مضامین ومقالات

دفعہ 370 بھی اگر نوٹ بندی ثابت ہوجائے تو کیا ہوگا؟

 

ڈاکٹر سلیم خان

کشمیر کے حوالے سے بی جے پی نے دو بڑے جھوٹ پھیلا رکھے ہیں۔ پہلا تو یہ کہ سردار ولبھ پٹیل دفع 370 کے خلاف تھے اور پنڈت جواہر لال نہرو نے زبردستی اس کو آئین میں شامل کیا ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ 3 نومبر 1949کو یہ دفعہ آئین میں شامل کرتے وقت پنڈت نہرو امریکہ میں تھے ۔ ان کی پیشگی توثیق حاصل کرلی گئی تھی لیکن مجلس دستور ساز کو اس کے لیے راضی کرنے کا کارنامہ خود سردار پٹیل نے انجام دیا۔ اس وقت شیاما پرشاد مکرجی مجلس میں موجود تھے مگر انہوں مخالفت کرنے کے بجائے خاموش رہناپسند کیا ۔ آگے چل کر جن سنگھ کی صدارت سنبھالنے کے بعد سیاسی مفاد کی خاطر وہ اس کے مخالف ہوگئے۔ جموں و کشمیر کے حوالے سے دوسری غلط فہمی یہ پھیلائی جاتی ہے کہ وادی کے مسلمانوں کی منہ بھرائی کے لیے کانگریس نے دفع 35 (اے)کے ذریعہ غیر ریاستی باشندو ں پر جائیدادیں خریدنے اور ملازمت کے حصول پر پابندی عائد کردی جبکہ حقیقت اس سے متضادہے ۔

یہ قانون دراصل 1927ء میں ڈوگرہ مہاراجہ ہری سنگھ نے وضع کروایا ۔ کئی عوامل کے پیش نظر وہ ایسا قانون بنانے پر مجبور ہوئے۔ اتفاق سے اس میں مسلمانوں کا کوئی عمل دخل نہیں تھا ۔ کشمیری پنڈتوں کو اعتراض تھا کہ پنجابی اور دیگر غیر ریاستی باشندوں کا تناسب سرکاری ملازمتوں میں بڑھتاجارہا ہے۔ اس کے سبب پنڈتوں کی نمائندگی سمٹ رہی ہے۔ براہمنوں کے لیے چونکہ مقابلہ جاتی امتحان میں پنجابیوں کو پچھاڑنا مشکل تھا اس لیے انہوں نے ریزرویشن طلب کیا اور یہ قانون بنا۔ اس وقت کشمیرکے ناخواندہ مسلمانوں کو سرکاری ملازمت میں دلچسپی نہیں تھی اس لیے ریزرویشن ان کے لیے بے سود تھا۔ آگے چل کر اندرا گاندھی کے ایماء پر گورنرجگموہن نے وادی سے کشمیری پنڈتوں کا انخلاء کروایا اور وہ اس سہولت سے ازخود محروم ہوگئے ۔ یہ اور بات ہے مظلوم پناہ گزین کے بھیس میں ان لوگوں نے بے شمار سرکاری سہولتوں کا فائدہ اٹھایا ۔

اس حقیقت کو یکسر بھلا دیا جاتا ہے کہ وادی کے مسلمانوں کی طرح جموں کے ڈوگروں کو بھی ۳۵(اے) کے تحت تمام مراعات حاصل تھیں لیکن وہ ایسے نااہل نکلے کہ کسی میدان میں مسابقت نہیں کرسکے ۔ مسلمانوں نے بفضل تعالیٰ تعلیم اور صلاحیت کے بل پر ملازمت و تجارت دونوں میدانوں میں کشمیری پنڈتوں اور جموں کے ڈوگروں کو پیچھے چھوڑ دیا۔ یہی وجہ ہے مختلف شعبہ ہائے حیات میں جموں کشمیر نے گجرات سمیت کئی ریاستوں سے آگے ہے۔ یہ حسن اتفاق ہے کہ ۹۰ سال قبل جن کشمیری پنڈتوں نے‘‘کشمیر، کشمیریوں کا ہے ’’ کا نعرہ بلند کرکے پنجابیوں پر نہ صرف ملازمتوں بلکہ غیر منقولہ جائیداد خریدنے پر بھی پابندی لگوائی تھی وہی اب دفع ۳۵( اے) کی مخالفت پر کمر بستہ ہیں ۔ ویسے ابھی حال میں سبکدوش ایر وائس مارشل کپل کاک ، معروف ماہر قلب اوپندر کول ،سینئر صحافی شاردہ اُگرہ، پردیپ مگازین انورادھا بھاسن اور ای کے رائنا جیسے۶۴ معروف باشعور کشمیری پنڈتوں نے اس فیصلے کی کڑی تنقید کی ہے۔ انہوں نے اسے غیر آئینی اور حکومت ہند کی کشمیر کے عوام سے تاریخی بدعہدی قرار دیا ہے۔ انہوں اس طریقۂ کار کو چوری چھپے کی جانے زبردستی بتاتے ہوئے کہا کہ مشورہ کیے بغیریا اعتماد میں لیے بنا یکطرفہ ان پر فیصلہ تھوپ دیا گیا۔ اس عرضی پر نامور سکھوں اور ڈوگرا سماج کے لوگوں کے دستخط اس دعویٰ کی تردید کرتاہے کہ سارا ملک بشمول کشمیری عوام اس سے خوش ہیں ۔

راجہ ہری سنگھ کے زمانے میں ۳۵(اے) کے تحت دیگر ریاستوں کے مرد کشمیری خواتین (جن میں مسلمان اور پنڈت دونوں شامل تھے) سے بیاہ رچا کروہاں کی جائیداد کےحقدار ہوجاتے تھے اس لیےراجہ ہری سنگھ نے۔ باہر کے لوگوں کو شادی رچا کر اپنی بیوی کے نام سے جائیداد لینے سے روکنے کی خاطر اسلامی شریعت کے خلاف لڑکیوں کو ایسی شادی کے بعد وراثت سے محروم کرنے کا قانون بنادیا ۔ بی جے پی کے احمق یہ سمجھتے ہیں چونکہ باہر کے لوگ وہاں جائیداد نہیں خرید سکتے تھے اس لیے کشمیری لڑکیاں ان سے شادی نہیں کرتی تھیں ۔ شادی کے بعد عام طور پر دلہن اپنے سسرال آجاتی ہے۔ دوردراز شادی کرنے والی لڑکی کا اپنے میکے سے ویسے بھی ناطہ ٹوٹ سا جاتا ہے۔

ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر جیسے لوگ فی الحال بڑی بے حیائی کے ساتھ عوامی جلسوں میں کشمیر سے بہو لانے کی باتیں کررہے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہریانہ میں بیٹیوں کو حرم مادر میں قتل کرنے کا رواج عام ہے ۔ اس سفاک صوبے کے اندر فی الحال ۱۰۰۰ مردوں کے مقابلے صرف آٹھ سو بیالیس لڑکیاں ہیں ۔ اس لیے باہر جاکر شادی کرنا ان کی مجبوری ہے لیکن اگر انہیں کشمیری بہو لانی ہو تو پنڈتوں کی لڑکیاں پہلے سے جموں ،پنجاب ہریانہ اور دہلی کے اندر وافر مقدار میں موجود ہیں۔کشمیر کی مسلمان دوشیزہ تو خیر ایسے لوگوں کے منہ پر تھوکے گی بھی نہیں جو اپنی بچیوں کے قاتل اور دوسروں کی بیٹیوں کی اجتماعی عصمت دری کرتے پھرتے ہیں۔ انہیں لوگوں نے دہلی کو ریپ کیپٹل بنا رکھا ہے۔اس معاملے میں ہریانہ بھی دہلی سے پیچھے نہیں ہے۔ کھٹر جیسے لوگوں کے زیر سایہ رام گوپال یادو اور آسارام باپو کے آشرم میں جو کچھ ہوتا ہے اس سے ساری دنیا واقف ہے۔ اس طرح کی لچر اور غیر ذمہ دارانہ بیان بازی کشمیری لڑکیوں کی توہین کے ساتھ جموں کی خواتین کی تضحیک بھی ہے۔ وہ تو یہی سوچتی ہوں گی کہ مختلف پابندیوں کے ختم ہونے پر بھی کوئی ان کی جانب متوجہ نہیں ہوتا۔

راجہ ہری سنگھ ڈوگرا برادری سے تعلق رکھتے تھے اور انہیں اقتدار کے باوجود یہ اندیشہ تھا کہ موسم کی مناسبت سے برطانوی افسران کشمیر میں مستقل رہائش نہ اختیار کر لیں۔ یہی خطرہ جموں کے ڈوگرا باشندوں کو اب بھی لاحق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دفع ۳۷۰ کا خمار اتر تے ہی ا نہوں نے اپنے تحفظ کا مطالبہ شروع کردیا ہے ۔ڈوگرا سماج کی متوقع بے چینی کو دبانے کے لیے پینتھر پارٹی کے رہنما ہرش دیو سنگھ ، ڈوگرا سوابھیمان سنگٹھن کے بانی چودھری لال سنگھ، کانگریس کے رمن بھلا اور سارے سابق وزراء سے چار دنوں تک اظہارِ خیال کی آزادی چھین لی گئی ۔ یہی وجہ ہے کہ فاروق عبداللہ اور غلام نبی آزاد کا بیان تو آگیا لیکن جموں کے سارے دھُرندر منہ میں دہی جمائے بیٹھے رہے ۔ پانچویں دن جموں کے بی جے پی رہنما اور سابق اسمبلی اسپیکر نرمل سنگھ کی چونچ کھلی تو انہوں نے زمین کی فروخت پر پابندی اور ملازمت میں ریزویشن کا مطالبہ کردیا۔

نر مل سنگھ نے اعتراف کیا چونکہ حزب اختلاف نے زمین اور ملازمت پر بحث شروع کردی ہے اس لیے ہم لوگ بھی اس موضوع پر گفتگو کرنے لگے ہیں کہ دفع ۳۷۰ ہٹ جانے کے بعد کیا ہوگا؟ ۔ بی جے پی کےریاستی صدر رویندر رائنا کا موقف ہے کہ فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں جموں کشمیر کی اسمبلی پارٹی مقامی لوگوں کے تحفظ کی خاطر قانون بنائے گی۔ ان کی تائید میں بی جے پی کے جنرل سکریٹری نریندر سنگھ فرماتے ہیں مرکزی سرکار کے زیر نگرانی پانڈیچری میں بھی تو باہر کے لوگ زراعتی زمین نہیں خرید سکتے ۔بی جے پی کے صوبائی ترجمان سنیل سیٹھی نے تسلیم کیا کہ سرکار ان مسائل پر لائحہ عمل ترتیب دے رہی ہے۔ ہماری پڑوسی ریاستوں میں مقامی لوگوں کو زراعت کے شعبے میں تھفط فراہم کرنے کے لیے قوانین موجود ہیں ۔انہوں نے مثال دے کر بتایا کہ پنجاب میں کسی فرد کو سرکاری ملازمت کا حقدار ہونے کے لیے کم از کم ۶ سال کی رہائش لازم ہے۔ ہماچل پردیش میں کوئی باہری شخص زراعتی زمین نہیں خرید سکتا کچھ علاقہ میں کوئی غیر ریاستی باشندہ کسان کی ۵۰ فیصد سے زیادہ زمین نہیں خرید سکتا۔ان کے مطابق گوکہ ہر ہندوستانی جموں کشمیر میں رہائش اختیار کرسکتا ہے لیکن اسی کے ساتھ مقامی لوگوں کے حقوق کا تحفظ بھی لازم ہے۔

وزیراعظم نے تو بڑے طمطراق سے قوم کے نام اپنے خطاب میں مغربی پاکستان سے آکر بسنے والے پناہ گزینوں اور بالمیکی سماج کا بکھان کیا مگر سنیل سیٹھی ان کو بھی ڈومیسائل کے معاملے میں سہولت دینے کے لیے راضی نہیں ہیں۔ بی جے پی کے سابق رکن اسمبلی ڈاکٹر گگن بھگت تو پچھلے سال سے یہ کہہ رہے ہیں کہ ۳۵ (اے) کے چلے جانے سے سب سے زیادہ نقصان جموں کے ڈوگروں کا ہوگا اس لیے کہ وہ کشمیری مسلمانوں سے تعلیم وفن میں پیچھے ہیں ۔ انہوں نے تو یو ٹیوب کے اوپر اپنی ویڈیو میں یہاں تک کہا تھا کہ اگر یہ ہٹ گیا تو نہ صرف ڈوگرے مہاراشٹر کے مراٹھوں کی طرح ریزرویشن مانگنے پر مجبور ہوجائیں گے بلکہ بعید نہیں کہ عسکریت پسندی کی جانب مائل ہوجائیں ۔ ڈاکٹر گگن پر پارٹی نے سختی کی تو وہ ۷ ماہ قبل استعفیٰ دے کر نیشنل کانفرنس میں چلے گئے ۔ اب سوال یہ ہے کہ آئندہ انتخاب میں جموں کاڈوگرا سماج کسے ووٹ دے گا؟ اس بی جے پی کو جس نے ان سے ۳۵ (اے) کی مراعات چھین لیں اور باہر کے لوگوں کو ان پر مسلط کردیا یا ان جماعتوں کو جو دفع ۳۵ ( اے) کی مخالفت کرتی ہیں تاکہ ان کی سہولیات کا سلسلہ جاری و ساری رہے ۔ ہندوستان کی تاریخ میں پہلی بار کسی صوبے کا درجہ گھٹا کر اسے یونین ٹریٹری میں تبدیل کیا گیا ہےاور یہ کشمیرکے ساتھ جموں کے ساتھ بھی کی جانے والی ناانصافی ہے ۔

وزیر اعظم یقین دلارہے ہیں کہ بہت جلد جموں اور کشمیر میں انتخابات ہوں گے۔ جموں میں ۳۰ فیصد مسلمان ہیں جو بی جے پی کو کسی صورت ووٹ نہیں دیں گے اگر ڈوگرا سماج کے ۲۰ فیصد ناراض لوگ بھی ان کے ساتھ ہوگئے تو کیا بی جے پی پہلے کی طرح ۲۵ نشستیں جیت سکے گی ؟ اگر بی جے پی کی حالت جموں کشمیر میں پہلے سے بدتر ہوجائے تو کیا وہ ملک بھر میں وہ منہ دکھانے کے قابل رہے گی ؟ اس ناعاقبت اندیش فیصلے کے نتیجے میں اگر کشمیر کے اندر عسکریت پسندی کو فروغ ملتا ہے جس کا اندیشہ بہتیرے لوگ مثلا خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ دُّلت جتا چکے ہیں۔ اگر ویسا ہوجائے تو بی جے پی کی کیا حالت ہوگی ؟ ذرا تصور کریں کہ نوٹ بندی کے بعد بی جے پی نے کیسا ہواّ کھڑا کیا تھا کہ اس سے کالا دھن ختم ہوجائے گا۔ خزانہ لبالب بھر جائے گا ۔ دہشت گردی دم توڑ دے گی وغیرہ وغیر اور اسی کے نام پر اتر پردیش کا انتخاب بھی جیت لیا لیکن 2019 کے قومی انتخاب میں انہیں نوٹ بندی کو پوری طرح بھلا دینا پڑا ۔ اس سال یوم آزادی کے موقع پر تو پردھان سیوک اپنے اس کارنامہ پر اپنی پیٹھ خوب تھپتھپائیں مگر بعید نہیں کہ 2024 کی انتخابی مہم میں وہ اس کو ایک بھیانک خواب کی مانند بھولنے پر مجبور ہوجائیں ۔ آگے کیا ہوگا یہ کوئی نہیں جانتا لیکن کچھ بھی ہوسکتا ہے یہ سبھی جانتے ہیں ۔

(بصیرت فیچرس)

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker