شمع فروزاں

ایشیا کے دل میں چند دن!

آخری قسط

 

فقیہ العصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

(سکریٹری وترجمان آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ)

چوں کہ ہم لوگوں کو بہت اشتیاق جامع ہرات کو دیکھنے کا تھا اور مغرب کا وقت قریب تھا؛ اس لئے ہم لوگ وہاں سے تیز تیز مسجد کی طرف روانہ ہوئے، اس مسجد کو ’’جامع شریف‘‘ کہا جاتا ہے، محمد حکم ناہض نے ’’ قاموس جغرافیہ افغانستان ‘‘ میں اور بعض دوسرے واقعہ نویسیوں نے لکھا ہے کہ پورے خراسان اور ماوراء النہر میں اس سے خوبصورت کوئی مسجد نہیں ہے، واقعی اس دعویٰ میں صداقت معلوم ہوتی ہے، اس مسجد کا صحن چار ہزار نو سو بیس مربع میٹر پر مشتمل ہے، قبلہ کی سمت دائیں اور بائیں نیز صحن کے دونوں طرف مسقف مسجد کے مختلف ہال ہیں، جاڑے کے موسم میں اسی حـصے میں نماز ادا کی جاتی ہے، دائیں بائیں اور سامنے تینوں طرف سے مسجد میں داخل ہونے کے دروازے ہیں، صحن میں وضوء کے لئے خوبصورت حوض ہے اور قبلہ کی مخالف سمت والے برآمدے میں ایک دیگ رکھی ہوئی ہے، جس کی چوڑائی ڈیڑھ میٹر اور گہرائی دو میٹر ہے، اس دیگ میں متبرک دنوں اور راتوں میں شربت بنایا جاتا اور حاضرین کو پلایا جاتا ہے، یہ پہلے آتش پرستوں کی عبادت گاہ تھی، جب یہاں کے باشندے مسلمان ہو گئے تو انہوں نے اس جگہ کو مسجد میں تبدیل کر کے اس کی تعمیر نو کی، اس کی دیواروں پر بہت خوبصورتی کے ساتھ نقشے بنائے گئے ہیں، میں نے ایران کے علاوہ کہیں ایسی آراستہ اور مزیّن دیواریں نہیں دیکھیں؛ چوں کہ ہرات کا علاقہ بھی ایران سے متصل ہے؛ اس لئے طرز تعمیر کی یکسانیت باعث تعجب نہیں، مسجد کے اندر دو عالیشان مینارہیں اور معلوم ہوا کہ چاروں طرف بحیثیت مجموعی بارہ مینارہیں۔

نماز کے بعد ہم لوگ یہاں سے قریب ہی جامع علامہ سعد الدین تفتازانیؒآئے، علامہ سعدالدین تفتازانیؒ کی اہمیت برصغیر کے کسی عالم کے لئے محتاج بیان نہیں ، اس مسجد میں علامہ تفتازانیؒ نے دو بار دو دو سال قیام کیا ہے،اور بلاغت ومعانی پر اپنی مشہور کتاب مطول کے مسودے کی اسی مسجد میں تبییض کی ہے، اس وقت اس مسجد میں’’ دارالعلوم عالی ہرات‘‘ قائم ہے، جس میں دورۂ حدیث اور اس کے بعد تخصصات تک تعلیم ہوتی ہے، دورۂ حدیث میں ۱۲۰؍طلبہ ہیں، یہاں کے ذمہ دار اعلیٰ حضرت مولانا جلیل اللہ صاحب دامت برکاتہم ہیں، جو بخاری کا درس دیتے ہیں، ان کی عمر ۹۰؍ سال سے متجاوز ہے، وہ کثیر التصنیف عالم ہیں، اور متعدد کتابوں کا فارسی میں ترجمہ کیا ہے، فارسی زبان میں ۳۰؍ جلدوں پر مشتمل تفسیر لکھی ہے، جن میں بعض جلدیں طبع ہو چکی ہیں اور بعض زیر طبع ہیں، اس حقیر کے ساتھ بڑی محبت سے پیش آئے، قاموس الفقہ اور جدید فقہی مسائل کی دل کھول کر تعریف کی اور فرمایا کہ مجھے آپ سے غائبانہ محبت ہے، بے حد شفقت کا معاملہ فرمایا، یہاں بہت سے علماء جمع ہوگئے، جن میں اس دارالعلوم کے اساتذہ بھی تھے اور شہر کی سر برآوردہ شخصیتیں بھی، ان میں ایک نمایاں نام حضرت مولانا صبغۃ اللہ صاحب کا ہے، جو مولانا جلیل اللہ صاحب کے صاحبزادے ہیں، یہ بھی صاحب تصنیف علماء میں ہیں، اور فقہ وفتاویٰ کا مرجع تصور کئے جاتے ہیں؛ چوں کہ یہ ایک بار اکیڈمی کے سیمینار میں تشریف لا چکے ہیں؛ اس لئے یہ پہلے سے مانوس تھے،یہیں نماز مغرب ادا کی گئی، امام صاحب نے بڑی نفیس قرأت کی اور افغانستان میں ہر جگہ ہی ائمہ مساجد بہت عمدہ قرأء ت کرتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ ہرات عہد تابعین ہی سے علماء کا مرکز رہا ہے، اس کے قرب وجوار میں بھی بہت سے فقہاء ومحدثین اور صوفیاء ومجاہدین آسودۂ خاک ہیں، مشہور حنفی فقیہ ابو جعفر ھندوانی کا وطن’’ ہِندوان‘‘یہاں سے صرف چار کیلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، یہیں سے قریب ایک قصبہ گلِ رانا ہے جو شہر بند تعلقہ میں پڑتا ہے، مصابیح کے مصنف محی الدین بن فرّا بغویؒ (۴۳۶– ۵۱۶ ھ) یہیں کے رہنے والے تھے، بعض اہل علم نے اس قصبہ کا نام ’’ یغشور‘‘ لکھا ہے، یہاں سے ۶۰؍کیلومیٹر کے فاصلے پر سلسلۂ چشتیہ کے مؤسس شیخ مودود چشتیؒ(۴۳۰–۵۲۷ھ ) کا وطن چِشت ہے،۳۵؍کیلو میٹر کے فاصلے پر کَرّوخ واقع ہے، ابوالحسن کروخ(۴۶۲– ۵۴۸ھ ) یہیں کے رہنے والے تھے، جوسنن ترمذی کے مشہور ناقلین ہیں، ہندوستان میں ترمذی کا جو نسخہ متداول ہے، وہ ان ہی کے واسطہ سے ہے،فاتح عراق عبد اللہ بن عامرؓ (۴–۵۹ھ) کی قبر یہاں سے دو سو کیلومیٹر کے فاصلے پر ہے، غرض کہ فارسی شاعر کے بقول:

زفرق تا بقدم ہرکجا کہ می نگرم

کر شمہ دامنِ دل می کَشد کہ جا ایں جا ست

’’سر سے لے کر پاؤں تک جہاں بھی دیکھتا ہوں، محبوب کا کرشماتی حُسن دل کو اپنی طرف کھینچتا ہے کہ یہی جگہ اصل جگہ ہے‘‘۔

اگلی صبح ۳۰؍جون ۲۰۱۹ء کو ہم لوگ بذریعہ فلائٹ کابل واپس ہو گئے، آج دو اداروں کو دیکھنے کا موقع ملا، ایک دارالعلوم افغان، اس کے بانی اور سرپرست اعلیٰ روس افغانستان جنگ کے مشہور مجاہد ملا عبدالسلام ضعیف ہیں، ملا ضعیف پاکستان میں طالبان کے سفیر تھے؛ لیکن امریکہ کے مطالبہ پر نہایت بے شرمی کے ساتھ حکومت پاکستان اور اس کے سربراہ پرویز مشرف نے ان کو امریکہ کے حوالہ کر دیا، ظاہر ہے یہ عمل نہ اسلامی واخلاقی نقطۂ نظر سے درست تھا،نہ بین الاقوامی قانون کے لحاظ سے ،پھر امریکی فوج نے ان پر نہایت انسانیت سوز مظالم ڈھائے، انہوں نے اپنی جیل کی آپ بیتی تحریر کی ہے ،جس کو پڑھ کر آنکھیں اشکبار ہو جاتی ہیں اور امریکہ کے جبرواستبداد کی تصویر سامنے آتی ہے۔ بہر حال اب ملا ضعیف کی محنتوں کا رُخ تعلیم کی طرف ہے، انہوں نے لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے الگ الگ مدارس اور یونیورسیٹیاں قائم کی ہیں، اور بعض فلاحی ادارے بھی چلا رہے ہیں، ان کے ادارہ کا نام دارالعلوم افغان ہے،دارالعلوم افغان ظاہری ومعنوی دونوں پہلوؤں سے تیزی کے ساتھ ترقی کی طرف گامزن ہے، یہاں کا تعلیمی نظام بہت اچھا سمجھا جاتا ہے، مولانا محب اللہ یہاں کے شیخ الحدیث ہیں، مدرسہ کے مہتمم مولانا نورا اللہ عزام ہیں اور برادر خورد مولانا عبد الحق حماد بھی فعال مدرس ہیں، اور خوش اخلاق نوجوان ہیں، ظہرانہ کے بعد مسجد کے اندر اردو زبان میں میرا خطاب ہوا اور وہاں کے استاذ مفتی عبد الرؤف قاسمی صاحب نے بڑی عمدگی سے اور دلچسپ انداز میں پشتو میں ترجمہ کیا،میں نے اپنے خطاب میں عرض کیا کہ ایک تو وہ جہاد ہے، جو آپ نے انگریزوںاور روسیوں سے استعمار کے خلاف کیا ہے، اور اللہ تعالیٰ نے اس میں افغان قوم کو کامیابی عطا فرمائی؛ لیکن اس سے اہم جہاد وہ ہے، جس کی ضرورت فکری میدان میں ہے، جس کو ’’الغزوالفکری‘‘ کہتے ہیں، یعنی مغرب کی طرف سے اسلام کے خلاف جو شکوک وشبہات اٹھائے جاتے ہیں، علماء ان کا جواب دینے اور غلط فہمیوں کو دور کرنے کا کام کریں، یہ جہاد اپنے اثرات ونتائج کے اعتبار سے جہاد بالسیف سے بھی زیادہ اہم ہے۔

کابل میں ایک اہم جامعہ دارالعلوم عالی امام اعظم ابو حنیفہؒ بھی ہے، یہ حکومت کے زیر انتظام ہے، اس میں تین ہزار طلبہ پڑھتے ہیں، جن میں سے ایک ہزار دارالاقامہ میں رہتے ہیں،اس دارالعلوم کا کیمپس کافی بڑا ہے، عمارت بھی خوبصورت اور وسیع ہے، بڑا احاطہ ہے، اور اس میں چمن بندی کا بہت اچھا انتظام ہے، اتنا وقت نہیں تھا کہ وہاں جایا جائے؛ لیکن میری خواہش ہوئی کہ گاڑی پر بیٹھے بیٹھے کم سے کم احاطہ کا ایک چکّر ہی لگا لیا جائے؛ کیوں کہ اس کے نصاب تعلیم اور نظام تعلیم کو مرتب کرنے کے لئے امیر افغانستان امان اللہ خان نے علامہ سید سلیمان ندویؒ اور دیگر علماء کو دعوت دی تھی، بہر حال جب ہم لوگ پہنچے تو نماز عصر ہو چکی تھی اور دفاتر بند ہو چکے تھے، صرف’’ مدیر تنفیذ‘‘ جس کو فارسی میں ’’مدیر اجرائی‘‘ کہتے ہیں، سے سرسری ملاقات ہوئی، وہ چاہتے تھے کہ ہم لوگ تھوڑی دیر رُکیں؛ لیکن اس کا موقع نہیں تھا؛ اس لئے ہم لوگ واپس ہوگئے؛ تاہم یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ افغانستان میں حکومت کی طرف سے بھی بڑے بڑے مدارس کا انتظام ہے؛ اگرچہ وہاں سرکاری دارالعلوم میں بھی باضابطہ تعلیم وتعلم کا نظم ہے، اتنا بُرا حال نہیں ہے جو ہندوستان کے بورڈ کے مدارس میں دیکھا جاتا ہے؛ لیکن جیسے ہمارے ملک میں حکومت کے اثر سے آزاد دینی مدارس جس بہتری کے ساتھ تعلیمی خدمت کرتے ہیں، سرکاری بورڈ کے مدارس میں اس کا فقدان ہے، کسی قدر فرق کے ساتھ یہی کیفیت وہاں بھی ہے، اور یہ چنداں باعث تعجب نہیں؛ کیوں کہ آزاد مدارس میں ہزار کمیوں کے باوجود کچھ نہ کچھ اللہ کی رضا جوئی کا جذبہ ضرور باقی رہتا ہے، مگر حکومت کے زیر اثر چلنے والے اداروں میں یہ جذبہ عملاََ مفقود ہوتا جا رہا ہے، اور ایک دنیوی کاروبار کی طرح اس کو انجام دیا جاتا ہے۔

افغانستان رقبہ کے اعتبار سے ایک بڑا ملک ہے، ملک کی وسعت کی وجہ سے بھی اور امن وامان کی صورت کے لحاظ سے بھی میرا یہ سفر کابل اور ہرات تک محدود رہا، دوسرے علاقوں میں جانے کی نوبت نہیں آئی؛ لیکن فقہی سیمینار کی نسبت سے ملک کے اکثر علاقوں قندھار، بلخ، نیمروز، بدخشتان، مزار شریف وغیرہ کے منتخب علماء سے ملاقات ہوئی، ان میں ایک اہم نام محب گرامی حضرت مولانا عبدالہادی حماد (قندھار) کا ہے، جو اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے سیمینار میں تشریف لا چکے ہیں، وہ قندھار کے ایک دارالعلوم کے ذمہ دار ہیں، اور اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ اس ملک میں قندھار علماء کا سب بڑا مرکز ہے، اور گویا مذہبی راجدھانی ہے، اللہ تعالیٰ مولانا موصوف کو جزائے خیر عطا فرمائے کہ بڑی محبت سے پیش آئے اور ان کی ملاقات نے سفر کے لطف کو دوبالا کر دیا۔

افغانستان کے سفر میں بحیثیت مجموعی دل میں جو احساسات ابھرے، ان کا تذکرہ مناسب معلوم ہوتا ہے، ان میں پہلی بات استقامت اور ثابت قدمی ہے، اپنی ثابت قدمی اور قوت ایمانی کے ذریعہ انھوں نے انگریزوں اور روسیوں کو افغانستان سے نکلنے پر مجبور کر دیا، اور امریکہ بھی اپنی شکست کے آخری مرحلہ پر ہے؛ حالاں کہ ان کے پاس ان جدید ہتھیاروں کا عشر عشیر بھی نہیں تھا، جو اُن پر حملہ کرنے والی ظالم طاقتوں کے پاس تھا؛ اس لئے اس میں کوئی شبہ نہیں ان کے جذبۂ ایمانی اور اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی نصرت ومدد نے اس دور میں عہد صحابہ کی یاد تازہ کر دی، اس سفر میں بہت سے علماء ، عوام اور خواص سے ملاقات ہوئی، ان میں ایک تعداد ان لوگوں کی تھی، جن کے اعزہ اس مہم میں شہید کر دیے گئے؛ لیکن نہ کسی کی زبان پر آہ وبکا کے کلمات سننے میں آئے اور اور نہ ان کو اپنی تقدیر پر شکوہ سنج پایا؛ بلکہ ہر ایک کی زبان پر شکر کے الفاظ اور اللہ پر یقین کے کلمات ہی سنے گئے، یہ وہ اسوہ ہے جو پوری دنیا کے مسلمانوں کے لئے قابل توجہ ہے۔

دوسری چیز جو مجھے غیر معمولی محسوس ہوئی وہ ان کا جذبۂ قناعت ہے، جو ملک کئی دہوں سے جنگ کو جھیل رہا ہو، وہاں کے لوگ معاشی اعتبار سے کن حالات سے دو چار ہوں گے؟ یہ محتاج بیان نہیں؛ لیکن ان کے اندر غیر معمولی جذبۂ قناعت محسوس ہوا، کھونے کے بعد بھی پانے کا احساس اور لُٹ جانے کے بعد بھی استغناء کی شان ،ان کا عجیب وصف ہے، جو لوگ جس حال میں ہیں، وہ اس پر راضی ہیں، اہل مدارس سے لے کر عوام تک ہر جگہ یہ کیفیت محسوس ہوئی، سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بھی بہت کم ہیں؛ لیکن لوگ اپنے حالات پر مطمئن ہیں۔

تیسری چیز جس نے کم سے کم مجھے بہت متأثر کیا، وہ ہے علماء کے ساتھ عوام کا نیاز مندانہ رویہ، اس کا تجربہ دہلی میں واقع افغانی سفارت خانہ سے لے کر افغانستان تک ہر جگہ ہوا؛حالاں کہ موجودہ حکومت اور طالبان کے درمیان ٹکراؤ کی وجہ سے انہیں ہم جیسے حلیہ والے لوگوں سے بظاہر نفور ہونا چاہئے تھا؛ لیکن عوام تو عوام پولس، فورس اور سیکوریٹی گارڈ والے بھی ہم جیسے لوگوں کے ساتھ بڑی رعایت اور احترام کا معاملہ رکھتے ہیں، فجزاھم اللہ خیر الجزاء۔

بعض باتیں محل نظر بھی محسوس ہوئیں، ان میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس قدر دین داری اور مذہبیت کے باوجود نسلی اور لسانی تعصب کے اثرات اب بھی یہاں محسوس کئے جاتے ہیں، پشتو، تاجک، ازبک مختلف نسلوں کے مسلمان یہاں رہتے ہیں، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کے درمیان پوری ہم آہنگی نہیں ہے، مثلاََ روس سے جنگ کے دوران جو لوگ شہید ہوئے، جنھوں نے بڑے مجاہدانہ کارنامے انجام دیے، ان میں اوروں کی تو کہیں تصویر نظر نہیں آئی؛ لیکن احمد شاہ مسعود شہید کی تصویر ہر جگہ لگائی گئی ہے، نسلی تعصب بعض دفعہ لسانی تعصب میں بھی تبدیل ہو جاتا ہے؛ چنانچہ یہاں فارسی اور پشتو میں رقابت کا جذبہ نظر آتا ہے، علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے تعصبات کو ختم کرنے اور اسلامی اخوت کے رشتہ کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کریں؛ ورنہ اہل مغرب اس اختلاف کو ایک بڑی نزاع میں تبدیل کر سکتے ہیں، جیسا کہ مختلف مسلم ملکوں میں کیا ہے۔

ایک اور قابل توجہ بات یہ ہے کہ ہندوستان کی طرح وہاں بھی بے ضرورت چھوٹے چھوٹے مدارس کا سیلاب آیا ہوا ہے، چند اداروں کو چھوڑ کر ان اداروں میں محض پچیس پچاس طلبہ ہوتے ہیں، بلا ضرورت مدارس کی کثرت ملت کے کثیر سرمایہ کے ضیاع، عوام میں علماء کے تئیں بے اعتمادی اور خود علماء کے درمیان تنافس کا باعث بنتا ہے، بظاہر اس کا سبب یہ ہے کہ جنگِ روس کے درمیان افغانستان کے مسلمانوں کی بڑی تعداد نے پاکستان ہجرت کی، وہاں نوجوانوں نے دینی مدارس میں داخلہ لیا اور تعلیم حاصل کی، پھرجب وہ اپنے ملک واپس ہوئے تو انہیں مدارس کے قیام کے سوا کوئی اور راستہ نظر نہیں آیا؛ حالاں کہ اس وقت وہاں اسلامیات کے ساتھ عصری تعلیم کے اداروں، خدمت خلق کی تنظیموں اور زندگی کے مختلف میدانوں میں افراد کار کی ضرورت ہے۔

اس بات کا پورا امکان ہے کہ آئندہ افغانستان میں ایسی حکومت قائم ہو، جس میں شریعت اسلامی کا نفاذ عمل میں آئے، ایسی صورت میں ایسے علماء کی ضرورت پڑے گی، جن کو مختلف شعبہائے زندگی سے متعلق مہارت حاصل ہو؛ اس لئے ضروری ہے کہ مدارس صرف درس نظامی کی کتابوں تک اپنی تعلیم محدود نہیں رکھیں؛ بلکہ ضروری حد تک عصری علوم کو بھی شامل کریں؛ ورنہ علماء کی جدوجہد مساجد ومدارس کی چہار دیواریوں تک محدود ہو کر رہ جائے گی اور مسلمانوں کا اسلام سے صرف عبادات کی حد تک رشتہ قائم رہے گا، اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ فضلاء مدارس عصری تعلیم گاہوں کا بھی رُخ کریں اور اس میں اعلیٰ درجے کی صلاحیت حاصل کریں؛ تاکہ وہ زندگی کے تمام میدانوں میں ملک کی قیادت کر سکیں،وباللہ التوفیق۔

(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker