ہندوستان

سہارنپور میں صحافی اور اس کے بھائی کا بے رحمانہ قتل

 

علاقہ میں انتظامیہ کے خلاف شدید غصہ،صحافیوں میں بھی ناراضگی،علاقہ میں پولیس تعینات

دیوبند۔ ۱۸؍اگست: (رضوان سلمانی) اترپردیش کی یوگی حکومت صوبائی نظم ونسق کو برقرار رکھنے میں پوری طرح ناکام ہوچکی ہے ، پورے صوبے میں اس وقت غنڈہ راج ہے، یوگی پولیس بے گناہوں کو مار رہی ہے لیکن شاطر مجرموں اور قتل وغارت گری کرکے ماحول خراب کرنے والوں کے خلاف کوئی بھی قانونی اقدام کرنے سے گریز کررہی ہے جس کے باعث مجرمین اور غنڈوں کے حوصلے بلند ہیں ۔ اسی ماحول کو مزید پراگندہ کرنے کے لئے سہارنپور میں ایک معمولی تنازعہ کے سبب ہندی روزنامہ دینک جاگرن کے نامہ نگار اور اس کے سگے بھائی کو دن دہاڑے گولی مارکر موت کے گھاٹ اتاردیا گیا ۔ اس واقعہ کے بعد عوام میں پولیس اور صوبائی حکومت کے خلاف سخت ناراضگی پائی جاتی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق سہارنپور کے مادھو نگر علاقہ میں ہندی روزنامہ دینک جاگرن کے نامہ نگار 25سالہ آشیش کمار کا گھر ہے جہاں پر وہ اپنی اہلیہ ،ضعیف ماں اور 18سالہ بھائی آشو توش کمار کے ساتھ رہتے تھے ،ان کے پڑوس میں رہنے والے مہی پال سینی سے صبح کے وقت گائے کے گوبر ڈالنے کی بات پر معمولی تنازعہ ہوگیا جس کے رد عمل میں مہی پال نے دونوں بھائیوں آشیش کمار وآشوتوش کمار کے سروں پر ڈنڈے برساکر بری طرح لہو لہان کردیا۔ بعد ازاں مہی پال سینی نے اپنے دو بیٹوں کے ساتھ آشیش کمار کے گھر میں گھس کر دونوں بھائیوں کو گولی مارکر موت کے گھاٹ اتاردیا اور فرار ہوگئے ۔ دو نوجوانوں کے ایک ساتھ قتل کئے جانے پر علاقہ میں کہرام مچ گیا ،اطلاع ملتے ہی پولیس کے اعلیٰ افسران مع فورس کے موقع پر پہنچے اور انہوں نے سب سے پہلے وہاں جمع بھیڑ کو لاٹھی چارج کرکے بھگادیا اور مہی پال سینی کے گھر کو سیل کردیا ۔ ڈی آئی جی اوپیندر اگروال، ایس ایس پی دنیش کمار پی سمیت تمام اعلیٰ افسران آناً فاناً مقتول آشیش کمار کے گھر پہنچ گئے، حالات وواقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ جھگڑے کی ابتدا کوڑا ڈالنے کے تنازعہ سے ہوئی لیکن پولیس نے جائے واردات پہنچ کر جس طرح کا رویہ اختیا رکیا اور اس کا جھکائو بھی قاتلوں کی جانب نظر آیا اس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ صحافی اور اس کے بھائی کا قتل منظم اور سازش کے تحت کیا گیا ہے۔ کیو ںکہ پولیس کی کوئی ظاہر ہ ہمدردی مقتول یا اس کے اہل خانہ کے ساتھ نظر نہیں آئی۔ بتایاجاتا ہے کہ آشیش کمار کے گھر کے باہر تین چار گائیں مسلسل بندھی رہتی ہیں ۔ مہی پال سینی کا ماضی بھی مجرمانہ رہا ہے ،علاقہ کے لوگوں کا کہنا ہے کہ مہی پال سینی ہریانہ سے شراب اسمگلنگ کرکے فروخت کرنے کا کام بھی کرتا ہے ۔ اس ناجائز کاروبار سے متعلق آشیش نے ایک تفصیلی خبر بھی دینک جاگرن میں شائع کرائی تھی جس کی وجہ سے مہی پال آشیش اور اس کے اہل خانہ سے رنجش رکھتاتھا اور آج ایک معمولی تنازعہ کو بہانہ بناکر مہی پال سینی اور اس کے دونوں بیٹوں نے آشیش اور آشوتوش کو موقع پر ہی موت کے گھاٹ اتاردیا ،جب کہ ان کی بوڑھی ماں بھی زخمی ہے ۔ آشوتوش کی ماں نے بتایا کہ ایک یوم قبل ہی حملہ آوروں نے اپنے گھر کا سامان کہیں بھیج دیا تھا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے بیٹوں کو ایک منظم سازش کے تحت قتل کیا گیا ہے ۔ اُدھر اس معاملہ کی گونج لکھنؤ تک پہنچی ، وزیر اعلیٰ اترپردیش نے اس معاملہ کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے اعلیٰ افسران کو جلد سے جلد گرفتاری کے احکامات دیئے اورمقتول کے اہل خانہ کو 10لاکھ روپے دینے کا اعلان بھی کیا ہے۔ ایس ایس پی دنیش کمار پی کا کہنا ہے کہ منظم اور پلاننگ کے تحت قتل کی واردات انجام دیئے جانے پر بھی جانچ کی جارہی ہے ، قتل کی واردات کے بعد وہاں جمع ہونے والے مرد وخواتین پر پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج کئے جانے پر بھی عوام میں سخت ناراضگی ہے۔ اس واقعہ کو گنگوہ میں ہونے والے ضمنی الیکشن کے تناظر میں بھی ووٹ بینک کی سیاست سے بھی جوڑ کر دیکھا جارہا ہے ،لوگوں کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کاایک دن پہلے اپنے گھر کا سامان منتقل کردینا ناجائز ہتھیاروں سے دوہرے قتل کو انجام دینا ظاہر کرتا ہے کہ قتل کی واردات انجام دینے کے لئے پہلے سے تیاری کرلی گئی تھی ۔ ایس ایس پی نے بتایا کہ حملہ آوروں کے گھر کو سیل کرنے کے علاوہ دو خواتین کو حراست میں لیا گیا ہے اور قاتلوں کی گرفتاری کے لئے دبش دی جارہی ہے ۔ اس سلسلہ میں صوبائی وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ایس ایس پی کو سخت کارروائی کئے جانے کے احکامات دیئے ہیں ۔ ایس ایس پی کا یہ بھی کہنا ہے کہ مہی پال سینی کامجرمانہ ریکارڈ دیکھا جارہا ہے ،مذکورہ معاملہ میں سخت سے سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker