ہندوستان

مسلمانوں کو چاہیئے کہ وہ ہر حال میں اعلیٰ تعلیم حاصل کریں۔ مولانا مفتی حذیفہ قاسمی

نا انصافی اور مظالم کے خلاف مسلمانوں کو ایک ساتھ صدائے احتجاج بلند کرنے کی ضرورت۔ ایڈوکیٹ تہور خان پٹھان، ناندیڑ میں جمیعت علماء کا " اگر اب بھی نہ جاگے تو" جلسہ کا شاندار انعقاد

ناندیڑ:19/اگست : ہم پھر سے اس ملک میں باوقار پُرسکون اورعزت کی زندگی گزارنے کے اہل ہوسکتے ہیں۔ ہمیں اپنے آپ کو سدھارنا ہوگا۔ اور جب تک ہم تعلیم حاصل نہیں کرینگے تب تک ہم دین اور دنیا کو سمجھ نہیں پائینگے۔ اِس لیئے ہمیں چاہیے کہ ہم ہر حال میں اعلیٰ تعلیم حاصل کریں۔ اِس طرح کا اظہار خیال حضرت مولانا مفتی محمدحذیفہ صاحب قاسمی دامت برکاتہم و ناظم تنظیم جمعیتہ علماء مہاراشٹر اور استاذ حدیث و تفسیر مدرسہ عربیہ سراج العلوم‘ بھیونڈی نے کیا۔ ناندیڑ میں جمیعت علماء کی جانب سے شہر کے فیمس فنکشن ہال میں ” اگر اب بھی نہ جاگے تو” عنوان کے تحت جلسہ عام منعقد کیا گیا تھا۔ اِس جلسہ میں وہ بطور مہمان خصوصی خطاب فرما رہے تھے۔ اِس جلسہ میں ایڈوکیٹ تہورخان پٹھان، قانونی مشیر جمعیتہ علماء مہاراشٹر و ایڈوکیٹ ہائی کورٹ ممبئی تھے ۔ اجلاس عام کی سرپرستی حضرت قاری محمد اسعد صاحب صمدی تھے۔ جبکہ نگراں کار حضرت مولانا سید آصف ندوی تھے۔ مولانا مفتی محمد حذیفہ قاسمی نے مزید خطاب کرتے ہوئے اپنی بصیرت افروز تقریر میں مسلمانان ہند کو ہمت اور حکمت سے کام لینے کی اپیل کی۔انھوں نے تاریخی صلح حدیبیہ معاہدہ جو پیغمبر اسلام اورمکہ کے ساکنان کے درمیان ہواتھا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ ایک سیاسی حکمت عملی کے تحت کیا گیا تھا۔ دو سا ل تک نہ جنگ معاہدہ ہوا تھا۔ اس دوران مسلمانوں نے کافی طاقت حاصل کرلی تھی اور پھر مکہ پر حملہ آور ہوکر اسے دوبارہ قبضہ میں لے لیاتھا۔ مفتی محمد حذیفہ نے مسلمانوں کو ہر حال میں اعلی تعلیم حاصل کرنے کامشورہ دیا کیونکہ تعلیم ہی آج ہمارے سارے دکھوں کا مداوا ہے۔ اجلاس سے خطاب کرتے جمیعت علماء کے قانونی مشیر ایڈوکیٹ تہورخان پٹھان نے کہا کہ تشویشناک حالات حاضرہ جو مخصوص مذہبی فرقہ پرست سیاسی جماعت کے لیڈران نے پیدا کئے ہیں ان سے مسلمانوں کو قطعی مایوس اورپریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمیں سنجیدگی کےساتھ ان حالات کا جائزہ لینا ہوگا اور حالات سے مقابلے کےلئے نئی متحدہ حکمت عملی تیار کرکے اس پر عمل درآمد شروع کرنا ہوگا۔ آج ہمارے دانشور و رہنما خاموش ہیں۔ ملت کے فرزندگان کے ساتھ ملک میں جو نا انصافیاں ہورہی ہیں مظالم ڈھائے جارہے ہیں ان کے خلاف مسلمانوں کو ایک ساتھ صداے احتجاج بلندکرنے کی ضرورت ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ایسا وقت اس سے پہلے بھی آیا ہے ہمیں قطعی گھبرانے خوف زدہ ہونے اور مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ جمعیتہ علماء ہند سارے ملک میں صدائے احتجاج بلند کررہی ہے۔ لوگ جوق درجوق اس آواز کاساتھ دے رہے ہیں۔ ہمارا ملک ہندوستان اسپین کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اسپین میں مسلمانوں نے 800 سال تک حکومت کی تھی۔ ہندوستان میں بھی مسلمانوں نے 800 سال حکومت کی۔ جس طرح انگریزوں نے اسپین کے اقتدار سے مسلمانوں کو بے دخل کیا ۔اس طرح ہندوستان میں بھی مسلم حکمرانوں کواقتدار کی گدی سے انگریزوں نے ہٹایا۔ اس لئے ہمیں اپنی تاریخ سے درس حاصل کرنا ہوگا اور ماضی کی روشنی میں حال کامطالعہ کرکے اپنے مسائل کوحل کرنا ہوگا۔ ایڈوکیٹ تہور خان پٹھان نے این آر سی (قومی رجسٹریشن شہری بل) کے بارے میں واضح الفاظ میں کہا کہ یہ اس وقت تک قانون نہیں بن سکتا جب کہ بھارت کے دستور کی دفعہ 15 قائم ہے۔ ایڈوکیٹ تہورخان پٹھان کی تقریر کے بعد ایڈیٹر ورق تازہ محمدنقی شاداب کوحکومت مہاراشٹر کے ریاستی مولانا ابوالکام آزاد صحافتی ایوارڈ حاصل ہونے پر صحافتی خدمات کے اعتراف میں انھیں مولانا مفتی محمد حذیفہ قاسمی کے دست مبارک سے سپاس نامہ پیش کیا گیا۔ اِس کے علاوہ شہر کے مختلف نوجوانوں کو اُن کی مذہبی، سماجی خدمات کے ضمن میں اعزاز سے نوازا گیا۔ اس اجلاس میں مولانا مظہر الحق کامل قاسمی ّ(مہتمم دارالعلوم محمدیہ حمایت نگر) ‘ مفتی مرزا وقایت اللہ بیگ قاسمی، مولانا محمد ایوب قاسمی نے بھی اظہار خیال کیا۔ نظامت کے فرائض مولانا سید آصف ندوی نے بہ حسن وخوبی انجام دیئے۔ اس اجلاس عام میں شہر کے علمائے کرام اور کثیرتعداد میں مسلمانوں کی تعداد شریک تھی۔ اِس اجلاس میں ایڈوکیٹ تہور پٹھان کو اُنکے استاد محترم قاضی قطب الدین نے اُنکی تحریر کردہ کتاب تحفتاً پیش کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker