حج وقربانیمضامین ومقالات

حج ایک مقدس سفر

انصاری حافظ حنان حسین احمد
حج ایک ایسا مقدس سفر ہے جس کی خواہش ہر مسلمان کے دل میں ہوتی ہے یہ ایک ناقابلِ فرامو ش حقیقت ہے کہ خانۂ کعبہ ایک ایسا مقدس گھر ہے کہ جو تمام گھروں سے افضل ہے یہی وہ گھر ہے کہ دنیا کے گوشہ گوشہ اورچپہ چپہ سے فرزندانِ توحید لبّیک پڑھتے ہوئے ۔میں حاضر ہوں ،اے میرے اﷲمیں حاضرہوں، میں حاضرہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں،بیشک ساری تعریفیںاور نعمتیںتیرے ہی لئے ہیں اورساری بادشاہی بھی،تیرا کوئی شریک نہیں۔حجّا جِ کرام یہ کہتے ہو ٔے حاضر ہوتے ہیں۔ہر ایک حاجی اس سفر کو اپنے لئے بہت ہی سعادت کی بات سمجھتا ہیں۔اور بڑی خوشی سے کہتے ہیں کہ یہ ہماری خوش نصیبی ہے کہ اﷲتعالیٰ ہمیں حج کی سعادت سے نوازرہا ہے۔
فرش سے عازمینِ حج کی صدا
عرش پہ بیٹھا سن رہا ہے خدا
اسی سے متعلق قرآن مجید میںکے پارہ۴سورہ اٰلِ عِمران اٰیت۷۹ میں خداتعالیٰ فرماتاہے کہ اﷲکے لئے ان لوگوں پر حج کرنا فرض ہے جو حج کرنے کی استطاعت رکھتے ہوں۔اس گھر کوجسے آپ اور ہم خانہ کعبہ،کعبہ شریف ،کعبت اﷲ،بیت اﷲ،بیت الامن،کے ناموں سے جانتے ہیں۔اس مقدس گھر کو حضرت آدمؑ نے بنایا ۔ حضرت نوحؑ ؑ نے دوبارہ تعمیر کیا۔حضرت ابراہیم ؑ خلیل اﷲ نے اپنے صاحبزادے حضرت اسماعیلؑ زبیح اﷲکی مددسے اس غیر آباد گھر کو پھر بناکر آباد کیا پیغمبر آخرالزماں حضرت محمد ﷺ؁نے اس گھرکی مرمت میں حصّہ لیا۔آج بھی وہ گھر اتنا ہی معزّزہے کہ لاکھوںخوش نصیب انسان اس مقدّس گھر کاطواف کرتے ہیںاور پھر بھی ان کی سیری نہیں ہوتی۔
اب اگر ہم یہ سوچیں کہ حج کیاہے؟ تو ہماری عقل سلیم اور مذہب ہمیں بتلاتا ہے کہ مخصوص وقت میںعرفات میں قیام کرنا، بیت اﷲکا طواف کرنا، وغیر ہ و غیرہ۔لیکن واقعہ یہ ہے کہ حج صرف ان حرکات وسکنات کا نام نہیں!حج نام ہے اس جذبہ پر عمل کرنے کاکہ جسے خودسپردگی کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔بندہ اپنی جان و مال و خواہش اور ا پنے آپ کو خود ہی پروردگارِعالم کے سپرد کردے اسی کا نام حج ہے۔بڑی غلط فہمی ہوگی اگر کوئی یہ سمجھے کہ ہم نے اپنا وقت صرف کیا ، روپئے خرچ کئے ،ٹکٹ خرید ا ممبئی سے جہاز پر سوار ہوئے، احرام باندھا ، طواف کیا ، صفا و مروہ کے ما بین دوڑلگائی، عرفات میں قیام کیا بس حج ادا ہو گیا! اور ہم تمام گناہوںسے پاک وصاف ہوگئے۔بظاہر تو یہ حج ہوا لیکن ایسا ہوا جو بے ثمر صرف چھلکا ہی چھلکا ہو …
وہ کونسا حج ہے ؟ جو انسان کو نومولود کی طرح معصوم بنا دیتا ہے وہ کونسا حج ہے؟ جوا نسان کے تمام گناہ دھودیتاہے۔وہ کونسا حج ہے؟ وہ وہی حج ہے جس کا تذکرہ ہم نے پہلے کیا ہے۔جب آپ اپنا گھر چھوڑیں تویہ سوچلیں کہ ہم دنیاوی افکار سے بالکل آزاد ہو گئے ہیں، آپ جب احرام باندھیںتو اس بات کا تصور کرلیں کہ ہم اب آئندہ زندگی میں کسی طرح کی گندگی کو پاس نہ آنے دیں گے۔
آپ جب میدانِ عرفات میںقیام فرمائیںتو سمجھ لیں کہ آپ میدانِ حشر میں خدا تعالیٰ کے روبرو حاضر ہیں اور آپ سے حساب وکتاب لیا جارہا ہے،الغرض آپ کی ہر حرکات و سکنات صرف اور صرف اﷲ تعالیٰ کے ہی لئے ہو۔ اور اس ارادہ کے ساتھ ہوکہ اب ہم برائی کی دنیا سے ہمیشہ ہمیش کے لئے نکل جائیںگے اور حج کے بعد ایک ایسی زندگی کی ابتداء کریں کے کہ جس میں معصوم بچے کی معصوم مسکراہٹ تو ہو گی مگر کسی ظالم ،مکّار ،غنڈے کی زہر خندنہ ہوگی۔
اب اﷲتعالیٰ سے دعا کریں کہ اﷲتعالیٰ آپ کو اور مجھ کو اور تمام مسلمانو ںکو فائدہ بخش اور نتیجہ خیز حج کر نے کی قوت وطاقت اور توفیق عطافرما ئیں آمین
بندہ و صاحب و مختار وغنی ایک ہوئے
تری سرکار میںپہنچے تو سبھی ایک ہوئے

Tags

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker