مسلم دنیا

آج حج : منی سے عرفات تک لبیک اللہم لبیک کی صداؤں کی گونج

 

منی میں دنیا کی سب سے بڑی خیمہ بستی آباد، خطبہ حج شیخ محمد آل شیخ دیں گے، غلاف کعبہ بھی آج ہی تبدیل کیاجائے گا، سیکوریٹی کے انتظامات مکمل، ہیلی کاپٹروں کے ذریعہ وادی منیٰ و مزدلفہ اور میدان عرفات کی نگرانی ، گمشدہ حاجیوں کےلیے نقشہ جاری

مکہ مکرمہ۔ ۹؍اگست: سفید چادروں میں ملبوس ’لبیک اللہم لبیک لا شریک لک لبیک‘کی صدا لگاتے ہوئے پوری دنیا سے تقریباً ۲۰ لاکھ عازمین حج پیدل، ٹرین اور بسوں کے ذریعے منیٰ پہنچ چکےہیں جہاں دنیا کی سب سے بڑی خیمہ بستی آباد ہوگئی ہے۔ ہر رنگ و نسل کے اہل ایمان اسلام کے رکن کی ادائیگی کے لیے حجاز مقدس میں موجود ہیں اور حج کا رکن اعظم وقوف عرفہ آج ادا کیا جائے گا۔اور آج ہی غلاف کعبہ بھی تبدیل کیاجائے گا۔ہر سال وقوف عرفہ کے دن پرانا غلاف اتار کر خانہ کعبہ پر نیا غلاف چڑھایا جاتا ہے۔ عازمین منیٰ میں نماز فجر کی ادائیگی کے بعد میدان عرفات کے لئے روانہ ہو ں گے اور میدان عرفات میں واقع مسجد نمرہ میں امام صاحب سے خطبہ حج سنیں گے اور نمازِ ظہر اور عصر بیک وقت ایک اذان اور الگ الگ اقامت سے ادا کریں گے۔ وہ غروب آفتاب تک میدان عرفات میں وقوف کریں گے۔اس کے بعد وہ مزدلفہ روانہ ہوجائیں گے اور وہاں پہنچ کر مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک وقت میں ایک اذان اور دو اقامتوں کے ساتھ باجماعت یا الگ الگ ادا کریں گے۔ حجاج مزدلفہ میں رات کھلے آسمان تلے گذارتے ہیں اور رمی جمرات کے لیے 70عدد کنکریاں چنتے ہیں۔ حجاج کرام یہاں اپنے رب کے حضور مناجات کے ساتھ سنت کے مطابق آرام بھی کرتے ہیں۔حجاج کرام اتوار دس ذی الحجہ کو نمازِ فجر کی ادا کرنے کے بعد سورج طلوع ہونے تک مناجات کریں گے، وہ اللہ کے حضور گڑگڑا کر دعائیں مانگیں گے۔ اس عمل کے بعد حجاج کرام عقبہ جمرہ کو کنکریاں مارنے کے لیے منیٰ واپس آجائیں گے اور منیٰ میں حرم کی جانب واقع جمرات کمپلیکس میں صرف بڑے جمرہ یعنی بڑے شیطان کو7 عدد کنکریاں ماریں گے۔رمی جمرات کے بعد قربانی کا عمل ہوتا ہے اور قربانی مکمل ہونے کے بعد حجاج کرام حلق یا قصر کروا کر حالت احرام سے باہر آ جاتے ہیں۔ حج کا آخری فرض طوافِ زیارت ہے ۔ سڑکوں پر شدید بھیڑکی وجہ سے زیادہ تر حجاج منیٰ سے پیدل راستوں کے ذریعے حرم پہنچتے ہیں ۔ حرم پہنچ کر کعبۃ اللہ کا طواف زیارت کرتے ہیں۔پھر سعی کے بعد حجاج کرام واپس منیٰ آ جاتے ہیں اوررات منیٰ میں قیام کرتے ہیں ۔ اگلے دو دن یعنی 11 اور 12 ذی الحجہ کو زوال کے بعد تینوں جمرات کو 7، 7 کنکریاں ماری جاتی ہیں ۔ حجاج کرام اپنے مکتب کی ہدایت کے مطابق 12 ذی الحج کو غروب آفتاب سے قبل منیٰ سے واپس جاسکتے ہیں یا 13 ذی الحج کی رمی کے بعد اپنی رہائش گاہوں کی طرف روانہ ہوتے ہیں۔سعودی عرب کی تاریخ میں پہلی بار فرزندان اسلام مسلسل تین روز تک 3 خطبے سنیں گے۔ ان میں پہلا خطبہ آج جمعہ کا خطبہ ہوا، دوسرا خطبہ سنیچر کو حج کا خطبہ اور تیسرا خطبہ اتوار کو نماز عید الاضحٰی کا سنا جائے گا۔الحرمین الشریفین کے انتظامی امور کی ذمہ دار کمیٹی کی طرف سے یوم عرفہ کو خطبہ حج کی ذمہ داری ممتاز عالم دین، علماء کونسل کے رکن اور خادم الحرمین الشریفین آڈیٹوریم برائے حدیث کے چیئرمین الشیخ محمد بن حسن آل الشیخ کو سونپی ہے۔الشیخ محمد آل الشیخ کا شمار سعودی عرب کے ممتاز علماء کرام میں ہوتا ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کے سرکاری اسکولوں سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے جامعہ امام محمد بن سعود کے الشریعہ کالج میں داخلہ لیا اور ہائرجوڈیشل انسٹیٹیوٹ سے ایم اے کی ڈیگرحاصل کی۔الشیخ محمد آل الشیخ 10 سال سے الشریعہ کالج میں لیکچرار کی خدمات انجام دیتے رہےہیں۔ بعد ازاں انہیں سائنس وافتاء ریسرچ کمیٹی کارکن مقرر کیا گیا۔ 1426ھ سے الشیخ محمد آل الشیخ سعودی عرب کے سپریم علماء بورڈ کے رکن ہیں۔سنہ 1412ھ سے الدیرہ الشیخ محمد بن ابراہیم آل الشیخ مسجد میں امامت اور خطابت کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔عازمین حج کی سہولت کے لئے سعودی حکومت کی جانب سےسکیورٹی کے غیرمعمولی انتظامات کیے گئے ہیں ۔منیٰ میں حجاج کے قیام کے لیے سعودی حکومت نے جدید سہولتوں سے آراستہ مستقل خیمہ بستی قائم کردی ہے اور یہ منیٰ سے مزدلفہ تک پھیلی ہوئی ہے۔ ان خیموں میں حجاج کی راحت کے لیے ائیر کنڈیشنر تک لگائے گئے ہیں۔ حج کی سیکورٹی کے حوالے سے ہر بار کی طرح اس سال بھی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے منیٰ، مزدلفہ اور میدان عرفات کی مسلسل نگرانی کی جاے گی تیس ہزار پولیس اور سی کو فورسز کے اہلکار ڈیوٹی سرانجام دیں گے جبکہ پانچ ہزار سی سی ٹی وی کیمروں سے بھی سیکورٹی کو فول پروف بنایا گیا ہے۔دیگر انتظامات میں منی ‘ مزدلفہ اور میدان عرفات میں طبی سہولیات کے لئے سولہ بڑے ہسپتال اور 125 ہنگامی طبی مراکز قائم کیے گئے ہیں جن میں 28 ہزار ڈاکٹرز، نرسزاورپیرا میڈیکل سٹاف ڈیوٹی سرانجام دے گا۔گمشدہ حاجیوں کی رہنمائی کیلئے وزارت حج و عمرہ منیٰ ، مزدلفہ اور عرفات میں رہنما مراکز قائم کئے ہوئے ہے ۔سعودی اسکائوٹس بھی راستہ بھول جانیوالے حاجیوں کی رہنمائی کرتے ہیں ۔امسال مکہ مکرمہ ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے حاجیوں کو گمشدگی سے بچانے کیلئے حج مقامات کے رہنمانقشے جاری کئے ہیں ۔ یہ اپنی نوعیت کی منفرد کوشش ہے ۔ اخبار 24کے مطابق منیٰ ، مزدلفہ اور عرفات کے رہنما نقشوں کی بدولت حاجی حضرات اپنے کیمپ تک پہنچنے کیلئے زیادہ مناسب اور موزوں راستے کا انتخاب کر سکیں گے ۔شدید اژدہام میں پھنس جانیوالے حاجیوں کو اپنی منزل تک پہنچنے میں مدد ملے گی۔حج مقامات کے نئے نقشوں میں خیموں کا محل وقوع متعین کیا گیا ہے ۔منیٰ ، مزدلفہ اور عرفات کے اہم مقامات کو اجاگر کیا گیا ۔مونو ریل کے اسٹیشنوں اور بسوں کی پارکنگ کی جگہیں اجاگر کی گئی ہیں ۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ منیٰ کا آغاز کہاں سے ہوتا ہے اور کہاں اسکی آخری حد واقع ہے ۔ اسی طرح مزدلفہ اور عرفات کی ابتداء اور انتہا بھی نقشوں میں نمایاں کر دی گئی ہے۔ سعودی وزارت داخلہ کے سرکاری ترجمان میجر جنرل منصور الترکی نے ایک پریس کانفرنس کے دوران باور کرایا کہ کسی بھی فرد یا گروپ کو حج کے عمل میں رخنہ ڈالنے یا حجاج کرام کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker