تقریباً ۵۶فیصد غریب مسلمان ہیں۔ دوسری مودی حکومت کے آنے اور امت شاہ کے وزیر داخلہ بننے کے بعد سے مسلمانوں اور پسماندہ طبقات کے خلاف ہجومی تشدد کے واقعات رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے ہیں؛ بلکہ سڑکوں پر ہونے والے حملے گھناؤنی حد تک بڑھ گئے ہیں۔ جھارکھنڈ جیسی قبائلی ریاست میں حال ہی میں کچھ ہندوتوا غنڈوں نے تبریز انصاری نامی ایک نوجوان کو بڑی بے رحمی سے قتل کر دیا۔ مظلوم انصاری، علیم الدین انصاری، معراج انصاری، ولی خان جیسے ناموں کی ایک لمبی فہرست ہے۔ تبریز انصاری پر ایک بھیڑ نے حملہ کیا، اسے گھنٹوں بے دردی سے پیٹتے رہے اور جے شری رام اور جے ہنومان بولنے پر مجبور کیا۔اس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں دائیں بازو کے غنڈوں کو کھلا اشارہ دے دیا گیا ہے اور لاقانونیت عام ہو گئی ہے۔ سپریم کورٹ کی ہدایات کے باوجود، مودی حکومت نہ تو ہجومی تشدد کے واقعات کو کم کرنے کے لیے تیار ہے اور نہ ہی پارلیمنٹ میں کوئی قانون پاس کرنا چاہتی ہے۔ مرکزی حکومت کے اس رویے نے اقلیتوں کے درمیان ایک خوف کی حالت پیدا کر دی ہے۔مرکزی و ریاستی حکومت کا یہ فریضہ ہے کہ وہ جمہوریت کے آئینی طریقہ کار کو تسلیم کرے اور اسی کے مطابق عمل کرے، جو کہ موجودہ وقت میں نظر نہیں آ رہا ہے۔ دستور حکومت اور شہریوں کے درمیان ایک معاہدہ ہے۔ ملک کا آئین اپنے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے اور انہیں عزت اور وقار کے ساتھ جینے دینے کی ضمانت دیتا ہے۔شہریوں کے درمیان غیرقانونی طریقے سے پیدا کیا گیا خوف نہ صرف ان کی زندگیوں کو تباہ کرتا ہے بلکہ ان کے وقار کو بھی پامال کرتا ہے۔ لہٰذا سماجی تنظیموں کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ لوگوں کو ان کے حقوق سے واقف کرائیں۔ایسے ماحول کو پیش نظر رکھتے ہوئے، پاپولر فرنٹ آف انڈیا نے ’’بے خوف جیو؛ باعزت جیو‘‘ کے مرکزی موضوع کے ساتھ ایک ملک گیر مہم کی شروعات کی ہے۔ اس کے تحت ہم ملک بھر میں پوسٹر مہم، ہینڈبل کی تقسیم، نکّڑ ملاقات، سیمینار اور عمومی اجتماعات کا انعقاد کر رہے ہیں۔ دہلی اور اترپردیش میں پوسٹر چسپاں کیے جانے کے بعد، دونوں جگہ کی پولیس نے مسلم نوجوانوں اور پاپولر فرنٹ کے ممبران کو پریشان کرنا شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے شاملی اور میرٹھ میں جھوٹے مقدمات میں پھنسا کر دو لوگوں کو گرفتار کیا۔ ادھر دہلی پولیس پوچھ تاچھ کے نام پر بار بار ہمارے آفس پر دھاوا بول رہی ہے۔ وقفے وقفے سے افسران ہمارے دفاتر پر آ رہے ہیں، لیکن ہم نے اس کی مخالفت نہیں کی۔ تاہم آئے دن آفس کے انتظامی امور میں مداخلت کو کسی بھی صورت درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔جب مہم کی وجہ سے ایک شخص کی گرفتاری کے بعد ہم نے شاملی ایس ڈی ایم کے سامنے ضمانت کی درخواست دی، تو ایس ڈی ایم نے معاملے کی سنوائی تک نہیں کی اور کاروائی کو آگے بڑھا دیا۔ میرٹھ میں، پوسٹر کے پیغام پر تعزیرات ہند کی دفعہ ۲۹۵ کا سہارا لیا گیا۔ ہمیں حیرت اس بات کی ہے کہ اس پیغام سے کس کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے؟ہمارے پوسٹر پیغام میں کون سی چیز غیرقانونی ہے؟ کیا لوگوں کو بے خوف جینے اور باعزت جینے کا پیغام دینا کوئی جرم ہے؟ جب ہم لوگوں سے بے خوف ہوکر جینے کے لیے کہتے ہیں، تو اس پیغام سے بھگوا حکومتوں اور ان کی پولیس کیوں پریشان ہو جاتی ہے۔ اگر ایسا ہے ، تو اس کا مطلب حکومت اور پولیس نفرت انگیز جرائم کو انجام دینے والوں کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔ اس مہم کے ذریعہ، ہم سول سوسائٹی سے لنچنگ کے خلاف آگے آنے کی اپیل کرتے ہیں۔ ہندوستان کی خاموش اکثریت کو آگے بڑھ کر ان بددماغ، پرتشدد بھیڑ کے پیچھے چھپے اصل لوگوں کو نکال باہر کرنا چاہئے جو پولیس کے ایک طبقے کی خاموش مدد سے کام کرتے ہیں، جیسا کہ ہم شمالی ہند کی کئی ریاستوں میں دیکھ چکے ہیں۔ ہمیں ان فرقہ پرست غنڈوں کو روکنے کے لیے قانونی طور پر جائز طریقے اپنانے چاہئیں۔ ماب لنچنگ کو روکنے کا پہلا اصول یہ ہے کہ بھیڑ کا ڈر دلوں سے نکال دیا جائے۔خوف میں جی رہے مسلمانوں، دلتوں، عیسائیوں اور دیگر قوموں کو مؤثر نیٹ ورکنگ اور تعاون کے ذریعہ اپنے وجود کے وقار کو بحال کرنا ہوگا۔ تعزیرات ہند میں قاتل ہجوم کو سزا دینے کے لیے کوئی مناسب شق موجود نہیں ہے۔ اسی لیے نئے قوانین بنانے کے لیے دباؤ بنایا جائے تاکہ قتل اور آگزنی میں ملوث گلی کے غنڈوں کو سزا مل سکے۔ ان مجرموں کو کٹگھرے میں کھڑا کرنے کے لیے لوگوں کو مؤثر قانونی منصوبہ بندی کرنی پڑے گی اور ہجوم کے پیچھے کام کرنے والی اصل طاقتوں کو روکنے کے لیے مقامی سطح پر حکمت عملی تیار کرنی ہوگی۔ہم جمہوری و قانونی طریقوںپر عمل کر رہے ہیں۔ لہٰذا ہم پولیس اور مرکزی و اترپردیش حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ عزت اور وقار کے اس عظیم پیغام کو عام کرنے کے لیے مسلم نوجوانوں اور ہماری تنظیم کو نشانہ بنانا اور ہراساں کرنا بند کریں۔ساتھ ہی ہم میڈیا سے اس ناانصافی کو بے نقاب کرنے کی بھی اپیل کرتے ہیں؛ اس پیغام میں ہمارا ساتھ دیں اور بے خوف جینے اور باعزت جینے میں اقلیتوں و پسماندہ طبقات کی مدد کریں۔‘‘پریس کانفرنس میں موجود عہدیداران:محمد پرویز احمد، صوبائی صدر، پاپولر فرنٹ آف انڈیا، دہلی-محمد الیاس، صوبائی جنرل سکریٹری، پاپولر فرنٹ آف انڈیا، دہلی-محمد ساجد قاسمی، ایڈھاک کمیٹی ممبر، اتر پردیش، پاپولر فرنٹ-مفتی محمد شہزاد، ایڈھاک کمیٹی ممبر، اتر پردیش، پاپولر فرنٹ۔

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker