مضامین ومقالات

آسام کے علاوہ پورے ملک میں این آر سی نہیں این پی آرکا عمل ہوگا، خوف زدہ ہونے کی کوئی وجہ نہیں

محمد برہان الدین قاسمی

آج کل میڈیا اور سوشل میڈیا پراین آر سی کے حوالے سے مختلف قسم کے تبصرے اور بحث و مباحثے کئے جارہے ہیں۔ان کے علاوہ بے شمار واٹس ایپ اور فیس بک پیغامات اور چھوٹے بڑے مضامین جن میں کچھ عجیب و غریب انداز سے لوگوں کواین آر سی کے بارے میں آگاہ کیا جارہا ہےاور آسام میں کیا کیا ہورہا ہے اس کو بیان کیا جارہا ہے۔ ان پیغامات سے حقیقی آگاہی کم اور عوام میں وحشت، خوف اور دہشت زیادہ پھیل رہی ہے۔ لہٰذا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ کچھ باتوں کو بہت ہی مختصراً قلمبند کردیاجائے تاکہ حقیقی صورتحال سب کے سامنے آجائے اورعام مسلمانوں میں بلاوجہ خوف کا ماحول نہ بنے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ ملک کے حالات تشویشناک ہیں، مسلمانوں کو پریشان کیا جارہا ہے اور مستقبل میں حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ان باتوں سے کسی کو انکار کی گنجائش نہیں ہے.گئوکشی کے نام پر ہو یا شرکیہ کلمہ جے شری رام کا زبدردستی نعرہ لگوانا ہو، ان سب باتوں کی وجہ سےکمزور غریب اور مزدور طبقہ کے مسلمانوں کو ستانا، یہاں تک کہ جان سے مار دینا ایک عام سی بات ہوگئی ہے۔ مسلمانوں کو اپنے بقاء، ملک اور آنے والی نسلوں کی سالمیت کے لئے منصوبہ بندی کے ساتھ تیزی سے محض بات چیت کرنے اور مشورہ دینے کے بجائے ٹھوس عملی اقدام کی ضرورت ہے اس بات سے بھی بہت کم ہی لوگ نا متفق ہوں گے. لیکن غلط معلومات پیش کرنا جس سے عوام میں خوف اور احساس کمتری پیدا ہو بالکل مناسب عمل نہیں ہے.

یقیناعوام میں بیداری پیدا کرنے کی جو بھی کوششیں کی جارہی ہیں وہ بظاہراچھی ہو سکتی ہیں اور نوجوانوں کی طرف سے اس طرح کی صحیح کوششوں کی پذیرائی بھی کی جانی چاہیے، لیکن نادانستہ طور پر بھی علاج کے نام پر بیماری میں اضافہ نہیں ہونا چاہیے اور اس کا فوری تدارک ضروری ہے۔ حساس موضوعات پر عوام میں بات کرنے سے پہلے ضروری معلومات کے ساتھ ساتھ معقول انداز بیان سے آراستہ ہونا بھی بنیادی شرط ہے۔ ہر کس و ناکس کے ذریعہ موبائل پر کچھ بھی ریکارڈ کرکےعوام میں پھیلا نا یا اس کو بلا تحقیق وائرل کرنا عقلمندی نہیں ہے۔ اسی طرح بلا تصدیق اور تحقیق کے کسی اہم موضوع پر خبر شائع کرنا اصول صحافت کی سراسر خلاف ورزی ہے۔

آسام میں این آر سی

ہم نے این آر سی پر گزشتہ پندرہ سالوں میں کافی تفصیلی مضامین لکھے ہیں اور ایک سے زائد مرتبہ ایسٹرن کریسنٹ کے کوور یا لیڈ سٹوری کے طور پر شائع ہوئے ہیں۔ یہ مضامین انٹرنیٹ پر موجود ہیں، تفصیل طلب قارئین وہاں سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ اختصار کے ساتھ عرض یہ ہے کہ آسام میں این آر سی کا موضوع خاصا پرانا ہے۔خاص کر سن 1986 سے یہ بہت ہی سنجیدہ سیاسی اور سماجی مسئلہ رہا ہے۔ موجودہ حکومت یا بی جے پی کی اس مسئلہ میں اتنی دلچسپی نہیں ہے جتنی وہاں کے مقامی لوگوں یا سیاسی جماعتوں کی رہی ہے۔ آسام میں این آر سی کے کام کا آغاز حکومت ہند اور آسو کے درمیان 1985 میں طے معاہدہ کے تحت کانگریس کے دور حکومت، دسمبر 2013 میں شروع ہوا تھا جو اب بھی نا مکمل ہے۔

این آر سی کا عمل ہندو مسلمان بلکہ تمام شہریوں کے لیے یکساں ہے۔ اس وقت آسام کا مسلمان، جو کل آبادی کا 34 فیصد ہے، چاہتا ہے کہ جلد از جلد ایک صحیح اور شفاف این آر سی لسٹ تیار ہو تا کہ تشدد پسند سیاسی اور غیر سیاسی جماعتوں کا یہ الزام کہ آسام میں غیرملکی، خاص کر بنگلادیشی مسلمان، داخل ہو گئے ہیں ہمیشہ ہمیش کے لئے ختم ہو جائے۔ آسام میں مسلمانوں کو این آر سی تیار کر نے سے تکلیف نہیں بلکہ ان کو تکلیف اس کی تیاری کے کچھ طریقہ کار، بےجا شکوک و شبہات اور ہراساں کئے جانے سے ہے۔

اب تک آسام میں دو مرحلوں میں این آر سی کا صرف ڈرافٹ مسودہ شائع ہواہے۔ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق31 اگست 2019 کو فائنل لسٹ آجانی چاہئے، جو مجھے اب بھی مشکل لگ رہا ہے۔ 48 لاکھ خاندانوں کو کبھی بھی لسٹ سے باہر نہیں رکھا گیا تھا، جیسا کہ بعض لوگوں کو غلط فہمی ہوئی ہے بلکہ 48 لاکھ شادی شدہ خواتین، جنہوں نے صرف پنچایت دستاویزاپنے لینکیج ڈاٹا کے طور پر شامل کئے تھے جن میں ہندو مسلمان سب شامل تھے، کا نام پہلے ڈرافٹ میں شائع نہیں کیا گیا تھا۔ دوسرے ڈرافٹ میں، سپریم کورٹ کے حکم کے بعد، ان خواتین میں سے زیادہ تر کو شامل کر لیا گیا ہے، اگرچہ اس پورے پروسس میں مسلمانوں کو کچھ نااہل کارکنان اور موجودہ حکومت کے تعصبانہ رویہ کی وجہ سے زیادہ تکلیفیں اٹھانی پڑی اور پڑرہی ہیں۔
بہرحال 30 جولائی 2018 کو شائع شدہ حتمی مسودہ میں آسام کے کل 3 کروڑ 29 لاکھ درخواست دہندگان میں سے 2 کروڑ 89 لاکھ لوگوں کے نام شامل تھے جبکہ تقریباً 40 لاکھ لوگ جن میں مرد، خواتین اور خاص کر بچے شامل ہیں، کے نام حتمی مسودہ میں موجود نہیں تھے۔

اس وقت آسام کے ڈیٹنشن کیمپس میں 70-80 ہزار مسلمان نہیں ہیں، جیسا کہ کچھ اردو اخبارات اور سوشل میڈیا کے ذریعہ یہ بات عام ہورہی، یہ تعداد کبھی بھی نہیں تھی، بلکہ تقریباً 2 ہزار لوگ ہیں جن میں غیر مسلم مرد و خواتین بھی ہیں تاہم ان میں اکثریت مسلمانوں کی ہے اور ان میں سے بعض کو غلط طریقے سے حراست میں لیا گیا ہے۔ اسی طرح کچھ خواتین کے ساتھ ڈیٹنشن کیمپوں میں زیادتی کے واقعات کی خبریں بھی آئی ہیں یہاں تک کہ کچھ نے کیمپوں ہی میں بچے کو جنم دیا اور کچھ کو دودھ پیتے بچوں سے الگ کر کے کیمپوں میں ڈال دیا گیا۔
آسام میں غیر قانونی طور پربنگلہ دیش سے کوئی بھی مسلمان داخل نہیں ہوا ہے یہ کہنا مشکل ہے لیکن زیادہ تر غیر مسلم داخل ہوئے ہیں یہ بات یقینی طور پر کہی جاسکتی اس کے باوجود مسلمانوں کو ٹارگٹ کر کے ہراساں کیا جانا قابل تشویش ہے۔

اگرچہ فائنل لسٹ کے شائع ہونے سے پہلے کچھ کہنا مشکل ہے لیکن مقامی میڈیا، سماجی تنظیموں اور ماہرین کے مطابق 2019 میں تقریباً 3.29 کروڑ کی کل آبادی میں سے اندازاً 25 لاکھ لوگوں کے نام فائنل لسٹ سے خارج ہوسکتےہیں۔ یہ بذات خود ایک بہت بڑی تعداد ہوگی جن میں سب مذاہب کے افراد ہوں گے تاہم مسلمان اور خاص کر بنگلہ زبان بولنے والے مسلمان زیادہ ہو سکتے ہیں جو یقیناً ایک اور تشویش ناک بات ہے اور اس سے نکلنے کے لئے دعاؤں کے ساتھ ساتھ تدابیر بھی اختیار کی جانی چاہئے۔

آسام میں این آر سی اور ڈیٹنشن کیسیس میں متاثرین کی مدد کے لئے ایک سے زائد تنظیمیں دن رات کام کررہی ہیں جن میں غیر مسلم اور حقوق انسانی سے جڑی ہوئی تنظیمیں بھی شامل ہیں۔ سپریم کورٹ میں بھی معاملات کی پیروی کرنے والی کوئی ایک تنظیم یا کوئی ایک گروپ نہیں ہے۔ اس میں مزید تعاون اور مزید شراکت کی ضرورت ہے۔ اس طرح کے کاموں میں کسی ایک کی طرف سے کریڈٹ لینے یا کسی خاص گروپ یا تنظیم کو کریڈٹ دینے سے کام متاثر ہوتا ہے۔ تمام کام کرنے والوں کو کریڈٹ کی دوڑ سے دور رہنے،مزید لوگوں اور تنظیموں کو جوڑنے نیز جو کام کررہے ہیں انہیں ملکر مشورہ سے تقسیم کار کرنے اور مزید پلاننگ و مضبوطی کے ساتھ عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ وقت اختلاف یا نام و نمود کے لیے دوڑ بھاگ کرنے کے لیے بالکل مناسب نہیں ہے بلکہ ہر شعبے اور ہر گروپ کو جوڑکر مسلمانوں کا ایک مضبوط جسم تیار کر نا وقت کا اولین تقاضاہے۔

این آر سی یا این پی آر پورے ہندوستان میں؟

یہ اب ایک حقیقت ہے کہ این آر سی کا عمل پورے ہندوستان میں دوبارہ ہوگا۔ 1951 کے بعد یہ عمل مکمل طور پر پھر کبھی نہیں ہو پایا ہے۔ یہ سب کے لیے ہوگا سب کو ایک جیسے ڈاٹا اور ثبوت پیش کرنے ہوں گے۔

موجودہ یا آنے والی حکومتیں اس عمل کے ذریعے مسلمانوں کو مزید ہراساں کرسکتی ہے اس میں شک کی گنجائش کم ہے۔ سب کو اور خاص کر مسلمانوں کوآنے والی این آر سی کی تیاری کرنی چاہیے۔ بارش سے پہلے چھت کی مرمت کروانا ہی عقلمندی ہے. نام کی درستگی، تمام نئے پرانے کاغذات کا بالترتیب ہونا اور سرکاری دستاویز سلیقہ سے محفوظ رکھنا یہ سب ضروری عمل ہے اور سب کو اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

آسام کے علاوہ پورے ملک میں این آر سی کا عمل کب ہوگا، کیسے ہوگا اس سلسلے میں چونکہ حکومت کی طرف سے مکمل وضاحت ہنوزآنا باقی ہے، لہذا ابھی اس حوالے سے کچھ کہنا یا یہ بتانا قبل از ضرورت ہوگا کہ اسکے لئے کن کاغذات کی ضرورت ہوگی اور کونسے دستاویز قابل قبول ہوں گے تاآنکہ حکومت ازخود اس سلسلہ میں تفصیلی ہدایا ت جاری کرے۔

البتہ موجودہ حکومت یہ بات واضح کرچکی ہے کہ وہ پورے ملک میں قومی پوپولیشن رجسٹر کی تجدید کرنا چاہتی ہے. وزارت داخلہ نے 31 جولائی 2019 کو ایک اعلامیہ (گیزیٹ نمبر 2503) جاری کرتے ہوئے کہا کہ “شہریت (شہریوں کا اندراج اور قومی شناخت نامہ کا اجرا) ضابطہ 2003 کے اصول 3 کے ضمنی نکات 4 کے تحت مرکزی حکومت نے آسام کے علاوہ پورے ہندوستان میں پوپولیشن رجسٹر کی تجدید کا فیصلہ کیا ہے، چنانچہ حکومتی اندراج کنندگان گھر گھر جاکر 1/اپریل 2020 سے 30 ستمبر 2020 تک ہندوستان میں بسنے والے تمام لوگوں کی معلومات یکجا کریں گے”.

یہاں یہ بات ملحوظ رہے کہ مذکورہ بالا تفصیلات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ این آر سی اور این پی آر دو الگ الگ پروسس ہیں۔ این آر سی یعنی نیشینل رجسٹر آف سٹیزنس (شہریوں کے قومی رجسٹر) اور این پی آر یعنی نیشینل پاپولیشن رجسٹر (قومی رجسٹر برائے آبادی) ہے۔ این آر سی شہریت ثابت کرنے کے پروسس کا نام ہے جبکہ این پی آر ہندوستان کی کل آبادی کا از سر نو انداراج کرنےاورہرشہری کے لئے ایک منفرد شناختی کارڈ جاری کرنے کے پروسس کا نام ہے۔اس سے پہلے بھی حکومت 2010 اور 2015 میں اس کام کو کرنے کوشش کر چکی ہے جو مختلف وجوہات کی وجہ سے پائیہ تکمیل تک نہیں پہونچ سکی۔ این پی آر کے ذریعہ فی الحال شہری کی بائومیٹرک مع خاندان، تفصیلات جمع کی جائیں گی جو ممکن ہے بعد میں جاکر نیشینل رجسٹر آف انڈین سٹیزنس (این آر آئی سی) یعنی ہندوستانی شہریوں کا قومی رجسٹر کے بننے کا سبب بنے اور وہی آسام جیسا آین آر سی کا کل ہند نمونہ ہوگا۔

رہا پورے ملک میں عملی طور پر این آرسی کا مسئلہ تو جیسا کہ اوپر کہا گیا یہ ابھی طے نہیں ہے، آنے والے وقت میں طے ہوگا. آسام میں بھی اس کو طے کرنے میں دس سے زیادہ سال لگے ہیں۔ آسام جیسا پورے ہندوستان میں ہوگا یہ مجھے مشکل لگ رہا ہے بلکہ قدرے نا ممکن سا عمل لگ رہا ہے، کیوں کہ وہاں کے تقاضے اور حالات باقی ہندوستان سے مختلف ہیں. پھر بھی وقت سے پہلے کچھ کھنا مشکل ہے۔ آسام سے مشکل بھی ہوسکتا ہے یا آسام کا پورا عمل باطل بھی ہو سکتا ہے، یہ تو فائنل لیسٹ کے شائع ہونے کے بعد ہی دیکھنے والی بات ہوگی. جو بھی لیسٹ آئیگی، تمام تر کوششوں کے باوجود، اس میں بہت فحش غلطیاں رہنے والی ہیں.آسام کی متعدد غیر مسلم سخت گیر تنظیمیں ابھی سے آنے والی فائنل این آر سی کی مخالفت شروع کر چکی ہیں کیونکہ انہیں اس بات کا خدشہ ہے کہ فائنل لیسٹ سے ان کے کافی سارے لوگ ممکن ہے باہر رہ جائیںگے اور جتنا مسلمانوں کو وہ لیسٹ سے باہر دیکھنا چاہتے تھے شاید ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا ہے۔

موجودہ آسام کی صوبائی حکومت اور ہندوستان کی مرکزی حکومت جو دونوں بی جے پی کی ہیں، آسام این آر سی کی فائنل لیسٹ کو جاری کرنے میں کبھی بھی پر جوش نہیں رہی ہیں۔ یہ تو ملک کی سپریم کورٹ ہی ہے جو اس لیسٹ کو ہر حال میں عوام کے لئے منظر عام پر لانا چاہتی ہے۔

——————————————
نوٹ :مضمون نگارممبئی میں مقیم ایک سماجی اور سیاسی تجزیہ نگاراورانگریزی ماہنامہ ایسٹرن کریسنٹ کے ایڈیٹر ہیں۔ وہ خود آسام سے تعلق رکھتے ہیں اور این آرسی کے عمل سے ذاتی طور پرگزرے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker