مضامین ومقالات

ارتداد سے حفاظت کی تدبیریں( قسط نمبر 10)

 

بقلم:
مفتی محمد اشرف قاسمی

عالم ہمہ ویرانہ زچنگیزئ افرنگ
معمارحرم باز بہ تعمیر جہاں خیز

دورحاضر میں ائمہ متبوعین کی باغی جماعت

قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لا تقوم السا عۃ حتی یلعن آخرُ الا مۃ اولَھا
(المعجم للطبرانی۴/۶۹؍حدیث نمبر۵۲۴۱؍)
’’ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فر مایا کہ قیا مت قا ئم نہیں ہو گی جب تک امت کے آ خری لو گ، پہلوں پر لعنت نہ کرنے لگیں۔‘‘(طبرا نی)
دور جدید میں ائمۂ متبوعین کے متواتر ومتوارث استنباطات و بیان فرمودہ اَحکام کے خلا ف، حدیث کی طرف اپنے کو منسوب کرکے حدیث حدیث کی گردان کرنے والی ایک نئی نویلی جماعت نے اکا برو اسلا ف پر لعن وطعن میں تمام حدود کوپا رکردیا۔ حتی کہ اس فر قہ کی طرف سے کعبہ اللہ میں بھی اس شنیع کام میں بڑی دلچستی کا مظا ہرہ کیاجا رہا ہے ۔ شاید ان کی کو ئی ایسی مجلس ہو جس میں امت کے درمیان متوارث اور اصحاب رسول ﷺ اورا ئمۂ متبوعین کے متفقہ فیصلوں کے خلا ف ریما رک نہ دیا جاتا ہو یا نہ کہا جاتا ہو( مجلس وا حد میں طلا قِ ثلا ث، بیس رکعت تراویح وغیرہ کے سلسلے میں) یہ تو بدعت عمری ہے۔( جمعہ کی اذان ثا نی کے بارے میں) یہ تو عثمان کی ایجاد ہے۔ابو حنیفہ کو چھوڑو۔ علمائ سے رشتہ تو ڑو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علماء واسلا ف کے تعلق سے امت میں بد گما نیاں پیدا کرنا ہی اس فرقے کامشغلہ ہے ۔ مصر میں’’حا فظ محمد مرسی ‘‘کی منتخب حکو مت کے خلا ف ’’ حزب النور‘‘ کے پلیٹ فارم سے ملحد یہو دیہ زادے ’’ ابو الفتاح السیسی‘‘ کی حما یت میں دین دار مسلمانوں کے قتل عام میں، اس فرقہ کی شمولیت نےتو بر ہنہ طور پر اپناخارجی روپ دنیا کو دکھا دیا۔ اس طرح گو یا یہ جماعت قیا مت کی ایک بڑی اور بری علامت ہے ۔ اور اسلافِ امت پر طعن وتشنیع کرنے کے لیے اس نے خوا رج کی طرح مسجدوں کا گو شہ منتخب کرنے کے بجائے ترقی کر کے منبروں کو اپنا اسٹیج بنا لیا ہے ۔ یہ نئی نویلی جما عت اپنے کو اہل حدیث اور غیر مقلد کہتی ہے۔
قرآن مجید اور احا دیث نبویہ میں یہودی علماء اور عوام کی گمرا ہی کو بہت ہی بسط وتفصیل سے بیان کیا گیا ہے ، اور ان کی ایک بڑی برائی یہ بیان کی گئی ہے کہ انہوں نے اپنی نفسانی خوا ہشات کی تکمیل کے لیے قصدا کتب سما ویہ میں تحریف کی ، اور ان کی عوام نے آنکھیں بند کرکے ان کی باتوں کو ہی خدا ئی حکم مان لیا۔یہودیوں کی اس طرح اندھی اتباع ، پیروی اور تقلید شخصی کی مثال موجودہ دور میں غیر مقلدین ہیں ۔ اگر غیرمقلدین علماءخا لص اسلام، قر آن وسنت کے استعلاء اور بالا دستی کے دعوے میں قصدا بد نیتی میں مبتلاء نہیں ہیں، تو پھر انہیں مختلف فیہ مسائل اور احکام میں صحیح نتیجے تک پہونچنے کے لیے دوسرے فریق کے علماء سے با لمشافہ بحث ومبا حثہ کے لیے ہروقت تیار رہنا چاہئے، اور کبھی بھی کسی بھی مختلف فیہ مسئلے میں مباحثہ اور غور وخوض کے لیے ایک سا تھ بیٹھ کر بات کر نے سے انکا ر نہیں کرنا چاہئے۔ لیکن ایسا مسلسل دیکھنے میں آتا ہے کہ علماء غیر مقلدین اپنی تقلید کرانے کے لیے ہندی اردو میں چھوٹے بڑے لیٹریچر عام مسلمانوں میں تقسیم کرتے رہتے ہیں اور علماء اسلام سے لوگوں کو بدظن کرتے ہو ئےحدیث کے نام پر اپنی تقلید کے لیے ذہن سازی کرتے ہیں ، اوراصل کتب حدیث سامنے رکھ کر بحث ومباحثہ اور بات کرنے کے لیے کسی بھی حال میں تیار نہیں ہو تے ہیں ۔ اس سے معلوم ہو تا ہے کہ یہ اپنے دعوے میں سچے نہیں ہیں ۔ ایسی صورت میں جب کہ غیر مقلدین عام مسلمانوں کو علماء اسلام کی تحقیق پراعتماد کرکے عمل کرنے کو شرک قرار دیتے ہیں ، توقر آ ن وسنت سے براہ راست استفادہ کی صلاحیت نہ رکھنے وا لے مسلم ڈاکٹرس، انجینرس، ٹیچرس، پروفیسرس، تجاراور اصحاب حل وعقد مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ غیر مقلدین کی کتا بیں، لٹریچر اور آ ڈیو زوغیرہ پراعتماد کرنے کےبجائے قر آ ن وسنت کی روشنی میں ان کی باتوں کی صداقت اور حقیقت کو سمجھنے کے لیے غیر مقلدین علماء کو دوسرے فریق کے علماء کے سامنے حاضر کریں اور بحث ومبا حثہ کے لیے انہیں تیار کریں ، اس طرح بحث و مبا حثہ۔کے بعد شریعت کا جوحکم منقح کو ہو کر سامنے آ ئے اس پر عمل کریں ۔ اسی طرح فتنوں سے بچا جا سکتا ہے ۔ ورنہ کوئی بھی ملحد اپنے پیٹ میں بنائی ہو ئی بات کو حدیث کہہ کر آ پ کے سینے سے آ پ کا دین وایمان نکال سکتا ہے ۔

*فتنوں سے حفاظت کے لیے دین دار علماء کی تقلید ضروری ہے۔*

عاصم الا حوال ،عن ابن سیرین، قال : لم یکونوا یسائلون عن الا سناد، فلما وقعت الفتنۃ، قالوا: سمو النا رجالکم، فینظر الی اھل السنۃ فیوخذحدیثُھم وینظرالی اھل البدع فلایوخذ حدیثھم۔

( صحیح مسلم برقم الحدیث۲۷)
:ابتدائی دورمیں اسناد(حدیثیں بیان کرنے والوں) کے بارے میں کوئی سوال نہیں کیا جا تا تھا، جب فتنہ شروع ہوگیا تو احادیث نبویۃ علی صاحبھا الصلاۃ والسلام جمع کرنے وا لے علماء،حدیث بیان کرنے والوں سے کہتے کہ حدیث جس سے سنی اور لی ہے ان سب کے نام بتاؤ تا کہ سنت کے مطابق انہیں دیکھ کر ان سے حدیث لی جائے اور اہل بدعت کو دیکھ کر ان کی حدیث نہ قبول کی جائے۔‘‘مسلم
امام بخاری نے کتاب الفتن میں ایک حدیث نقل فرما ئی جس میں فتنوں کے دور میں من مانی اور ہر شخص کو اپنی نا قص معلوما ت کے بجا ئے مسلمانوں میں مروج ومتوارث مسائل میں جانکار اور ذمہ دار،دین دار علماء وامراء کی تقلید کا حکم فر مایا گیا ہے۔

“عن عبد العزیز بن رُفیع، قال: سألتُ انس بن ما لک، اخبرنی بشیء عقلتہ، عن النبی ﷺ’ این صلی الظھر یوم الترویۃ؟ قال : بمنی، قلتُ: فاین صلی العصر یوم النفرَ قال: بالابطح، افعل کما یفعل امرائک!‘‘( بخا ری برقم الحدیث۱۷۶۳؍)

حضرت عبد العزیز بن رُفیع کہتے ہیں کہ میں حضرت انس ؓسے پوچھا کہ مجھے وہ حدیث بتا ئے جو رسول اللہ ﷺ سے سنی ہو ئی آ پ کو یا د ہو کہ انہوں نے آ ٹھویں ذی الحجہ کے دن ظہر کی نماز کہاں پڑھی تھی؟ انہوں نے کہا کہ منی میں، میں نے پوچھااور روانگی کے دن عصر کی نماز کہاں پڑھی تھی، انہوں نے کہا کہ ابطح میں اور تم اسی طرح کرو جس طرح تمارے دین دار حاکم لوگ کرتے ہوں (تا کہ تم فتنہ میں نہ پڑجاؤ)
( بخا ری حدیث نمبر۱۷۶۳)

کتبہ: محمد اشرف قاسمی
خادم الافتاء شہرمہد پور
ضلع اجین ایم پی
ashrafgondwi@gmail.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker