ہندوستان

مالیگاؤں 2008 بم دھماکہ معاملہ: مالیگاؤں بم دھماکہ کی سماعت بند کمرے میں کئے جانے کی متاثرین نے مخالفت کی، متاثرین کی نمائندگی کرنے جمعیۃعلماء کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ بی اے دیسائی عدالت میں پیش ہوئے: گلزار اعظمی

ممبئی 19اگست
مالیگاؤں 2008 بم دھماکہ معاملے کی سماعت بند کمرے میں کیئے جانے کی قومی تفتیشی ایجنسی NIAکی عرضداشت کی بم دھماکہ متاثرین نے اضافی حلف نامہ داخل کرتے ہوئے ایک بار پھر مخالفت کی، آج خصوصی این آئی اے عدالت میں متاثرین کی نمائندگی کرنے جمعیۃعلماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ بی اے دیسائی عدالت میں پیش ہوئے اور عدالت میں اضافی عرضداشت داخل کی جسے خصوصی جج نے سماعت کے لیئے قبول کرلیا۔یہ اطلاع آج یہاں ممبئی میں جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے دی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ گذشتہ دنوں قومی تفتیشی ایجنسی کے وکیل اویناس رسال نے خصوصی عدالت میں ایک عرض داشت داخل کرتے ہوئے معاملے کی سماعت بند کمرے میں یعنی کے In-Camera کیئے جانے کی گذارش کی تھی جس کے خلاف سب سے پہلے جمعیۃ علماء کے توسط سے بم دھماکہ متاثرین نے خصوصی این آئی اے عدالت میں داخل کی تھی نیز آج عرضداشت کو مزید تقویت دیتے ہوئے اضافی عرضداشت سینئر ایڈوکیٹ بی ایس دیسائی نے داخل کی۔
سینئر ایڈوکیٹ بی ایس دیسائی نے عدالت کو بتایا کہ وہ متاثرین کی عرضداشت پر این آئی اے کی جانب سے داخل کردہ جواب جس میں انہوں نے کہا ہیکہ مداخلت کار کو بجائے این آئی اے کی مدد کرنے کے وہ اس کی عرضداشت کی مخالفت کررہا ہے کے جواب میں اضافی عرضداشت داخل کیا ہے
سینئر ایڈوکیٹ بی ایس دیسائی نے خصوصی این آئی اے جج ونود پڈالکر کو مزید بتایا کہ یہ انصاف کا تقاضہ ہے کہ اس اہم معاملے کی سماعت جس پر پوری دنیا کی نگاہیں لگی ہوئی ہیں اوپن کورٹ میں ہونا چاہئے جس پر جج نے انہیں حکم دیا کہ وہ اس تعلق سے کل صبح گیارہ بجے بحث کریں اوراپنی سماعت ملتوی کردی۔
اسی درمیان این آئی اے صحافیوں کی جانب سے داخل کردہ عرضداشت پر اپنا جواب داخل کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ اس معاملے میں صحافیوں کو کچھ بھی کہنے کا حق نہیں ہے لہذا ان کی مداخلت کرنے کی عرضداشت کو خارج کردیا جانا چاہئے۔
گلزار اعظمی نے کہا کہ این آئی اے بم دھماکہ متاثرین کو مبینہ مدد پہنچانے کی غرض سے عدالت میں یہ عرضداشت داخل کی ہے تاکہ وہ بند کمرے میں سماعت کراکے حقائق سے پردہ پوشی کرسکے لیکن جمعیۃعلماء نے فیصلہ کیا ہیکہ وہ این آئی اے کی اس سازش کو کامیاب ہونے نہیں دے گی اسی لیئے سینئر ایڈوکیٹ بی ایس دیسائی کی خدمت حاصل کی گئی ہے اورا ن کی معاونت کے لیئے ایڈوکیٹ شاہد ندیم، ایڈوکیٹ ہیتالی سیٹھ ودیگر کو مقرر کیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker