ہندوستان

برقعہ پر جئے شری رام کا نعرہ تحریر کرکے ہندو مسلم نفرت پھیلانے والے ایڈوکیٹ کے خلاف مقدمہ درج

 

حیدرآباد۔۱۳؍اگست: ( سید عمران) ریاست تلنگانہ جگتیال ضلع کے پگڈاپلی پولیس نے زعفرانی پارٹی سے وابستہ اکثریتی طبقہ کے فرقہ پرست ایک ایڈوکیٹ کے خلا ف کارروائی کرتے ہوئے اس کو عدالت میں پیش کیاجہاںفاضل فرسٹ کلاس جوڈیشنل مجسٹریٹ نے خاطی وکیل کو ریمانڈ میں بھیج دیا ۔ تفصیلات کے بموجب پگڈاپلی منڈل کے موضع ننچرلہ کے دھوبی طبقہ سے تعلق رکھنے والا44سالہ پیشہ ور ایڈوکیٹ مری پلی ستیم عرف ستیہ پرکاش( ستیم)‘ نے اپنے موبائل نمبر9618996660کے واٹس ایپ اسٹیٹس پر متنازعہ تصویر کو تلگو زبان میں رکھا جس کے ذریعہ مسلمانوں کو عید قربان کی مبارکباد دینے کی آڑ میں دونوں طبقات یعنی ہندو ا ور مسلمانوں میں نفرت پیدا کرنے اور مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے کے ساتھ ساتھ مذہب اسلام کے شان میں گستاخی کا ارتکاب کیا جس کو دیکھنے کے بعد اس موضع سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں نے احتجاج کیا اور43سالہ محمد جانی پاشاہ‘ ساکن ایتھو پلی نے پولیس میں تحریری طور ایک شکایت درج کروائی ۔سب انسپکٹر آف پولیس مسٹر بی جیون نے اس سلسلہ میں ایف آئی آر نمبر88درج کیا اور موضع کا دورہ کرکے عوام اور گواہوں کے بیانات کو قلمبند کیا واٹس ایپ کا مشاہدہ کیا گیا تو اس پر تلگو میں تحریرشدہ متنازعہ و شر انگریز عبارت کو دیکھنے کے بعدخاطی ایڈوکیٹ کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعات 153-A‘ 259A‘504اور505(ii)کے تحت مقدمہ درج رجسٹرڈ کیا اس کی متنازعہ تلگو تحریر ” مسلم باوامردلو‘ (مسلمان سالو)‘ مردلو( سالیوں) ‘ ودنیلو ( بھاوجوں) کو بقر عید کی مبارکباد تھی ۔ اس تحریر کردہ واٹس ایپ اسٹیٹس پر تحریر کے ساتھ ساتھ ایک دل آزار تصویر بھی تھی جس پر ایک مسلم عور ت کی تصویر جو نقلی ‘ یا بناوٹی تھی اسکے برقعہ پر” جئے شری رام “ کا نعرہ تحریر تھا۔پولیس نے اپنے ایف آئی آار میں بتایاکہ خاطی نے یہ حرکت پُر امن فصاءکو مکدر کرنے ‘ عمداً اور دانشتہ طورکی ہے تاکہ مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا جاسکے اور پُر امن ماحول کو مکدر کیا جاسکے ۔ پولیس کے فرض شناس عہدیدار سب انسپکٹر بی جیون‘ نے عدالت سے یہ بھی استدعاءکی کہ خاطی کے خلاف آئی ٹی قانون کی دفعہ 66کے تحت کارروائی سپریم کور ٹ آف انڈیا کے رہنمایانا خطوط کے حسا ب سے کی جاسکتی ہے جو ہر لحاظ سے حق بجانب ہے تاکہ آئندہ وہ اس طرح کی حرکت کرنے کی جرآت نہ کرسکے۔ یہاں اس امر کا تذکرہ ضروری ہے کہ خاطی ستیہ پرکاش( ستیم) ایڈوکیٹ ضلع جگتیال سے بی جے پی پارٹی کا سرکاری ترجمان ہے ۔یہ پہلا موقع ہے کہ تلنگانہ ریاست کے قیام کے بعد پولیس نے اکثریتی طبقہ کے شرپسند کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے مساوات کا ثبوت دیا ہے ۔مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ اسی قبیل سے تعلق رکھنے والے چند وکلاءنے آج عدالت کا بائیکاٹ کیا اس سے ان کی ذہنیت کا پتہ چلتا ہے ایک مخصوص طبقہ کو قانون سے بالاتر اور صرف مسلمانوں کوغلام سمجھتے ہیں۔ وکیل مسٹر راچا کنڈہ سری راملونے عدالت کا بائیکاٹ کرنے کے بعد غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے پولیس پر مذکورہ مقدمہ پر ضرورت سے زیادہ دلچسپی دیکھانے کا الزام لگایااور کہاکہ پولیس نے دستور ہند کے رہنمایا ناءخطوط کو نظر انداز کرتے ہوئے مذکورہ وکیل کے خلا ف کارروائی کی ہے ۔ تاہم ہونا تو یہ چاہیے تاکہ خاطی ستیہ پرکاش( ستیم) کے خلاف سی آر پی سی 41کے تحت کارروائی کرتی تاہم اس وکیل نے خاطی ستیہ پرکاش ( ستیم) کی شرانگیز حرکت پر نہ تو مذمت کی اور نہ ہی اسکو مخالف آئین حرکت قرار دیااسکے بجائے انھوں نے ایسا بیان دیتے ہوئے خطا کو بالراست طور پر جائز ٹھہرانے کی کوشش کی جس سے انکی ذہنیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ واضح رہے کہ خاطی ستیہ پرکاش وکیل اتنا شدت پسند ہے کہ اسکے فیس بک ٹائم لائین پرپوسٹیں زیادہ تر مسلمانوں اور اسلام ‘ کرسچنوں کے خلاف ہیںاس کا انکشاف اسکے فیس بک کا مشاہدہ کرنے سے سامنے آیاکہ کس قدر زہریلہ اور مخالف مسلمان او رکرسچن ہے۔خاطی وکیل نے حالیہ دنوں پگڈا پلی سے بی جے پی پارٹی سے ادارے جات مجالس مقامی ( یم پی ٹی سی زیڈ پی ٹی سی )کے انتخابات میں بھی حصہ لیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker