ہندوستان

پاورلوم صنعت کا شہر بھیونڈی، اب گڈھوں کے شہر کے نام سے مشہور

 

شہر کا کوئی چوک ،کوئی سڑک اور کوئی گلی کوئی محلہ گڈھوں سے محفوظ نہیں

بھیونڈی:۱۳؍ اگست (اختر کاظمی کے ذریعے ):پاورلوم صنعت کے لئے ملک گیر شہرت رکھنے والا بھیونڈی شہر اب گڈھوں کے شہر کے نام سے مشہور ہوگیا ہے ،لیکن سڑکوں کی اس خستہ حالی کودور کرنےکے لئے کارپوریشن انتظامیہ اور نہ ہی عوامی نمائندے سنجیدہ ہونے اور اپنی مستعدی دکھانے کے لئے تیار نہیں۔جبکہ ان خستہ حال سڑکوں کی بد حالی سےبھیونڈی کے لاکھوں عوام بے حد پریشان ہیں اور ۱۵؍ منٹ کا سفر دو گھنٹے میں طے پاتا ہے۔دھیان رہے کہ موسم باراں کے شروع ہونے سے قبل سڑکوں کی درستگی کے نام پر کروڑوں روپئے خرچ ہو چکے ہیں ۔جس میں بڑے پیمانے پر بد عنوانی کا الزام بھی کارپوریشن انتظامیہ پر لگتا رہا ہے اور بار بار ایک ہی سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اتنی خطیر رقم خرچ کرنے کے باوجود عوام کو یہ بات سمجھ میں نہیں آ رہی ہے کہ سڑکوں میں گڈھے ہیں یا گڈھوں میں سڑکیں۔بھیونڈیشہر کا کوئی چوک ،کوئی سڑک اور کوئی گلی کوئی محلہ گڈھوں سے محفوظ نہیں۔ہر طرف گڈھے ہی گڈھے نظر آ رہے ہیںاور راہ چلتے ذرا بھی چوک ہو گئی تو جان لیوا حادثے کا ہونا یا پھر بری طرح زخمی ہونے کی پوری گیارنٹی ہو جاتی ہے۔دیکھا جائے تو بھیونڈی کارپوریشن صدر دفتر کے سامنے ،بھیونڈی کورٹ کے سامنے ، پرانت آفس کے سامنے سے گزرنے والی پوری سڑک پر بڑے بڑے گڈھے ہوگئے ہیں۔ ان سرکاری دفاتر میں روزانہ سینکڑوں افراد کا انہیں سڑکوں سے آنا جانا ہوتا ہے۔ہزاروں اسکولی بچے بھی انہیں راہوں سے گزرتے ہیں۔ ان کے علاوہ تحصیلدار دفتر، رجسٹرار کا دفتر،سیتو کا دفتر، بھیونڈی ذون ۲؍ کے ڈی سی پی کا دفتر،بھیونڈی تعلقہ پولس تھانے ،کرائم برانچ محکمہ ،تلاٹھی ،سرکل کے دفاتر بھی انہیںگڈھو ں سے بھری سڑکوں سے متصل ہیںاور روزانہ ان تمام دفاتر تک آنے جانے والے ہزاروں افرادکو ان گڈھوں کے ساتھ ساتھ گندے کیچڑ پانی سے گزرنا پڑتا ہے۔ گڈھوں سے بھری اسی سڑک کے بیچوں بیچ سے آنجہانی راجیو گاندھی فلائی اوور برج اپنی خستہ حالی کا رونا رو رہا ہے۔ کئی ماہ سے اس فلائی اوور پر سے بڑی گاڑیوں کا گزر بند کر دیا گیا ہے لیکن فلائی اوور کی خستہ حالی اور تکنیکی خامیوں کے سبب فلائی اوور پرجمع ہونے والا گندہ پانی اس کے نیچے سے گزرنے والے ہزاروں افراد پربارش کے دوران مسلسل گرتا رہتا ہے۔ موصولہ جانکاری کے مطابق کارپوریشن انتظامیہ نے فلائی اوور کی مرمت کرنے کا ٹھیکہ ایم ایم آر ڈی اے کو دے رکھا ہےجو آج تک پورا نہیں ہوا۔دوسری جانب سڑک پر ابھر آئے گڈھوں کو بھرنے کی کارپوریشن نے اپنے طور پر کوشش بھی کی ، پتھر ، کانکریٹ اور گریڈ پاوڈر وغیرہ کا استعمال کیا جو بار بار موسلادھار بارش کی نذر ہوتا رہا ہے اور تمام گڈھے اپنی جگہ حسب سابق قائم ہیں جس کی وجہ سے پورے شہر میں ٹریفک جام کا سلسلہ جاری ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker