ہندوستان

۲۲؍اگست کو تھانہ بند، کچھ بھی ہوسکتا ہے، ضروری کام ہو تبھی گھروں سے باہر نکلیں، مہاراشٹر کو گجرات بننے میں دیر نہیں لگے گی: منسے

راج ٹھاکرے کو ای ڈی کی نوٹس پر ہنگامہ، اس سے ریاستی سرکار کا کوئی تعلق نہیں: فڈنویس، مودی اور امیت شاہ کی بھی انکوائری کی جائے ؍ سنجے رائو ت، راج ٹھاکرے کو ای ڈی کی نوٹس حکومت کی غنڈہ گردی: بالاصاحب تھورات، ہٹلر ازم کا متحد ہوکر مقابلہ کریں گے: نواب ملک

ممبئی ۱۹؍ اگست ( عزیز اعجاز کی رپو رٹ) آج اِنفورسمینٹ ڈائریکٹو ریٹ ( ای ڈی ) کی جانب سے مہاراشٹر نو نرمان سینا کے صدر راج ٹھاکرے کوکوہ نور مل زمین خریداری اور تعمیری معاملہ میں 22؍ اگست کے دن ای ڈی کے دفتر میں حاضر ہونے کی جاری کردہ نوٹس پرآج اپوزیشن پارٹیوں نے اپنے شدید غصہ کا اظہار کیا اور الزام لگایا کہ یہ کارروائی جمہوری حقوق کو دبانے اور خاص طور پر 21؍ اگست کو راج ٹھاکرے کی قیادت میں ممبئی سمیت ریاستی گیر پیمانے پر( الیکٹرونک ووٹنگ مشین ) ای وی ایم کےخلاف ہونے والے احتجاج کو کچلنے اور ناکام بنانے کے لئے یہ قدم اُٹھایا گیا ہے ۔بتایا جا تا ہے کہ ای ڈی کی نوٹس آنے کے بعد آج راج ٹھاکرے کی رہائش گاہ پر ایم این ایس کے لیڈران کی ایک ہنگامی میٹنگ ہو ئی ، تاہم اس میٹنگ میں کیا فیصلہ لیا گیا، اس بارے میں کوئی واضح کن بات سامنے نہیں آئی ہے ، لیکن میٹنگ کے بعد پارٹی لیڈر ابھیجیت پنسارے نے میڈیا سے کہا کہ ہماری عوام الناس سے اپیل ہے کہ وہ 22؍ اگست کے دن اہم کام ہونے پر ہی اپنے گھروں سے باہر نکلیں ۔کیوں کہ اُس دن راج ٹھاکرے کے حامیوں کے ہاتھوں کچھ بھی ہوسکتا ہے ۔ انہوںنے یہ بھی کہا کہ مہاراشٹر کا گجرات ہونے میں دیر نہیں لگے گی ، جبکہ دوسری جانب ایم این ایس کی جانب 22؍ اگست کو تھانہ بند کا اعلان کیا گیا ہے۔اس کے ساتھ ہی مہاراشٹر نو نرمان سینا کے ترجمان سندیپ دیش پانڈے نے کہا یہ، ’’یہ انتقامی سیاست کی ایک عمدہ مثال ہے۔انہوںنے مزید کہا کہ کیونکہ راج ٹھاکرے نے وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ دونوں کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔ یہ ہم پر دباؤ بنانے کے ہتھکنڈے ہیں، اب چاہے کچھ بھی ہو جائے ،ہم نہیں جھکیں‌گے۔ وہیں دوسری طرف راج ٹھاکرے کی اہلیہ شرمیلا ٹھاکرے نے کہا کہ ہم پر سرکار کا’’ خاص پریم ‘‘ ہے اور ہمیں ایسے ’’پریم پتروں‘‘ کی عادت ہے ۔دریں اثناء اس ضمن میں جب وزیراعلیٰ دیویندر فڈنویس سے پو چھا گیا تو انہوں نے کہا کہ مجھے میڈیا کے ذ ریعہ معلوم ہو ا کہ راج ٹھاکرے کو ای ڈی نے نوٹس بھیجی ہے ۔انہوںنے یہ بھی کہا کہ اگر راج ٹھاکرے نے قانون کی خلاف ورزی کی ہوگی تو یقیناً اُنہیں سز ا ملے گی اور اگر پوچھ تاچھ کے دوران کوئی ثبوت نہیں ملا ، تو بے شک اُنہیں چھوڑ دیا جائے گا ۔واضح رہے کہ ای ڈی کو سرکاری سیکٹر کی کمپنی’’ آئی ایل اینڈ ایف ایس گروپ‘‘ کے ذریعے ممبئی کی’’ کوہ نور سی ٹی این ایل کمپنی ‘‘کو دیئے گئے 860 ؍کروڑ روپئے کے قرض اور سرمایہ کاری کی جانچ‌کر رہی ہے۔کوہ نور سی ٹی این ایل مہاراشٹر کے سابق وزیراعلیٰ منوہر جوشی کے بیٹے انمیش جوشی کی کمپنی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سال 2005 ؍ میںآئی ایل اینڈ ایف ایس گروپ اور راج ٹھاکرے کی’’ ماتوشری کنسٹرکشن کمپنی ‘‘ کے ساتھ مل‌کرمنوہر جوشی کے بیٹے نے این ٹی پی سی کی کوہ نور مل کے لئے مشترکہ طور پر بولی لگائی تھی اور اس طرح 4.8 ایکڑ میں پھیلی اس زمین کو 421 ؍کروڑ روپئے میں خریدا گیا تھا۔ حالانکہ راج ٹھاکرے 2008 ؍ میں اس کنسورٹیم سے باہر نکل گئے تھے۔ بہیر کیف ای ڈی نے اس مہینے کی شروعات میں کوہ نور کے سینئر افسروں کے بیان درج کئے تھے۔اس پورے معاملے پر ‘اس بیچ کئی حزب مخالف پارٹیوں کے رہنماؤں نے بھی اس قدم کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے نوٹس عدم اتفاق کی آواز کو دبانے کے لئے جاری کئے جاتے ہیں۔ممبئی این سی پی کے صدر نواب ملک نے کہا، ‘ جو حکومت کی تنقید کر رہے ہیں، ان کو نشانہ بنانے کے لئے ای ڈی کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ عدم اتفاق کی آواز کو دبانے کے لئے اداروں کا غلط استعمال ہے۔ ہم راج ٹھاکرے کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ‘غور طلب ہے کہ کبھی وزیر اعظم نریندر مودی کے حمایتی رہے راج ٹھاکرے حالیہ کچھ سالوں میں بی جے پی کے بولڈ ناقد رہے ہیں۔راج ٹھاکرے نے ای وی ایم کے استعمال کو لےکر حزب مخالف کی مخالفت میں اہم رول ادا کیا تھا۔ حزب مخالف پارٹیوں نے اس سے متعلق 21 اگست کو ایک مارچ کی بھی اسکیم بنائی تھی اور ای وی ایم کے بجائے بیلٹ سسٹم کو ترجیح دینے کی مانگ اٹھائی تھی۔راج ٹھاکر ے کو جاری کی گئی ای ڈی کی نوٹس پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے شیو سینا پارٹی کے ترجمان سنجے رائو ت نےکہا کہ کوہ نور مل معاملہ میںاگر کسی پر شبہ ہے ، چاہے وہ میں ہی کیوں نہ ہوں ، یا پھر کانگریس صدر مسز سو نیا گاندھی یا راہل گاندھی کے علاوہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ بھی کیوں نہ ہوں اِن سب کو بھی ای ڈی کی جانب سے سمن بھیج کر ان کے خلاف بھی انکوائری کی جائے ۔ سنجے رائو ت نے مزید کہا کہ اگر یہ سب سیاسی انتقام کے تحت ہو رہا ہے تو یہ بہت ہی غلط اور غیر اُصولی کام ہے ۔انہوںنے دیگر کسی بھی پارٹی کا نام لئے بغیر دعویٰ کیا کہ ایسے بے شمار برے لیڈر ہیں جو شیو سینا میں شامل ہو نے کی خواہشمند ہیں اور اُنہیں پارٹی میں شامل بھی کیا جارہا ہے ،اس کا مطلب یہ نہیں کہ اُنہیں کسی بھی تحقیقاتی ایجنسی سے انوکائری کرانے کا خوف دلایا جارہا ہے ، بلکہ یہ سب لیڈر بغیر کسی شرط کہ اِنفرادی طور پر شیو سینا میں شامل ہو رہے ہیں ۔ اس کے علاوہ رہی بات مہاراشٹر اسمبلی کا چنائو ٹلنے کی ، تو جو لوگ یہ اندازہ لگا رہے ہیں اُن کا اندازہ قطعی طور پر غلط ثابت ہو گا ۔
راج ٹھاکرے کو ای ڈی کی جانب سے نوٹس دیئے جانے کی مہاراشٹرکانگریس نے سخت مذمت کرتے ہوئے اسے مودی وشاہ کی جانب سے راج ٹھاکرے سے بدلہ لینا اور ان کی آواز کو خاموش کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ ریاستی کانگریس کے صدر ایم ایل اے بالاصاحب تھورات نے اس ضمن میں آج یہاں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ راج ٹھاکرے نے حکومت کی غلط پالیسیوں کے خلاف مسلسل آواز بلند کی ہے۔ پارلیمانی انتخابات میں انہوں نے مودی وشاہ کا پردہ فاش کیا تھا نیز اپوزیشن پارٹیوں کو متحد کرکے ای وی ایم کے خلاف عوامی تحریک چھیڑی تھی۔ مودی وشاہ کی آمریت کے خلاف مضبوطی سے کھڑے ہونے کے سبب راج ٹھاکرے کو ای ڈی نے نوٹس دی ہے۔کانگریس پارٹی مرکزی حکومت کی اس غنڈہ گردی کی سخت مذمت کرتی ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ راج ٹھاکرے کوبھیجی گئی نوٹس مودی وشاہ کی انتقامی کارروائی ہے۔ مودی وشاہ کی جوڑی جمہوریت کو بالائے طاق رکھ کر ڈکٹیٹر شپ کے ذریعے ملک چلارہے ہیں۔ حکومت کی غلط پالیسیوں کی مخالفت کرنے والے تمام لوگوں کے پیچھے ای ڈی، انکم ٹیکس وسی بی آئی کو لگایا جارہا ہے۔ سینئر کانگریسی لیڈر پی چدمبرم سمیت کانگریس کے دیگر کئی لیڈران کو یہ اسی طرح پریشان کررہے ہیں۔ملک بھر میں اپوزیشن پارٹیوں کے جو لیڈران حکومت کی غلط پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں انہیں اسی طرح سے نوٹس بھیج کر پریشان کیا جاتا ہے۔ مودی وشاہ کی جوڑی آئینی اداروں کا غلط استعمال کرتے ہوئے اپنے مخالفین کو ختم کرنے کی کوشش کررہی ہے جو جمہوریت کے لئے انتہائی خطرناک ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت کے خلاف آواز بلند کرنے والوں کو ای ڈی کا نوٹس دینا، انہیں ملک دشمن قرار دینا کیا یہی مودی وشاہ کا نیو انڈیا ہے؟ راشٹروادی کانگریس پارٹی کے ترجمان اور ممبئی یونٹ کے صدر نواب ملک نے راج ٹھاکرے کو جاری کی گئی ای ڈی کی نوٹس پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ اپوزیشن پارٹیوں کی آواز دبانے کی کوشش ہے ، ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ بھاجپ سرکارکے اس ہٹلرزم کی تمام اپوزیشن پارٹیاں متحد ہوکر مقابلہ کریں گی۔ نواب ملک نے میڈیا کے جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ ملک بھر میں مختلف طریقوں کا استعمال کرکے اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈران کو مودی سرکار دبانے کی کوشش کررہی ہے۔ ای ۔ڈی ہو یا سی، بی، آئی اِن کا اپنے سیاسی مقصد کے لئے غلط استعمال کیسے کیا جائے، اِس سرکار نے یہ دکھادیا ہے۔ نواب ملک نے مزید کہا کہ گذشتہ لوک سبھا چنائو میں راج ٹھاکرے نے بی جے پی کے خلاف موقف اختیار کرتے ہوئے کچھ سوالات کھڑے کئے تھے، اسی لئے ان کے اندر خوف پیدا کرنے کے لئے انہیں ای ڈی کی نوٹس بھیجی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سرکار اسی طرح اپوزیشن کو ختم کرے گی تو تمام اپوزیشن پارٹیوں کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ متحدہ طور پر اس کا مقابلہ کریں ۔ نواب ملک نے آخر میں کہا کہ ملک وریاست کی عوام یہ سب کچھ دیکھ رہی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اقتدار کا غلط استعمال کرنے والی بی جے پی سرکارکو ملک کی عوام سبق سکھائے بغیر نہیں رہے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker