فقہ وفتاویٰ

ولیمہ کاوقت اور بارات کا ظالمانہ کھانا

 

سوال:
حضرت مفتی صاحب!
میں نے حدیث کی امیج بھیجی ہے، اور چوں کہ مجھے ہندی میں ایک چھوٹی سی کتاب لکھنی ہے، تو اس کے لیے اس حدیث کی تصدیق کرنی ہے کہ یہ حدیث کس حد تک درست ہے؟
حدیث: حضرت رسول اللہﷺ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو بلا کر حکم فرمایا اے بلال! میں نے میری بیٹی کا نکاح اپنے چچازاد بھائی (على) سے کر دیا ہے اور میں یہ پسند کرتا ہوں کہ نکاح کے وقت کھانا کھلانا میری امت کی سنت ہو تو کھانا تیار کرو۔ جب فارغ ہو جاؤ تو مجھے خبر کرنا تاکہ میں مہاجرین و انصار کو جمع کروں۔ چنانچہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے کھانا تیار کیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو کھانا کھلایا، اس کے بعد حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا کو وداع کیا ۔ (بہشتی جہیز: 98، بحوالہ مسند عبد الرزاق) ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس کھانا کھلانے سے دعوت ولیمہ ہرگز مراد نہیں لی جاسکتی ہے، اس واسطے کہ دعوت ولیمہ کی مدت شب زفاف کے بعد ہے اور یہاں زفاف سے پہلے عند النکاح فورا دعوت کا تذکرہ مل رہا ہے۔ ( بہشتی جہیز:98، تالیف: مفتی عبدالرحیم صاحب قاسمی(بھوپال) بحوالہ نظام الفتاوی، ص: 214، ج: 2)
یہ حدیث درست ہے یا نہیں؟ اور درست ہے تو اس کا مستند حوالہ بھی چاہیے۔
اور یہ کہ نکاح سے متعلق جو لوگ دعوت کرتے ہیں وہ مناسب ہے یا نہیں ہے؟ اس کے متعلق جو بھی حدیث اور فتاوی موجود ہوں، وہ امیج یا آڈیو کے ذریعے مجھے بھیجیں، میرے لیے آسانی ہوگی۔ جزاک اللہ خیرا
(عبدالصمد قادری، اندور)

الجواب حامدا ومصلیا ومسلما اما بعد
حضرت مفتی عبد الرحیم صاحب مدظلہ العالی ایک ذی استعداد، بڑے، بزرگ، عالم دین ہیں؛ حضرت مفتی محمود الحسن گنگوہی نوراللہ مرقدہ کے خلیفہ ہیں۔ حضرت کی تحریریں عام طور پر اہل علم پڑھتے ہیں، ان کے علمی انداز سے اہل علم کو فائدہ ہوتا ہے؛ لیکن ایسی بحثیں عام مسلمانوں کے لیے الجھن کا باعث بن سکتی ہیں۔
آپ زمینی طور پر عوام اور اثریاء واغنیاء سے جڑے ہوے ہیں؛ اس لیے آپ کے لیے بہتر یہ ہے کہ آپ کی تحریروں میں تحقیق وتناظر کے بجاے سیدھا و صاف انداز ہو، اگر اس روایت کو جس کی صحت اور عدم صحت واضح نہیں ہے، نقل کردیں گے اور پھر اگرچہ اس کی تردید بھی کردیں گے، تو چوں کہ آپ کی تحریر براہ راست عام لوگوں تک پہنچے گی، پھر اگر وہ تردید کو نہ سمجھ سکے تو لڑکی والوں کے یہاں بارات کے ظالمانہ کھانے کو سنت قرار دے کر اس غلط رواج کے لیے اس سے سندِ جواز حاصل کرلیں گے؛ اس لیے اپنی تحریر میں اس روایت کو نقل کرنے اور اس کی تردید کے بجاے سیدھے طور پر ولیمہ کے بارے میں یہ بتائیں کہ لڑکی کے یہاں ولیمہ نہیں ہے۔ زفاف یا خلوت کے بعد لڑکے کی طرف سے حسبِ حیثیت آسان دعوت طعام کی جاے، یہی سنت ہے۔
نکاح یا رخصتی کے موقع پر، لڑکے والوں کی طرف سے 10، 12، 15 سے زیادہ لوگ اگر لڑکی والوں کے یہاں حاضر ہوکر کھانا کھاتے ہیں تو یہ ظلم کے زمرے میں آے گا۔
اب ذیل میں ولیمہ کا مسنون وقت اور بارات کے ظالمانہ کھانے کے بارے میں کتاب “شادی اور شریعت (حصہ اول)” سے کچھ اقتباسات نقل کیےجاتےہیں:

ولیمہ کاوقت

حضرت صفیہ رضی اللہ عنھا سے زفاف کے بعد حضور ﷺ نے ولیمہ کیا (بخاری: ج 2، ص777، مشکوة: ص478 )
اسی طرح حضرت زینب رضی اللہ عنھا سے زفاف کے بعد ولیمہ کیا (بخاری: حدیث نمبر 5466، ج 2، ص 2707)
اسی طرح حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنھا کے ساتھ خلوت کے بعد ولیمہ فرمایا (بخاری: حدیث نمبر 5172، ج 2 ص287. مشکوة: ص287)
نیزحضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے خلوت کے بعد جب رسول اللہ ﷺ سے ملاقات کی، تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں ولیمہ کی ہدایت فرمائی۔ (مشکوة: ص 287)
حضرت رسول اللہ ﷺ نے جتنی شادیاں فرمائیں ہیں، ان سب میں شب زفاف کے بعد ہی ولیمہ فرمایا ہے۔ اسی طرح صحابہ کو زفاف کے بعد ملاقات پر ولیمہ کی ہدایت فرمائی۔ جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ خلوت اور زفاف کے بعد ہی ولیمہ کی سنت ادا ہوگی۔
ہماری عقیدت و محبت کا مرکز، عالم اسلام کے ایک مقتدر اور مؤقر عالمِ دین نے کسی مصدری کتاب کے حوالے سے ولیمہ کے وقت کے بارے میں کچھ دوسری بات تحریر فرمائی ہے۔ سن 2011ء میں راقم الحروف نے حضرت کی تحقیق و حوالہ سے استفادہ و استیناس کرتے ہوے اپنے ایک رسالے میں وہی بات نقل کردی تھی؛ لیکن بعد میں احساس ہوا کہ اس سے فساد کا دروازہ کھلتا ہے؛ اس لیے اُس تحریر سے رجوع کرنے اور اُسے بالکل نسیا منیسا بنانے کے لیے اپنی دوسری تحریروں اور اپنی کتاب “شادی اور شریعت (حصہ اول)” میں حضرت کے موقف کو نظرانداز کرتے ہوے درج بالا تحقیقات کے مطابق ولیمہ کے لیے یہی مسنون وقت لوگوں کو بتلاتا ہوں۔

ولیمہ زیادہ سے زیادہ تین دنوں تک

عن ابن مسعود رضی الله عنه قال قال النبي صلی اللہ علیہ وسلم طعام اول يوم حق و طعام يوم الثاني سنة وطعام يوم الثالث سمعة ومن سمع سمع الله به (رواہ الترمذی، مشکوة: حدیث نمبر 3224، ص 279. ابوداؤد: ج2، ص170)
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: (ولیمہ) پہلے دن کا کھانا حق ہے، اور دوسرے دن کا کھانا سنت ہے، اور تیسرے دن کا کھانا دکھاوا ہے، اور جو کوئی دکھاوا کرے گا اللہ تعالی اس کو رسوا کر دے گا۔ (رواہ الترمذی، مشکوة: حدیث نمبر 3224، ص279. ابوداؤد: ج2، ص 170)

اسی روایت کے مطابق احناف کے یہاں فتوی ہے کہ تین دنوں کے بعد ولیمہ کرناغلط ہے۔ (ہندیہ: ج 5، ص 343)

نمود و نمائش اور تفاخر وشہرت کے لیے ولیمہ یا کوئی بھی کام کرنے پر اللہ کی طرف سے ذلت و رسوائی کی وعید ہے۔ (بخاری: حدیث نمبر6499)
چوں کہ نکاح اور پھر حلال زفاف کے اظہار و اعلان کا ایک ذریعہ ولیمہ بھی ہے؛ اس لیے شریعت مطہرہ میں ولیمہ پسندیدہ و مطلوب ہے۔ اظہار و اعلان کے بالمقابل ریا ونمود ہے جو کہ فجار و کفار کا طریقہ ہونے کی وجہ سے ممنوع اور ناجائز ہے۔ شب زفاف کے بعد جتنا جلد ہو سکے ولیمہ کر کے لوگوں کو واقف کرایا جائے اگر تاخیر ہوئی تو ولیمہ کا تعلق اعلان نکاح و ملاقات سے کٹ کر ریا و نمود سے جڑ جائے گا؛ اس لیے تاخیر سے ولیمہ کرنا، اعلان و اظہار کے بجائے، گناه و معصیت ہوگا۔ (شادی اور شریعت، حصہ اول: ص 62)

بارات، ظلم کا کھانا

کسی زمانہ میں دلہن و اسباب کے تحفظ و نگرانی کے لیے گاؤں کے لوگ دولہا کے ساتھ لڑکی کے گھر، شادی کے موقع پر جایا کرتے تھے؛ لیکن اب دولہا کے ساتھ اس مقصد نیک یعنی تحفظ کے لیے جانا، آنا نہیں رہا؛ بلکہ بارات ایک ظالمانہ رسم بن چکی ہے۔ (مان نہ مان میں تیرا مہمان)

بارات کے ناجائز ہونے کی وجہ غیر اسلامی رسم ہونا ہے ہی۔ایک اور وجہ سے لڑکی والوں کے یہاں بارات کی شکل میں جا کر کھانا کھانا ناجائز ہوجاتا ہے۔ وہ یہ کہ اللہ کے پیارے رسول صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: …..من دخل على غير دعوة دخل سارقا وخرج مغیرة رواه أبوداوود کتاب الدعوة (مشكوة: حدیث نمبر 3222، ص 278)
“جوشخص بن بلائے کہیں دعوت میں کھانے کے لیے گیا تو وہ چور ہو کر داخل ہوا اور ڈاکو بن کر لوٹا ‘‘۔ (مشکوة)

فائدہ: مغیرة کے معنی قزاق، ڈاکو، لٹیرا، رہزن کے ہیں۔ عام طور پر لڑکی والے مجبورا بارات بلاتے ہیں جس میں افراد کی تحدید ہوتی ہے؛ لیکن جیسے کہ باراتیوں کی کمائی لڑکی والوں کے گھر پر رکھی ہوئی ہے، کہ مقررہ تعداد سے زیادہ ہی لوگ وہاں تشریف لے جاتے ہیں۔ تعداد مقررہ پر زیادہ افراد غیر مدعو ہوتے ہیں یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ کون کون مخصوص و متعین طور پر مدعو ہیں اور کون کون مدعو نہیں ہیں۔ اس طرح تمام لوگ ایک گونہ مدعو ہوتے ہیں اور ایک گونہ غیر مدعو۔
ایک گونه تمام افراد مدعو نہ ہونے کی وجہ سے میزبان کے یہاں کھانے سے چوری اور ڈاکہ زنی کے گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں؛ اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ بارات قطعی نہ لے جاے۔ اور نہ بارات میں شرکت کرے۔ انتظامی ضرورت کے تحت محارم پر مشتمل زیادہ سے زیادہ 10، 12، 15 افراد جاسکتے ہیں۔ (شادی اور شریعت: ج1، ص 66 و ص 67، مؤلفہ: راقم الحروف)
فقط واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: محمد اشرف قاسمی
خادم الافتاء شہرمہدپور
ضلع اجین ایم پی
2019/08/10ء
ashrafgondwi@gmail.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker