ہندوستان

علمائے کرام کی قربانیوں کے بغیر آزادی ممکن نہیں تھی

 

نئی دہلی(پریس ریلیز)

وحدت میں کثرت ہمارے ملک ہندوستان کی شناخت ہے۔ یہاں سارے مذہب اور دھرم کے لوگ آپسی بھائی چارہ اور قومی یکجہتی کے ساتھ رہتے ہیں اور ایک دوسرے کے غم و خوشی میں شریک رہتے ہیں۔ ہمارا ملک پیار و محبت سے زندہ ہے اور یہی اس کی پہچان ہے۔ اگر ملک میں پیار نہیں ہوگا ، محبت نہیں ہوگی تو ملک میں آگ لگ جائے گی اور ملک برباد ہوجائے گا۔ 73ویں جشن آزادی کے موقع پر مدرسہ اصلاح المسلمین میں منعقد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آل انڈیا ہیومن کیئر فائونڈیشن کے چیئرمین حافظ فرحان اختر نے کہا کہ یہ ملک سب کا ہے اور سبھوں نے ملک کی آزادی میں اپنی قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے جنگ آزادی کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ جنگ آزادی میں علمائے کرام نے جس طرح قربانی اس کی مثال نہیں ملتی۔ تاریخ سے پتا چلتا ہے شاملی سے لے کر دہلی تک کوئی ایسا درخت نہیں تھا جس پر آزادی کے متوالے علمائے کرام کا سر کاٹ کر نہ لٹکایا گیا ہو۔آج ہم جس ملک میں سانس لے رہے ہیں وہ صرف اور صرف شاہ عبد العزیز ، شاہ اسماعیل شہید، مولانا قاسم نانوتویؒ ، مولانا محمود حسن وغیرہ اور نہ جانے کتنے علمائے کرام کی مرہون منت ہے۔ مولانا فرحان اخترنے دیوبند کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ انگریزوں کی تو حکومت تھی ،مگر ان بوریا نشینوں کے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔انہوں نے قوم کو پیغام دیا ۔کہاکہ اگر یہ مدرسہ زندہ ہے تو تمہاری آنے والی نسلیں زندہ ہیں،اگر یہ مدرسہ مر گیا تو نسلیں مر جائیں گی۔آج ڈیڑھ سو سال سے زیادہ برس ہو گئے۔ اس دارالعلوم سے دنیا بھر میں ہزاروں دارالعلوم پیدا ہو گئے ۔اور کسی ملک سے ایک پیسے کی مدد نہیں لیتے،پوری قوم کو اس پر لگا دیا۔ پونے دو سو سال سے قوم اسی میں لگی ہوئی ہے ۔ اگر تاریخ کا صحیح اور ایمانداری سے مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ہندوستان میں انگریزوں کے خلاف اگر کوئی سب سے پہلے آواز اٹھایا تھا تو وہ علمائے کرام ہی تھے نہ کہ کانگریس ۔ کیونکہ کانگریس کی بنیاد پرنے سے تقریباً ۸۰ سال پہلے ہی شاہ عبد العزیز محدث دہلوی نے انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ جاری کردیا تھا اور انگریزوں کے خلاف آزادی کے متوالوں کی پوری فوج جمع کرنے میں لگ گئے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انگریز ان بوریا نشینوں سے خوفزدہ تھے کہ ان بوریا نشینوں کے پاس نہ تو کھانے کو کچھ اور نہ کوئی سہولت ہے پھر بھی اپنے ملک کے لئے جان دینے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ آخر میں انہوں نے ملک کے وزیراعظم سے اپیل کی کہ آج جس طرح سے ملک میں نفرت اور خوف کا ماحول ہے وزیراعظم کو چاہئے کہ ان شرپسند عناصر پر لگام لگائیں تاکہ ملک کی یکجہتی قائم رہے کہیں ایسا نہ ہو کہ بہت دیر ہوجائے اور ملک ایسی آگ کی لپیٹ میں آجائے جہاں سے نکل پانا بہت مشکل ہو۔ آج جس طرح سے انتظامیہ اور پولیس کی پشت پناہی سے شرپسندعناصر کے حوصلے بلند ہیں اس سے ملک بربادی کے دہانے پر کھڑا ہے۔آئیے آج یوم آزادی کے موقع پر عہد کریں کہ نفرت کو مٹاکر دم لیںگے بھائی چارہ اور قومی یکجہتی کو فروغ دیں گے۔ اس عظیم الشان تقریب میں مدرسہ اصلاح المسلمین کے ناظم قاری جبریل ، قاری اسجد، محمد سہیل اختر وغیرہ نے شرکت کی۔

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker