ہندوستان

کرناٹک کا ناٹک ختم، سوامی سرکار گرگئی

حمایت میں 99 اور مخالفت میں 105 ووٹ پڑے، بی جے پی کو واضح اکثریت، یدی یورپا اگلے وزیر اعلیٰ ہوں گے، رائے شماری سے قبل کانگریس اور بی جے پی کارکنوں میں جھڑپ، 48؍گھنٹوں کے لیے دفعہ 144 نافذ ، سپریم کورٹ میں آج آزاد امیدواروں کی عرضداشت پر سماعت

بنگلورو: 23؍جولائی(مدثر احمد) گزشتہ کئی دنوں سے چل رہے کرناٹک کا سیاسی ناٹک آج شام ساڑھے سات بجے ختم ہوگیا۔ کرناٹک اسمبلی میں کمارا سوامی اکثریت ثابت نہیں کرسکے اور حکومت گرگئی۔ مخلوط حکومت نے اسمبلی میں اپنی اکثریت ثابت کرنے میں ناکامی دکھائی ہے جس کی وجہ سے کرناٹک میں 14 ماہ قبل عمل میں آنے والی مخلوط حکومت کاخاتمہ ہوچکا ہے۔جے ڈی ایس اور کانگریس نے اسمبلی انتخابات کے بعد ریاست میں مخلوط حکومت کا قیام کیا تھا جس میں کانگریس ،جے ڈی ایس ،بی ایس پی اور آزاد امیداروںکی تائید حاصل کی گئی تھی،لیکن حکومت کے ایک سال ہونے تک یہ سیاسی سازشوں کاشکار ہوئی اور جے ڈی ایس و کانگریس کے اراکین اسمبلی نے حکومت سے بغاوت کا اعلان کرتے ہوئے استعفیٰ دیا تھا ۔ اراکین کے استعفے کےبعد انہیں باغی اراکین اسمبلی قرار دیا گیا تھا اور جے ڈی ایس اور کانگریس نے حکومت بچانے کیلئے ان باغی اراکین اسمبلی کومنانے کی ہر ممکن کوشش کی تھی۔کانگریس اور جے ڈی ایس نے حکومت میں پیدا ہونے والی داراروں کی وجہ بی جے پی کو ٹھہرایا تھااور مسلسل مخلو ط حکومت نے یہ الزام بی جے پی پرتھوپا تھاکہ بی جے پی حکومت کوختم کرنے کیلئے اندورنی سازش کررہی ہے ،آپریشن کنول کے ذریعے سے کانگریس و جے ڈی ایس کے اسمبلی کو خرید کر وہ ریاست میں حکومت گرانے اور اپنی حکومت بنانے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے ۔پچھلے دس دنوں سے اپوزیشن بی جے پی نے اسمبلی میں مطالبہ کیا تھاکہ حکومت اپنی اکثریت ثابت کرے،لیکن کمارسوامی حکومت نے پچھلے ایک ہفتےسے مسلسل تاریخیں بدلتے ہوئے اکثریت ثابت کرنے میں تاخیرکی اور حکومت کوبچانے کیلئے آج شام تک آخری مہلت مانگی تھی۔آج شام طئے شدہ وقت سے دو گھنٹے زیادہ ہونے کے بعد آخرکار کمارسوامی کو فلورٹیسٹ میں اپنی اکثریت ثابت کرنے کیلئے مجبور ہونا پڑا۔میاجیک نمبر 103کو حاصل کرنے میں مخلوط حکومت ناکام ہوئی۔حکومت کی تائید میں99 ووٹ حاصل ہوئے،جبکہ حکومت کی مخالفت میں105 ووٹ دئیے گئے۔کل دیر رات کو ہی بی جے پی کے اسمبلی لیڈر بی ایس یڈویورپانے اسپیکر سے مطالبہ کیا تھاکہ وہ آج رات ہی اکثریت ثابت کریں،لیکن اسپیکر نے شورشرابے کے درمیان آج یعنی منگل کی صبح دس بجے سے اسمبلی کی کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا ، اس کے مطابق آج صبح جب اسمبلی کی کارروائی شروع ہوئی تو اسپیکر رمیش کمار اپنے ساتھ اپنااستعفیٰ بھی لے آئے تھے اور انہوںنے آتے ہی اعلان کیا کہ میں اپنا استعفیٰ کبھی بھی دینے کیلئے تیار ہوں،بس آج حکومت اپنی اکثریت ثابت کرے۔اس سے قبل اسمبلی میں بحث کے دوران کمارا سوامی نے کہاکہ میں وزیراعلیٰ کا عہدہ چھوڑنے کےلیے تیار ہوں، اس دوران انہو ںنے کہاکہ میں خوشی خوشی اس عہدے کو چھوڑنے کےلیے تیار ہوں، انہوں نے یہ بھی کہاکہ میرا ارادہ ٹرسٹ ووٹ کو آگے کھینچنے کا نہیں ہے میں ایوان کے اسپیکر اور عوام سے معافی مانگتا ہوں۔ حکومت گرنے کے بعد بنگلورو میں آئندہ 48 گھنٹوں کےلیے دفعہ 144 نافذ کردیاگیا ہے ساتھ ہی بنگلورو میں سبھی شراب کی دکانیں اور بار کو بھی بند کردیاگیا ہے۔پولس کمشنر آلوک کمار نے بتایاکہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ اطلاع کے مطابق آج اکثریت کی ووٹنگ سے قبل بنگلورو کے ایک فلیٹ کے باہر بی جے پی او رکانگریس کارکنان کے درمیان جھڑپ بھی ہوگئی تھی، ریس کورس روڈ پر ایک فلیٹ میں آزاد امیدوار ٹھہرے ہوئے تھے، کانگریس کے کارکنان وہاں پہنچ گئے کچھ دیر میں بی جے پی کے کارکنان بھی وہاں پہنچ گئے پھر دنوں پارٹی کے کارکنان آپس میں بھڑ گئے ۔ واضح رہے کہ کرناٹک اسمبلی میں سوموار کو رات بھر چلے سیاسی ڈرامے کے بعد اب اسمبلی اسپیکر کے آر رمیش کمار نے باغی ممبران اسمبلیوں کو ملنے کےلیے بھی بلایا ساتھ ہی اکثریت ثابت کرنے کےلیے ڈیڈ لائن بھی دی تھی، اسپیکر نے کمارا سوامی سرکار کو منگل شام چھ بجے تک اکثریت ثابت کرنے کا وقت دیا تھا۔غور طلب ہے کہ اسپیکر نے سوموار کو آدھی رات کے بعد ووٹنگ کرائے بغیر ہی ایوان کی کارروائی روک دی تھی۔ اس سے قبل کورٹ میں آج پھر معاملے کی شنوائی ملتوی ہوگئی، باغی ممبران اسمبلی کے وکیل مکل روہتگی نے سپریم کورٹ میںکہاکہ اسپیکر اکثریت ثابت کرنے والی ووٹنگ کو جان بوجھ کر لٹکانے کی کوشش کررہے ہیں، روہتی نے عدالت سے یہ گزارش کی کہ وہ اسپیکر کو حکم دیں کہ آج ہی شام چھ بجے تک کانگریس، جے ڈی ایس اتحاد کی تحریک اعتماد کے لیے ووٹنگ کی جائے۔ عدالت میں اسپیکر کی جانب سے کہاگیا کہ آج شام تک تحریک اعتماد پر ووٹنگ ہونے کی امید ہے اس پر عدالت نے آزاد امیدوار کی جانب سے دائر عرضداشت پر شنوائی کل یعنی بدھ تک کےلیے روک دی۔ کماراسوامی کی حکومت گر جانے کے بعد بی جے پی کے خیمہ میں خوشی کی لہر نظر آئی۔ اسمبلی کے باہر بی جے پی کارکنان نے جشن منایا۔ ادھر ایوان میں سابق وزیر اعلیٰ اور بی جے پی کے لیڈر بی ایس یدی یورپا وکٹری سائن (جیت کا نشان) دکھاتے نظر آئے۔ ان کے ساتھ بی جے پی کے تمام ارکان اسمبلی موجود تھے۔اسمبلی میں کمارسوامی حکومت اکثریت نہ ثابت کرنے کے بعد اپوزیشن لیڈر بی ایس یڈویورپانےنامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہاکہ آج کی جیت جمہوریت کی جیت ہے،14 مہینوںکی حکومت میں عوام تنگ آچکی تھی،آنے والے دن ریاست کیلئے ترقی کیلئے سازگار دن ہونگے،ہماری حکومت کسانوںکی فلاح وبہبودی کیلئےاولین ترجیح دیگی۔کمارسوامی حکومت اقلیت میں آنے کے بعد کمارسوامی اپنا استعفیٰ گورنر کو سونپ دیا ہے ،اس دوران بی جے پی کی قانون ساز کمیٹی کی نشست کل صبح پارٹی دفتر میں منعقد ہونے والی ہے جس میں یڈویورپا کو لیڈر چنا جائیگا،اس کے بعد یڈویورپا راج بھون پہنچ کر گورنر سے حکومت بنانے کیلئے پیشکش کرینگے،چونکہ بی جے پی کو اکثریت حاصل ہوئی ہے،اس لئے گورنر انہیں حکومت بنانے کیلئے منظوری دینگے،جمعرات یاجمعہ کے دن یدی یورپا کرناٹک کے اگلے وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف اٹھائینگے۔اطلاعات کے مطابق جمعرات کو ہی ترجیح دے رہے ہیں۔

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker