فقہ وفتاویٰمضامین ومقالات

قربانی کے مسائل

 

عبداللہ بن بابو خان بلساڑی

متعلم تدریب الافتاء دارالعلوم ماٹلی والا بھروچ

١. زندہ بکرے کی وزن کے ذریعہ خریدوفروخت درست ہے

 

سوال: ۱. زندہ بکرے کی وزن کے ذریعہ خرید و فروخت درست ہے یا نہیں؟

الجواب،حامداومصلیاومسلما!

زندہ جانورکو بائع ومشتری آپس کی رضامندی کے ساتھ وزن کے ذریعہ فروخت کریں، تویہ جائز ہے، بشرطیکہ زندہ جانور کا فی کلو کے حساب سے نرخ طے کر لیا گیا ہو، اور جانور کا وزن کرنے کے بعد اس کی قیمت بھی متعین کرلی گئی ہو؛

اسی طرح کا جواب فتاویٰ عثمانی میں جلدسوم کی کتاب البیوع میں دیا گیا ہے،

وما نص فیه ولکن عرف کونه کیلیاعلی عھد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، فھو مکیل أبدا، وإن إعتادالناس بیعه وزنا في زماننا، وما عرف کونه موزونا في ذلك الوقت فهو موزون أبدا، وما نص فیه ولم یعرف حاله علی عھد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم یعتبر فیه عرف الناس، فإن تعارفوا کیله، فھو کیلي، وإن تعارفوا وزنه، فھو وزني، وإن تعارفوا کیله و وزنه، فھو کیلي و وزني، وھذا کله قول أبي حنیفة و محمد رحمهما اللہ :کذا في المحیط(الفتاوى الهنديه – الشيخ نظام وجماعة من علماء الهند، ١١١/٣ الفصل السادس في تفسير الربا وأحكامه، ط. زكريا ديوبند)

 

٢.وجوب قربانی کے لیے مال نامی اور حولان حول ضروری نہیں

 

سوال:٢.وجوب قربانی کے لیے مال نامی کا ہونا، نیز حولان حول کا ہونا شرط ہے یا نہیں؟

الجواب حامدا ومصلیا ومسلما!

وجوب قربانی کے لیے، زکاۃ کی طرح مال نامی اور حولان حول کا ہونا شرط نہیں ہے، صرف نصاب شرعی کا مالک ہونے سےقربانی واجب ہو جائےگی:

النصاب ثلاثۃ :نصاب یشترط فیه النماء، یتعلق بہ الزکاۃ… ونصاب یجب بہ أحکام أربعۃ:حرمۃ الصدقۃ،ووجوب الأضحیۃ، وصدقۃ الفطر، و نفقۃ الأقارب، ولا یشترط فیہ النماء، لا بالتجارۃ،ولا بالحول؛ (فتح القدیر- ابن الھمام الحنفی(م:٦٨١ھ)٢٨٨/٢،کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ الفطر، ط زکریا دیوبند)

ھی واجبۃعلی الحر، المسلم، المالک النصاب، فاضل عن حوائجہ الأصلیۃ، وإن لم یکن نامیا، وبہ تحرم الصدقۃ، وتجب الأضحیۃ، (مجمع الانھر-عبدالرحمن إبن محمد الکلیبونی(م:١٠٧٨ھ)٣٣٤/١،صدقۃ الفطر، ط. فقیہ الامۃ دیوبند)

 

٣.قربانی کے جانور میں عیب قلیل معاف ہے

 

سوال:٣. قربانی کے جانور میں اگر عیب ہو، تو کس قدر معاف ہے؟ مثلاً :کسی جانور کی آنکھ کی روشنی کم ہو، تو کس قدر کم روشنی معاف ہے؟ یا کوئی جانور لنگڑا ہو، تو کس قدر لنگڑا پن قربانی کی صحت میں معتبر ہوگا؟

الجواب، حامداومصلیاومسلما!

قربانی کے جانور میں معمولی عیب معاف ہے، یعنی اگر ثلث یا اس سے کم ہو، تو معاف ہے، اگر ثلث سے زیادہ ہے، تو قربانی درست نہ ہوگی، مثلاً :جانور کی آنکھ کی روشنی اگر ثلث یا ثلث سے کم ہے، تو قربانی درست ہوگی،

آنکھ کی روشنی میں مقدارعیب اس طرح معلوم کیا جائےگا، کہ جانور کو ایک جگہ باندھ دیا جائے، اور دو تین روز چارہ نہ دیا جائے، پھر جب بھوکا ہوجائے، تو چارہ آہستہ آہستہ اس کے قریب کیا جائے، جہا سے اس کو نظر آنے لگے، وہاں نشان کریں، پھر ایک صحیح سالم جانور کے ساتھ بھی اسی طرح کیا جائے، اس کو جہا سے نظر آنے لگے وہاں نشان لگا دیں، پھر دونوں کے درمیان کا فاصلہ معلوم کریں، اگر ثلث یا اس سے کم ہے، تو قربانی درست ہوگی، اور اگر زیادہ ہے، تو قربانی درست نہ ہوگی،

اسی طرح اگر لنگڑا جانور تین پاؤں زمین پر رکھتا ہو،اور چوتھا پاؤں رکھ ہی نہیں سکتا، تو اس کی قربانی درست نہ ہوگی اگر چوتھا پاؤں ٹیک کر لنگڑاکر چل سکتا ہو، تو قربانی درست ہوگی ۔

ذکر في”الجامع الصغیر” إن کان کثیرا یمنع، وإن کان یسیرا لا یمنع، واختلف أصحابنا فی الفاصل القلیل والکثیر، فعن أبی حنیفۃ اربع روایات:روی محمد عنہ فی”الأصل” و”الجامع الصغیر” أن المانع ذھاب أکثر من الثلث، وعنہ أنہ الثلث، وعنہ أنہ الربع، وعنہ أن یکون الذاھب اقل من الباقي أو مثلہ… والأولی فی ظاھر الروایۃ، وصححھا فی “خانیۃ” (الردالمحتار – إبن عابدین الشامی(م:١٢٥٢ھ)٤٦٨/٩،کتاب الأضحیۃ، ط. زکریا دیوبند)

وإذا ذھب بعض العین الواحدۃأوبعض الأذن الواحدۃ… فإن کان الذاھب کثیرا منع جوازالأضحیۃ، وإن کان الذاھب قلیلا لایمنع جوازالأضحیۃ ؛(الفتاوی التاتارخانیہ-الشیخ فریدالدین عالم الدھلوی(م:٧٨٦ھ)٤٢٩/١٧،کتاب الأضحیۃ، ط. زکریا دیوبند)

والعرجاءای التی لا یمکنھا المشی برجلھا، العرجاء أنما تمشی بثلاث قوائم، حتی لو کانت تضع الرابعۃعلی الأرض، وتستعین بھا،جاز؛ (الدرالمختارمع الردالمحتار-علاؤالدین الحصکفی(م:١٠٨٨ھ)٤٦٨/٩،کتاب الأضحیۃ، ط. زکریا دیوبند)

 

٤.قربانی کے وقت حاضرین کو تسمیہ نہیں پڑھنا ہے،ذابح کا تسمیہ کافی ہے

 

سوال:٤. قربانی کے جانور کو ذبح کرتے وقت تمام حاضرین کا تسمیہ پڑھنا ضروری ہے؟ یا صرف ذابح کا تسمیہ کافی ہے؟

الجواب، حامداومصلیاومسلما!

قربانی کے وقت اگر بہت سے لوگ موجود ہو، تو حاضرین کو تسمیہ پڑھنا ضروری نہیں ہے، صرف ذابح کا تسمیہ کافی ہو جائےگا، ہاں! اگر ذابح کے ساتھ کچھ معاون بھی ہو، تو صرف اس کو تسمیہ پڑھنا ہوگا، جو ذابح کے ساتھ اپنا ہاتھ چھری پر رکھے ہوئےہے، نہ کہ ان لوگوں کو پڑھناہے، جو سینگ، پیر وغیرہ پکڑے ہوئے ہیں :

فمنھا:أن تکون التسمیۃ من الذابح، حتی لو سمی غیرہ، والذابح ساکت، وھو ذاکر، غیر ناس لایحل؛ (بدائع الصنائع-علاؤالدین الکاسانی(م:٥٨٧ھ)١٧٠/٤،کتاب الذبائح والصیود، ط. زکریا دیوبند)

رجل أراد أن یضحی فوضع صاحب الشاۃ یدہ علی السکین مع یدالقصاب تعاونا علی الذبح، قال الشیخ:ھذا یجب علی کل واحد منھماالتسمیۃ،حتی لو ترک احدھما لایجوز(الفتاوی التاتارخانیہ-الشیخ فریدالدین عالم الدھلوی(م:٧٨٦ھ)٤٤٩/١٧،کتاب الأضحیۃ، فصل التضحیۃعن الغیر، ط. زکریادیوبند)

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker