حج وقربانیمضامین ومقالات

عید قرباں ایک سبق آموز تہوار

 

 

مفتی عبدالرزاق بنگلوری

 

دنیا بھر میں پرانی قوموں سے یہ دستور رہا ہے کہ عید قرباں کے دن جانوروں کے خون بہانے کو تقرب کا ذریعہ سمجھا گیا، اور حضرت ابراہیم و اسماعیل علیھما السلام کے واقعہ میں اللہ کی رضا جوئی کی خاطر جنتی مینڈھے کی قربانی کروا کر عملاً اس دستور کو صحیح رخ دے دیا گیا، اور اسلام میں بھی یہ طریقہ نہ صرف یہ کہ مشروع، بلکہ مطلوب ومحمود قرار پایا، اور وسعت والوں پر خاص دنوں میں متعینہ جانوروں میں سے قربانی پیش کرکے تقرب خداوندی کے حصول کو واجب قرار دیا گیا، اور اس پر اتنی تاکید کی گئی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت تنبیہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: من وجد سعة لأن یضحي فلم یضحي فلا یحضر مصلانا (الترغيب والترھیب مکمل ٢٥٦) جو آدمی قربانی کی گنجائش رکھنے کے باوجود قربانی نہ کرے وہ ہماری عید گاہ میں نہ آئے،

قربانی کے ایام میں دیگر عبادات کے مقابلے میں قربانی کا عمل اللہ کو سب سے زیادہ پسند ہے، چنانچہ ام المؤمنین سیدتنا نا عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ: قربانی کے دن میں کوئی عمل اللہ تعالی کو خون بہانے (جانوروں کی قربانی کرنے) سے زیادہ پسندیدہ نہیں ہے، اور یہ قربانی کا جانور قیامت کے میدان میں اپنے سینگوں، بالوں، اور کھروں کے ساتھ آئے گا، اور قربانی میں بہایا جانے والا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے دربار میں قبولیت کا مقام حاصل کر لیتا ہے، لہذا خوش دلی سے قربانی کیا کرو (ترمذی شریف ١٤٩٣)

قربانی کا اصل مقصد رضائے الٰہی کا حصول اور شیطانی طاقتوں کو پوری طرح مسمار کرنا ہے، اسی سے روح کو تقویت ملتی ہے اور تقوی پروان چڑھتا ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ اللہ تعالی کو جانور کا گوشت اور جانور کا خون ہرگز نہیں پہنچتا بلکہ تمہارا تقوی پہنچتا ہے (سورہ حج : ٣٧)

اس سے معلوم ہوا کہ کسی کی قربانی کبھی رائیگاں نہیں جاتی جبکہ اس میں اخلاص ہو، اس کا اجر صدر فیصد یقینی ہے، یہ ایک مقدس عبادت ہے جسے اللہ نے ہر صاحب نصاب پر لازم قرار دیا ہے، یہ اسلامی تعلیمات کا اہم ترین حصہ ہے جس سے سے اللہ کی رضا اور خوشنودی حاصل کی جاسکتی ہے، اس اچھے اور سچے عمل کے ذریعہ سے خون بہا کر گوشت حاصل کرنا مقصود نہیں ہے، بلکہ اپنے ایمان اور تقوی کو مستحکم بنانا مقصود ہے، اللہ تعالی کو خون اور گوشت کی قطعاً ضرورت نہیں ہے اسے ضرورت ہے اپنی نیک نیتی اور خلوص کی،

 

حرف آخر

آج کل مالدار یہ چاہتا ہے کہ میرا قربانی کا جانور مہنگا اور بہترین ہو، بالآخر وہ جانور کو خریدنے کے لیے لاکھوں روپئے خرچ کر دیتا ہے، تاکہ محلہ اور شہر میں میرا نام اور میری شہرت ہو، تو ایسے لوگوں کی قربانی محض دکھلاوا بن کر رہ جائے گی، یہاں کسی کو دکھانا مقصود نہیں ہے، بلکہ اللہ کے یہاں ہماری قربانی کو قبول کروانا مقصود ہے، فضول خرچی سے تو ہر جگہ اجتناب کرنا لازم ہے، اللہ تعالی ہم تمام کی قربانیوں کو قبول فرمائے ( آمین)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker