مسلم دنیا

یہودی آباد کاروں کے دھاؤوں کے پیش نظر عیدالاضحٰی کی نماز قبلہ اول میں موخر

 

یہودی تنظیموں کا مطالبہ ’عیدالاضحی کی نماز مسجد اقصیٰ میں ادا کرنے کی اجازت نہ دی جائے‘

اگر عید کے دن قبلہ اول کی بے حرمتی ہوئی تو صورت حال آتش فشاں بن کر پھٹ سکتی ہے: حماس

یہودی آباد کاروں کو روکنے کے لیے مسجد اقصیٰ میں اپنی حاضری کو یقینی بنائیں: خطیب قبلہ اول

مقبوضہ فلسطین۔ ۱۰؍اگست: (ایجنسی) قابض صہیونی فوج اور پولیس کی طرف سے فول پروف سیکیورٹی میں یہودی آباد کاروں کے قبلہ اول پردھاووں کا سلسلہ جاری ہے۔ دوسری جانب یہودی انتہا پسند تنظیموں بالخصوص مسجد اقصیٰ کی جگہ مزعومہ ہیکل سلیمانی کی تعمیر کی پرچارک تنظیموں نے حکومت سے عیدالاضحیٰ پر قبلہ اول کو فلسطینیوں کے داخلے کے لیے بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔یہودی آباد کاروں کے ہمراہ کئی یہودی ربیوں نے بھی قبلہ اول میں گھس کرمذہبی رسومات ادا کیں۔خیال رہے کہ گذشتہ روز مسجد اقصیٰ کی جگہ مزعومہ ہیکل سلیمانی کی علم بردار تنظیموں نےمسجد اقصیٰ پر دھاوے بولنے کی اپیل کی تھی۔ ادھر یہودی اتحاد تنظیمات برائے ہیکل کی طرف سے وزیراعظم بنجمن یاھو سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ‘ہیکل کی مسماری کی یاد میں 9 سے 11 اگست تک مسجد اقصیٰ میں فلسطینیوں کا داخلہ بند کرنے کا حکم صادر کریں۔یہودی تنظیموں کا کہنا ہے کہ وہ ان ایام میں خراب ہیکل سلیمانی کی یاد میں جبل ہیکل یعنی مسجد اقصیٰ میں داخل ہو کر مذہبی رسومات ادا کریں گے۔خیال رہے کہ یہودیوں کے نزدیک ‘9 اور 11 اگست کے ایام ہیکل سلیمانی کی بابلین کے ہاتھوں مسماری کی یاد میں روزہ رکھتے اور سوگ مناتے ہیں۔ اس بار یہ ایام ایک ایسے وقت میں آرہے ہیں جب عیدالاضحیٰ کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔اسلامی تحریک مزاحمت حماس نے یہودی آباد کاروں کے عید الاضحٰی کے روز قبلہ اول پر مذہبی اور اشتعال انگیز دھاووں کے منصوبے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یہودیوں نے عید کے دن قبلہ اول کی بے حرمتی کی کوشش کی تو صورت حال آتش فشاں بن کر پھٹ سکتی ہے۔اطلاعات کے مطابق حماس کے شعبہ تعلقات عامہ کے رکن باسم نعیم نے کہا کہ عید کے روز یہودی آباد کاروں کا مسجد اقصیٰ پر اسرائیلی پولیس کی فول پروف سیکیورٹی میں دھاووں کا منصوبہ مسلمانوں کے مقدس مقامات کی بے حرمتی کا ایک نیا حربہ ہوگا جسے کسی صورت میں فلسطینی قوم قبول نہیں کرے گی۔انہوں نے کہا کہ اگر عید کے دن فلسطینیوں کو مسجد اقصیٰ میں عید کی نماز کے لیے جانے سے روکا گیا تو اس مذہبی اشتعال انگیزی کی تمام تر ذمہ داری اسرائیل پرعاید ہوگی کیونکہ ایسی صورت میں القدس میں فلسطینیوں کو غم وغصہ آتش فشاں بن کر پھٹ سکتا ہے۔باسم نعیم نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ قبلہ اول کے دفاع کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور صہیونی ریاست کی طرف سے مسجد اقصیٰ پر قبضے کے جنون کا نوٹس لیتے ہوئے انتہا پسندوں کو مذہبی اشتعال انگیزی سے باز رکھیں۔ان کا کہنا تھا کہ سنہ 2000ء کو مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کے بعد فلسطینی قوم نے دوسری تحریک انتفاضہ شروع کی تھی۔ یہ انتفاضہ اس لیے شروع کیونکہ اس وقت کے انتہا پسند اسرائیلی وزیراعظم ارئیل شیرون نے اپنے ناپاک قدم قبلہ اول کے اندر رکھ کر فلسطینی قوم کے غیض وغضب کو دعوت دی تھی۔فلسطین کے مفتی اعظم اورمسجد اقصیٰ کے خطیب الشیخ محمد حسین نے کہا ہے کہ عیدالاضحیٰ کے روز یہودی آباد کاروں کے قبلہ اول پر دھاووں کے پیش نظر عید کی نماز ایک گھنٹہ موخر کر دی گئی ہے۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق الشیخ محمد حسین کا کہنا ہے کہ پہلے عید کی نماز مقامی وقت کے مطابق ساڑھے چھے بجے ادا کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا مگر یہودی آباد کاروں کو قبلہ اول میں داخلے سے روکنے کے لیے نماز ساڑھے سات بجے ادا کی جائے گی۔نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب میں الشیخ محمد حسین نے فلسطینیوں پر زور دیا کہ وہ یہودی آباد کاروں کو قبلہ اول پر دھاووں سے روکنے کے لیے مسجد اقصیٰ میں اپنی حاضری کو یقینی بنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کو اپنے مقدس مقامات کا خود دفاع کرنا ہوگا۔ ہمیں مسجد اقصیٰ کو یہودیوں کے ہاتھوں پامال کرنے کی تمام سازشوں کو ناکام بنانا ہوگا۔ادھر فلسطینی سپریم اسلامی کمیٹی، اسلامی اوقاف اور دارالافتاء کی طرف سے جاری ایک مشترکہ بیان میں بیت المقدس کی تمام مساجد کے آئمہ سے کہا گیا ہے کہ وہ عید کے دن مسجدیں بند رکھیں اور عیدالاضحیٰ کی نماز مسجد اقصیٰ میں ادا کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker