ہندوستان

سیلاب زدہ علاقوں میں جمعیۃ علماء کی جا نب سے دورہ، نقصانات کے سروے کا کام جاری مصیبت کی اس گھڑی میں سیلاب متاثرین کی امداد کرنا ہماری دینی اخلاقی ذمہ داری ہے: مولانا ندیم صدیقی

سیلاب زدہ علاقوں میں جمعیۃ علماء کی جا نب سے دورہ، نقصانات کے سروے کا کام جاری
مصیبت کی اس گھڑی میں سیلاب متاثرین کی امداد کرنا ہماری دینی اخلاقی ذمہ داری ہے: مولانا ندیم صدیقی
ممبئی۔19/ اگست (پریس ریلیز) حالیہ سیلاب سے شدید متاثرہ اضلاع کولھا پور، سانگلی اور اسکے تعلقوں میں ہوئے نقصانات کے سروے اور امداد کا کام جمعیۃ علماء کی جانب سے ہنگامی طور پر جاری ہے اسی ضمن میں کل گذشتہ جمعیۃ علماء مہا راشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی کی قیادت میں مفتی محمد صادق قاسمی ضلع صدر سانگلی،حافظ صدام،قاری منور،ودیگرپر مشتمل ایک وفد نے کئی بستیوں اور علاقوں کا دورہ کیا متاثرین سے ملاقات کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر ہونے والے نقصانات کا سروے کیا،سروے کی تکمیل کے بعد منظم پیمانے پر متاثرین کی بازآبادی کرنے کا اعلان کیا مولانا ندیم صدیقی نے کہامصیبت کی اس گھڑی میں سیلاب متاثرین کی امداد کرنا ہماری دینی اخلاقی ذمہ داری ہے ہمیں اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی ضرورت ہے۔
واضح رہے کہ مہا راشٹر کے مغربی اضلاع میں قیا مت خیز اور بھیانک سیلاب کی وجہ سے سینکڑوں علاقے اور گاؤں پوری طرح اجڑ چکے ہیں، ہزاروں لوگ اپنے افراد خاندان کے ساتھ کھلے آسمان کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبو رہیں انکے مکانات میں پانی بھر جانے کی وجہ سے اشیاء ضروریہ خراب اور نا قابل استعمال ہو چکی ہیں جس کی وجہ سے وہ سخت کرب اوراذیت میں مبتلاء ہیں۔ جمعیۃ علماء مہا راشٹر اول دن سے ہی سیلاب متاثرین کی راحت رسانی کا کام وسیع پیمانے پر انجام دے رہی ہے ابھی دو دن قبل قائدملت مولانا سید محمود اسعد مدنی صاحب جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء ہند نے دورہ کرکے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کیا اور ریلیف تقسیم کیا ہے،مقامی جمعیۃ علماء کے ذمہ داران متاثرین تک امداد و ریلیف پہونچانے میں مصروف ہیں اور متاثرین کی باز آباد کاری تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
ادھر جمعیۃ علماء کولھا پور کے اہم ذمہ دار مولانا عبدالروف صاحب کی قیادت میں صو بائی صدر محترم کی ہدایت پر ایک تیس رکنی وفدنے تعلقہ کا گل 12 مواضعات اور بستیوں کا سروے کرکے اشیاء ضروریہ اناج،چاول،دال،تیل،شکر،صابن و دیگر ضروری چیزوں پر مشتمل کٹس تقسیم کیااور سیلاب سے ہونے والے نقصانا ت کا سروے کیا۔ ابھی بہت سی بستیوں کے سروے کا کام جاری ہے۔ویسے سیلاب کے اول دن سے ہی روز آنہ دو ہزار سے زائد متاثرین کے لیے جمعیۃ علماء کی جا نب سے ناشتہ اور صبح شام کے کھانے کا نظم کیا جا رہا تھا، اب پانی کم ہونے کے بعد متاثرین اپنے گھروں کو لوٹ رہے ہیں انہیں پندرہ دن کا اناج،راشن و ودیگر استعمالی اشیاء تقسیم کی جا رہی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker