مسلم دنیا

ڈھاکہ میں ہندوستانی سفارتخانے کی طرف اسلامی آندولن کے بڑے پیمانے پر مارچ میں پولیس کی رکاوٹ

"ہندوستان سمیت دیگر ممالک میں مسلمانوں کو قتل اور ظلم کے خلاف مسلم دنیا کو مزاحمت پیدا کرنے کلئے  متحد ہونا ہوگا:اسلامی آندولن بنگلہ دیش"

ڈھاکہ، 2 اگست( مفتی ابو دردا قاسمی رحمانی ) اسلامی آندولن  بنگلہ دیش کے امیر مفتی سید محمد رضا کریم (پیر صاحب چَرمونائی) نے کہا کہ ہندوستان سمیت دیگر ممالک میں  مسلمانوں کو قتل کیا جارہا ہے ، بین الاقوامی سازشیں  مسلمانوں کے خلاف ہو رہی ہیں، اس وقت خدا مخالف قوتیں متحدہ طور پر مسلمانوں کا نام مٹانے  کے لئے کوشاں ہیں،۔مسلمانوں کو ان کی سازش کا خاتمہ کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان سیکولرازم کے نعرے کے باوجود مسلمانوں کو احکامات خداوندی پر عمل کرنے کی اجازت نہیں دے رہا ہے، ہندوستان کے مسلمان آزادانہ طور پر نقل و حرکت کرنے سے قاصر ہیں،ان کے گھر جل رہے ہیں، مسلم ماؤں اور بہنوں کی عصمت دری ہو رہی ہے، سیکولرازم کے نام پر ان کی دھوکہ دہی بڑھ گئی ، او آئی سی اور اقوام متحدہ بھارت میں اس فراڈ کے خلاف کوئی اقدام نہیں کررہے ہیں، اس وجہ سے مسلم ممالک کے لئے “مسلم اقوام متحدہ” کا قیام لازمی ہوتا جارہا ہے۔
انہوں نے یہ بات آج صبح بیت المکرم مسجد کے شمالی گیٹ پر ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ ہندوستانی انتہا پسند ہندو بنیاد پرستوں کے مسلسل ظلم و ستم ، تشدد اور عصمت دری اور مذہبی تقاریب میں رکاوٹوں سمیت ہندوستانی اقلیتی مسلمانوں پر مختلف جھوٹے بہانے کے خلاف، ہندوستانی سفارتخانے کی طرف احتجاجی مارچ شروع کیا گیا۔ پولیس نے پلٹن میں متحرک ہونے کے خلاف مزاحمت کی۔ اس وقت لوگوں میں کشیدگی پھیل گئی تھی اور قائدین کی مداخلت سے صورتحال پر قابو پایا جاسکا۔
بعد میں  ایک چھ رکنی وفد میمورنڈم پیش کرنے کیلئے ہندوستانی سفارت خانے گیا، لیکن سفارتخانے کے ہائی کمشنر نے احتجاج کرتے ہوئے قائدین کی یادداشت قبول کرنے سے انکار کر دیا اور  میمورنڈم پیش کرنے پر ان کی مذمت کی۔ اسلامی اندولن کے پریذیڈیم ممبر پرنسپل سید محمد مصد ق باللہ المدنی، سیاسی مشیر پروفیسر اشرف علی اقند، مولانا امتیاز عالم، شیخ فضل باری مسعود، الحاج عبد الرحمٰن کی سربراہی میں تھے۔
اجتماع سے پریذیڈیم ممبر پرنسپل سید محمد مصدق باللہ المدنی، سینئر نائب امیر مفتی سید محمد فیض الکریم، قائم مقام سکریٹری جنرل پروفیسر محبوب الرحمن،پروفیسر اشرف علی اقند، مولانا غازی عطاء الرحمٰن، مولانا احمد عبد القدیر،مولانا امتیاز عالم، پرنسپل شیخ فضل باری مسعود، مولانا احمد عبد القیوم، کے ایم عتیق الرحٰمن، ایڈووکیٹ شوکت علی حولادار، طلباء رہنما شیخ فضل الکریم معروف، مولانا نصارالدین، مولانا لقمان حسین جعفری، مولانا دلاور حسین ساقی اس ریلی کی قیادت کررہے تھے۔
مفتی سید محمد فیض الکریم کا کہنا ہے کہ مسلمانوں نے 800 سال ہندوستان پر حکومت کی،اگر مسلمان ہندوؤں پر ظلم کر رہے ہوتے تو ہندوستان آج اکثریت والی ہندو ریاست نہ ہوتا۔  انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے اس ملک میں ہندوؤں پر حملوں کے خلاف شدید احتجاج کیا ہے ، لیکن ہندو مختلف وجوہات کی بنا پر ہندوستان میں مسلمانوں کو مار رہے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کی غلط کاریوں پر سفارتی دباؤ نافذ کرے، ضرورت پڑنے پر بھارت کے خلاف بین الاقوامی عدالت میں حکومت کو مقدمہ دائر کرنا ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker