مضامین ومقالات

ارتداد سے حفاظت کی تدبیریں( قسط نمبر 6)

 

بقلم: مفتی محمد اشرف قاسمی*
عالم ہمہ ویرانہ زچنگیزئ افرنگ
معمارحرم باز بہ تعمیر جہاں خیز

علماء کو مسجدوں میں استقلال ملناچاہئے۔

مدارس کے نظام تعلیم وتر بیت کے نتیجے میں وہاں کا فا ضل ہر الحا دی طوفان کے لیے ولیُّ اللّٰہی باند ھ ہوتاہے۔ طوفا نوں کے مقا بل ہو نے کاایک بڑ امو قع، مساجد کے منبر ومحراب ہیں۔ اگر فضلاء مدارس کو استقلال واستقا مت حا صل ہو تو وہ جنگل میں منگل کا منظر پیش کر دیں ، پہاڑوں کو کھود کر وہاں دودھ کی دریا یعنی علوم ِنبوت کاچشمہ شیر یں جاری کردیں۔ ان میں ایسے بھی مل جائیں جو جیلوں میں کلام خدا کی ترجمانی کی عظیم خدمات انجا م دے دیں ۔کسی ایک مقام پر استقلا ل کے نتیجے میں ان میں کوئی شیخ احمد سر ہندی مجدد الف ثا نیؒ بن سکتا ہے تو کو ئی مفتی محمود الحسنؒ دیو بندی ،کو ئی مولا نا محمدالیاسؒ ۔ یہ مولوی اپنی ذات میں ایک طوفان ،ایک انقلاب اورنا قابلِ شکست تحریک ہوتا ہے۔! شرط یہ ہے کہ اس کو جماؤ اور قرار حا صل ہو ۔ع

اسی دریا سے اٹھتی ہے وہ موج تند جولاں بھی
نہنگوں کے نشیمن جس سے ہو تے ہیں تہ و بالا

*ناہل ارکان کمیٹی*

جوارکان کمیٹی اور صدور اپنی مسجدوں میں علمائ و فضلاء کونہیں روک پا تے ہیں یا معمولی معمولی باتوں پر اماموں کو معطل کرتے رہتے ہیں وہ مسجد کمیٹی کی رکنیت اورصدارت کے با لکل اہل نہیں ہیں۔یہ لوگ مسجدوں کو آ با دکرنے والے نہیں بلکہ ویران کرنے والے ہیں۔ جو مسجدوں کی روح یعنی علماء کو ضا ئع کر رہے ہیں وہ ویران نہیں تو اور کیا کر نے والے ہیں؟
انما یعمر مسٰجد اللہ من اٰمن با للہ والیوم الاٰ خر واقام الصلوۃ واتی الزکوۃ ولم یخش الا للہَ فعسیٰٓ اولئک ان یکونوا من المھتدین{۱۸} التوبہ
اللہ کی مسجدوں کوتو وہی لوگ آ باد کرتے ہیں جو اللہ اور یوم آ خرت پر ایمان لائے ہوئے ہوں، اور نماز قائم کریں ، اورزکوۃ اداکریں، اور اللہ کے سواکسی سے نہ ڈریں۔ ایسے ہی لو گوں سے یہ توقع ہو سکتی ہے کہ وہ صحیح را ستہ اختیا ر کرنے والوں میں شامل ہو ں گے۔‘‘ التوبہ
’’۱۵؎ ۔۔۔ اگر یہ بنیا دی مقصد ہی فوت ہوتو مسجد کی خدمت کا کیا فا ئدہ؟‘‘
(مفتی محمد تقی عثما نی دامت بر کا تہم۔ تو ضیح القر آ ن جلد اول ص۵۶۶؍)
یاد رکھئے یہی علماء مسجدوں کی روح ہیں ۔ مسجدوں کی بلڈنگوں اور وضو خا نوں کی تعمیر وتزئین میں لا کھوں روپے خرچ کرنے کے بجا ئے ان پرخرچ کریں۔ مسجدوں کی عمارتوں ،قالینوں، اچھی تپا ئیوں ، چٹا ئیوں سے مسجدیں تعمیر اور آ باد نہیں ہو تی ہیں ؛بلکہ ان کے مقا صد ایسے لا ئق مند علماء سے حا صل ہوتے ہیں جو اپنے خونِ جگر سے مسجدوں کو رو نق، قوموں کو زندگی گذار نے کا طریقہ و سلیقہ دیا کرتے ہیں۔ دنیا وآ خرت کی زندگی میں کامیابی کی راہیں دِکھلا تے اور انسان کو انسان بن کر زندگی گذ ارنا سکھاتے، حیوا نیت و انسانیت میں امتیا ز قائم کرتے ہیں۔ لہذا ایسے علماء وائمہ کی قدر کرنی چاہئے۔ اپنی مسجد کے لیے نہ سہی، امت اور عالم اسلام کے لیے ان کی قدر کرنی چا ہئے کہ شاید یہ ہیرا عالم اسلام کے لیے مفید و کار آ مد ثا بت ہو.(’’مثا لی استاذ‘‘محمد حنیف )

*تفسیر قر آنِ مجید*

قر آ ن و سنت ،ہدا یت کا ذ ریعہ اور دنیا و آ خرت میں نجات کا با عث ہیں ۔ علماء امت کی تشریحا ت وغیرہ قر آ ن و سنت سے مر بوط ہیں ۔ اگر قر آ ن و سنت کے علا وہ کو ئی کتاب ہو جس کی تعلیم زندگی کا مقصد بن جا ئے تو وہ کتاب اور اس کتاب کی تعلیم و تعلم سے جڑ نا قیا مت کی بری علا متوں میں سے ہے۔ حدیث میں بیان کیا گیا کہ قر ب قیامت میں قر آ ن کے علا وہ دوسری کتابوں کی تعلیم و تعلم اسا سی مقصد بن جا ئیں گی۔بہت ہی افسوس کی بات ہے کہ ہما ری مسجدیں تفسیر قر آ ن سے محروم ہو تی جا رہی ہیں ۔ مسجدوں میں علماء کے ذریعہ بہر حا ل تفسیر قر آ ن ہونی چا ہئے اور عام مسلمانوں ومصلین، اورخاص طو رپر دعوتی امور واعمال سے جڑے افرادکو ’’تفسیرقرآن ‘‘ کی مجلسوں میں ضرور شریک ہو نا چا ہئے۔ تفسیر قرآ ن کی مجلس روزانہ کے بجائے ہفتہ واری ہو نی چاہئے (جیسا کہ’’ مسجدنبوی ‘‘کے ذیل میں ہم نے روایات نقل کی ہیں ۔)
علماء کی تعریف میں یہ داخل ہے کہ وہ لوگوں کوقرآن مجید سے جو ڑنے والے ہو ں۔اگر کو ئی امام لوگو ں کو قر آن کی تفسیر سنانے اور بتانے کے بجا ئے مستقل کو ئی دوسری کتا ب پڑھ کر سنا ئے اور بتا ئے تو وہ عالم ربانی نہیں ہے ۔ حضرت علی مر تضیؓ نے فقیہ ، عالم دین کی تعریف اس طرح بیان کی ہے ۔
ان الفقیہَ حقّ الفقیہ من لم یقنط الناسَ من رحمۃ اللہ ولم یرخص لھم فی معا صی اللہ تعالی ولم یؤمنھم من عذا ب اللہ تعالی ولم یدع القر آ ن رغبۃً عنہ الی غیرہ۔ (قر طبی)
‘’ فقیہ : مکمل فقیہ وہ ہے جو لوگوں کو اللہ کی رحمت سے مایو س بھی نہ کرے اوران کو گنا ہو ں کی رخصت بھی نہ دے اوران کواللہ کے عذا ب سے مطمئن بھی نہ کرے ، اور قر آ ن کو چھو ڑ کر(خود ولوگوں کو) کسی دوسری, کتاب کی طرف رغبت نہ دلائے۔‘‘(قر طبی)
آ پ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ
من اقترا ب السا عۃ ان تُر فع الا شرارُ و تُو ضع الا خیارُ و یفتح القول و یحزن العمل، یقرأُ با لقوم المثناۃُ، لیس فیھم احدٌ ینکر ھا ، قیل من المثناۃ؟ قال ما اکتُتِبَتْ سِوی کتا ب اللہ۔
(المستد رک للحاکم ۴/۵۴۴)
’’قرب قیا مت میں بُرے لوگوں کو بلند درجے دیے جائیں گے ۔ اور اچھے لو گ پست کر دیے جائیں گے۔ گفتگو کی کثرت ہو جا ئے گی۔ جب کہ عمل روک دیا جا ئے گا، یعنی عمل نہیں ہو گا اور لوگوں کومثناۃ پڑھا ئی جا ئے گی اور کوئی اسے بُرا نہیں سمجھے گا۔ پو چھا گیا : یہ مثناۃکیا چیز ہے؟ فر ما یا: جو کچھ اللہ کی کتا ب کے سوا لکھا جا ئے ( مستدرک حاکم)
کتبہ:محمد اشرف قاسمی
خادم الافتاء شہرمہد پور
ضلع اجین( ایم پی )
ashrafgondwi@gmail.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker