مضامین ومقالات

ابلہ ناری : مہا بھارت سے نیا بھارت تک

ڈاکٹر سلیم خان

سنگھ پریوار کو اپنےسنسکار پر بہت ناز ہے لیکن وہ سنسکاری لوگ انتخاب جیت نہیں پاتے اس لیے بی جے پی کو الیکشن میں کامیابی کے لیے غنڈوں بدمعاشوں کو ٹکٹ دے کر انتخاب لڑانا پڑتا ہے اور سنگھ کو مجبوراً ان جاہلوں کا ساتھ نبھانا پڑتا ہے۔ اس کی مشہور مثال تو بھوپال کی رکن پارلیمان پرگیہ ٹھاکر ہے جس نے گوڈسے کو دیش بھکت قرار دے کر اپنی دیش بھکتی کا ثبوت دیا لیکن وہ اکیلی نہیں ہیں ایسے بے شمار ہیرے بی جے پی کے دامن میں جڑے ہیں۔ ان میں سے ایک ا تر پردیش کے بلیّا حلقہ انتخاب سے کامیاب ہونے والے رکن اسمبلی سریندر سنگھ ہیں ۔ انہوں ساکشی مشرا کے معاملے میں ایک متنازعہ بیان دے کر اپنی جہالت کا ایک اور ثبوت دے دیا ۔ وہ ایسی حرکات پہلے بھی کرتے رہے ہیں پارٹی نے ان کی سرزنش کرنے زحمت کبھی نہیں کی ۔ یہ وہی صاحب ہیں جنہوں نے گزشتہ سال جولائی کے مہینے میں عصمت دری کے بڑھتے واقعات پر تبصرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا تھا کہ میں دعوے کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ بھگوان رام بھی آجائیں گے تو ان پر قابو پانا ممکن نہیں ہے۔

اس احمقانہ بیان سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ سریندر سنگھ کے نزدیک آبروریزی کی اہمیت کس قدر کم ہے اور وہ اس عفریت کے آگے اپنے آپ کو کتنا بے دست پا محسوس کرتے ہیں ۔ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے مسلمانوں سے جئے شری رام کا نعرہ لگوانے والے خود اپنے دیوتا کی طرح توہین کرتے ہیں ۔ یہ بیان اگر کسی اور سیاسی جماعت کے رہنما کا ہوتا تو سنگھ پریوار اسے ہتک ٹھہرا کر عدالت کے دروازے پر دستک دیتا لیکن ان احمقوں کے خلاف کورٹ میں جا کر اپنا وقت کون ضائع کرے ؟رام کی تضحیک کے بعد سریندر سنگھ نے عصمت دری کے واقعات پر قابو پانے کا یہ طریقہ سجھایا کہ سارے لوگ سماج کے سبھی لوگوں کو اپنے خاندان کا حصہ سمجھیں اور سبھی کے ساتھ اپنی بہن جیسا سلوک کریں ۔ انسانیت کی طاقت پر ہی ان سانحات پر قابو پانا ممکن ہے۔ سریندر سنگھ کی بدزبانی سے سرکاری افسران بھی محفوظ نہیں ہیں ۔ انہوں نےسال بھر پہلے ایک خطاب میں کہا تھا کہ ’’افسران سے اچھا کردار طوائفوں کا ہوتا ہے۔ وہ پیسہ لے کر کم از کم اپنا کام تو کرتی ہیں اور اسٹیج پر ناچتی ہیں، لیکن یہ افسران تو پیسہ لے کر بھی آپ کا کام کریں گے کہ نہیں، اس کی کوئی گارنٹی ہی نہیں ہے‘‘۔ جو شخص کھلے عام اپنے افسران کے لیے بلا روک توک ایسے اہانت آمیز الفاظ استعمال کرتا ہو اور اس پر کوئی اعتراض نہ کیا جائے۔ اس پر نہ تو افسران کی یونین احتجاج کرے اور نہ ذرائع ابلاغ میں اس کا نوٹس لیا جائے۔ نہ حکومت کی جانب سے اس کی سرزنش کی جائے اور نہ پارٹی اس کو اپنی زبان پر لگام دینے کی تلقین کرتی ہو تو وہ کچھ بھی کرسکتا ہے۔

سنگھ پریوار کے لوگ اپنی بداعمالیوں کو چھپانے کی خاطر ہمیشہ مسلمانوں پر اوٹ پٹانگ الزامات لگا نے لگتے ہیں جیسا کہ بی جے پی رکن اسمبلی سریندر سنگھ ساکشی کے معاملے میں کہا کہ وہ اس کی مخالفت اس لیے کررہے ہیں کہ اجیتیش شادی شدہ اور بدکردار ہے ۔ نامہ نگار نے پوچھا ایسا تو بہت سارے لوگ کرتے ہیں ؟ اس پر سریندر سنگھ بولے ‘‘مسلم سماج میں 50 عورتیں رکھنے اور 1050 بچوں کو پیدا کرنے کی روایت ہے۔ یہ جانوروں والی خصلت ہے۔‘‘ کسی زمانے میں سنگھ کے لوگ مسلمانوں کے تعلق سے ‘ ہم پانچ ہمارے پچیس’ کا خیالی نعرہ لگاتے تھے ۔ اس کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ ہر مسلمان چار بیویاں رکھتا ہےاور ان سے پچیس بچے پیدا کرتا ہے۔ اس جھوٹ کے ذریعہ وہ ہندووں کو ڈرایا جاتا تھا کہ بہت جلد تم لوگ اقلیت میں ہوجاوگےاور مسلمان حکمراں بن جائیں گے۔اب سریندر سنگھ نے چار بیویوں کے بجائے پچاس اور پچیس بچوں کو ایک ہزار پچاس تک پہنچا دیا ہے۔ یہ روایت مسلمانوں میں تو کبھی پائی ہی نہیں جاتی تھی لیکن رامائن کے اندر راجہ دشرتھ کی چار بیویوں کا ذکر ضرور ملتا ہے۔ اجیتیش نے اپنی پہلی بیوی کے باوجود ساکشی سے شادی کرکے رامائن کےراجہ دشرتھ اور مہابھارت کے ارجن کی تقلید کی ہے۔ مہابھارت میں دھرتراشٹر اورگندھاری کے سو بیٹوں کے ساتھ ایک بیٹی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ سریندر سنگھ جی کو بتانا ہوگا کہ وہ کس وحشیانہ روایت کی پاسداری تھی ؟ بعید نہیں کہ ایسے جاہلوں کو خود اپنی ہندو روایات کا بھی علم نہیں ہو ۔

سریندر سنگھ نے چونکہ روایت ذکر چھیڑ ہی دیا تو مہابھارت میں خواتین کے ساتھ جو سلوک ہوا ہے اس کی یاددہانی ضروری معلوم ہوتی ہے۔مہا بھارت کی دروپدی کے بارے میں تو سب جانتے ہیں ارجن نے سوئمبر میں مچھلی کی آنکھ کا نشانہ لگا کر دروپدی کو ور مالا پہنائی تھی مگر نابینا ماں نے انجانے میں اسے پانچ بھائیوں میں تقسیم کردیا۔ اس غلط فہمی کو دور کرکے اصلاح حال کوئی مشکل کام نہیں تھا لیکن قدیم روایات کا پاس و لحاظ کرتے ہوئے کسی نے اس کی کوشش نہیں کی ۔ آگے چل یہ لوگ پنچالی کو جوے میں ہار گئے ۔ پانڈو کے عم زاد بھائی کوروں نے بھرے دربارمیں اپنی بھابی کو برہنہ کرنے کی کوشش کی لیکن وہاں موجود گرو درونا چاریہ تک نے اعتراض کی جرأت نہیں کی۔ وہ تو خیر کرشن نے اپنے چمتکار سے دروپدی کی عزت بچائی ۔ کیا اسی تہذیب پر سریندر سنگھ جیسے لوگوں کو فخر ہے؟

دروپدی کی مانند ۱۰۰ کوروں کی اکلوتی بہن دوہسالہ کی داستان اور بھی کم المناک نہیں ہے۔ دوہسالہ کی شادی سندھ کے راجہ جئے درتھا سے کردی گئی ۔ وہ اس پر طرح طرح کے مظالم ڈھاتا لیکن یہ ۱۰۰ بھائی اپنی بہن کی مدد کے لیے نہیں آتے۔ہستنا پور کے کورو سے بہتر تو راون تھا جو اپنی بہن سوروپ نکھا کی بے عزتی کاا نتقام لینے کے لیے سری لنکا سے ناسک چلا آیا ۔ جئے درتھا کا جبر و ظلم اپنی اہلیہ تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے دروپدی کو اغواء کرنے کی بھی کوشش کی اور اس جرم میں بھیم نے اس کا سرمنڈوا دیا ۔ مہابھارت کی جنگ میں ارجن کے بیٹے کو دوہسالہ کا شوہر قتل کرتا ہے اور اس کا بدلہ لینے کے لیے ارجن جئے ورتھا کی گردن اڑا دیتا ہے۔ جنگ جیت لینے کے بعد جب ارجن کی فوج سندھ کیجانب پیشقدمی کرتی ہے تو اس کی ہیبت سے دوہسالہ کا تخت نشین بیٹا مرجاتا ہے اس پر ارجن کہتا ہے کہ وہ جنگ کے لیے امن کی خاطر آرہا تھا ۔ امن کی خاطر فوج بھیجنے کی قدیم پرمپرا کل یگ میں بھی رائج ہے۔سندھ سے ارجن کو دوہسالا کے پوتے راجہ بناکر لوٹنا پڑتا ہے۔ مہا بھارت کی پراچین سنسکرتی میں دروپدی اور دوہسالہ جس جبر و استبداد کاشکار ہوئیں نیا بھارت میں میں ساکشی شرما بھی اسی ظلم کا جوجھ رہی ہے اور سرکار تین طلاق کا قانون بناکر مسلم خواتین پر احسان کرنے کا پاکھنڈ کررہی ہے ۔

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker