بلاگ

تو اِدھر اُدھر کی نہ بات کر..

 

اعظم خاں نے ابھی پہلا مصرع ہی پڑھا تھا۔ اور چونکہ مصرع میں ’’ادھر ادھر ‘‘ کے الفاظ تھے ، اس لیے انہوں نے ادھر ادھر دیکھ لیا۔بلکہ ٹھیک طرح سے دیکھا بھی نہیں تھا۔ البتہ ان کی نظر اسپیکر کی طرف نہیں تھی۔ اس پرا سپیکر نےچٹکی لی اور کہا :

’’آپ ادھر ادھر مت دیکھئے ، میری طرف دیکھ کر بات کیجئے‘‘

اسپیکر محترمہ رما دیوی اس وقت خوشگوارموڈ میں تھیں اور ان کے جملے میں کہیں سے کہیں تک بھی اعظم خاں کے لیے نفرت یا طنزکا پہلو نہیں تھا۔ یہ جملہ بہت ہی خوشگوار موڈ میں کہا گیا تھا، وہ مسکرارہی تھیں ۔ زیادہ سے زیادہ یہ   کہہ سکتے ہیں  کہ اسپیکر نے انہیں متنبہ کیا کہ وہ ان کی طرف دیکھیں۔ مگر اس  تنبیہ کے خاص محرک ’’ادھر ادھر ‘‘ کے الفاظ ہی تھے۔ اگر اعظم خاں اپنی تقریر کی ابتداء میں  سرے سے کوئی شعر پڑھتے ہی نہیں یاکوئی ایسا شعر یا مصرع پڑھتے ، جس میں ’ ’ ادھر ادھر‘‘ کے الفاظ نہ ہوتے تو شاید یہ صورت حال نہ ہوتی۔ جب  ادھر ادھر اورپھرمیری طرف دیکھنے کی بات  نکلتی ہی نہیں تو بات آگے بھی نہیں بڑھتی اور یہاں تک نہیں پہونچتی کہ تمہیں دیکھوں اور دیکھتا ہی جاؤں۔آپ اتنی ہی پیاری ہیں، میری بہن ہیں۔

شعر کی یہ خصوصیت ہے کہ جب وہ پڑھا جاتا ہے،خواہ  مشاعرے میں پڑھا جائے، بازار میں یا پھر ایوان میں تو سننے والوں کی  سماعت جس طرح متاثر ہوتی ہے اس طرح وہ سادہ جملوں سے متاثرنہیں ہوتی، نیز شعر پرسامعین کا رد عمل بھی الگ ہوتا ہے، شعر پر لوگ داد دیتے ہیں، جبکہ عام جملے کی محض تائید یا مخالفت کرتے ہیں۔ تو اس لحاظ سے شعر اور نثر میں بڑا فرق ہے۔یہ دونوں سامعین کو الگ طرح سے متاثر کرتے ہیں۔

اعظم خان اس اچانک دخل در معقولات سے جزبز ہوئے ، انہیں اس کی توقع نہیں تھی، کیونکہ وہ مستقل ادھر ادھر  نہیں دیکھ رہے تھے، ابھی تو انہوں نے اپنی تقریر شروع ہی کی تھی اور ایک دو بار وہ بھی کنکھیوں سے ادھر ادھر دیکھ لینا  یا تقریر کے ابتدائی سرے پر اسپیکر کی طرف نہ دیکھنا کوئی انوکھا واقعہ نہیں تھا، تقریبا سبھی ممبران ایسا ہی کرتے ہیں۔ مگر اچانک دخل در معقولات سے اعظم خاں اپنے اندرون میں معمولی ہی سہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئے، جس کا اظہار انہوں بظاہر اپنے ہاؤ بھاؤ اور باڈی لینگویج سے نہیں ہونے دیا۔ تاہم انہوں نے بھی اسپیکر کے جملے کو ہوا میں اڑانے کی کوشش کی تا کہ وہ اپنی خفت مٹاسکیں۔اورخفت مٹانے کے چکر میں انہوں نے بھی اسپیکرکو اسی طرح کی خوشگواری کے ساتھ جواب دیا۔

’’ میں تو آپ کو اتنا دیکھو کہ آپ مجھ سے کہیں کہ نظر ہٹالو…‘‘

اگر اس قت اعظم خاں کے سامنے اسپیکر رمادیوی نہ ہوکر اوم برلا ہوتے، تب شاید  ان جملوں پر توجہ ہی نہیں دی جاتی یا پھربات کسی اور طرف نکل جاتی۔مگر ہونا تو یہی تھا جو ہوکر رہا۔

جملے زبان سے پھسل چکے تھے،اور لوک سبھا میں شور بلند ہوچکا تھا، اس وقت اعظم خاں کو  احساس ہوا کہ زبان بھسل گئی ہے۔ اور   انہوں نے اس پھسلن کو دور کرنے کے لیے بہن بہن کی رٹ سے لگانا شروع کردی۔ مگر تب تک بہن بھی رد عمل کی نفسیات سے مغلوب ہوچکی تھیں۔

ابتدا میں اعظم خاں کے جملوں سے اسپیکر کو بھی کوئی خاص  بیزاری نہیں دکھ رہی تھی،مگر جب شور بلند ہونے لگا اور تسلسل کے ساتھ ہونے لگا تو انہیں اعظم خاں کے جملوں میں نا شائستگی کا احساس ہوا۔   اور پھر انہوں نے سخت اسٹینڈ لیا، یہاں تک کہ معافی کی بات بھی کہی، لوک سبھا کی کارروائی کے بعد وہ اور بھی زیادہ غضبناک ہوگئیں اور اسے تمام عورتوں کی توہین بتایا۔ لوک سبھا میں بھی انہوں نے  معافی کی بات  کہی تھی مگر روی شنکر پرشاد جی کے ذریعے معافی کے مطالبے کے بعد ہی کہی تھی۔

ویسے اعظم خان نے اچھا ہی کیا کہ معافی مانگ لی۔ اس سے مخالف رجحان رکھنے والے بھلے ہی وقتی طور پر خوش ہوئے ہوں  کہ انہوں نے ایک قد آور پارلیمنٹیرین کو معافی مانگنے پر مجبور کردیا ۔ مگر یہ کہ  معافی مانگنے سے اعظم خاں کا قد بلند ہی ہوا۔وہ معافی نہ مانگتے تو شاید کچھ برا کرتے۔اورجب اسپیکر مہودے ان کی بہن سمان ہیں تو معافی مانگنا اور بھی معیوب نہیں رہتا۔

ابوفہد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker