بلاگ

دعوت نسواں ضروری کیوں؟

از قلم غفران غازی
خادم جامعہ عربیہ زینت القرآن جی بلاک میر وہار مبارکپور دہلی
اس میں کوئی شک نہیں کہ علم کا حاصل کرنا مرد وزن دونوں پر فرض ہے، موجودہ دور کے حالات کا جب ہم جائزہ لیتے ہیں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ ہمارے معاشرہ میں جو بے دینی، جہالت، بے حیائی، بد اخلاقی، اور بے مروتی غرض کہ جتنی بھی برائی پھیلی ہوئی ہے اس میں کہیں نہ کہیں عورتوں کے اندر تعلیم وتربیت میں کمی کی وجہ سے ہے؛کیونکہ انسان کا پہلا مدرسہ اس کے ماں کا گود ہے۔
اور بچہ جب اپنے اس مدرسہ میں ہوتا ہے تو اس کا ذہن،دل ودماغ بالکل صاف شفاف ایک سیاہ تخت کے مانند ہوتا ہے، اس وقت بچہ کے ذہن ودماغ میں جو کچھ نقش کیا جائے وہ ہمیشہ کے لئے ثبت ہو جاتا ہے، کبھی ختم نہیں ہوتا ہے، اس لئے بچہ کے پیدا ہوتے ہی مذہب اسلام نے یہ حکم دیا ہے کہ سب سے پہلے اس کے کان میں اذان دی جائے؛ کیونکہ بچہ پیدا ہونے کے بعد سے اثر لینا شروع کر دیتا ہے۔ اس لئے اگر عورت صحیح تعلیم وتربیت والی ہو تو وہ اپنے بچوں کی صحیح سمت میں رہنمائی کر سکتی ہے۔
عورت چونکہ کئی کردار ادا کرتی ہے کبھی بیوی کبھی ماں کبھی بہن کبھی بیٹی چاہے عورت جس کردار میں ہو اگر وہ تربیت یافتہ ہے تو بآسانی اپنے ماتحت افراد کی اصلاح کر سکتی ہے۔
ماضی کی تاریخ کا جب ہم مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا کردار ہے۔ ہمارے سامنے بے شمار واقعات ہیں جن سے ہمیں پتہ چلتا ہے ہے کہ ایک عورت اگر خود صحیح تربیت یافتہ ہو تو اولاد کی تربیت کا کس طرح کتنے انوکھے اور نایاب انداز میں انتظام کرتی ہے۔

الغرض کسی بھی قوم کا مستقبل اس کی آئندہ نسل سے وابستہ ہے اور آئندہ نسل کا سارا بوجھ اللہ تعالیٰ نے عورت پر ڈالا ہے. اس کی پیدائش کے علاوہ اس کی پرورش کا بھی اصل بوجھ عورت ہی پر ہے.وہی تو ہے کہ جو بچوں کی پرورش کی خاطر سب سے بڑھ کر اپنی نیندیں حرام کرتی ہے اور اپنے آرام کی قربانی دیتی ہے. پھر ان کی تعلیم کی اوّلین ذمہ داری بھی اسی پر عائد ہوتی ہے. بچے کی سب سے پہلی تعلیم گاہ درحقیقت ماں کی گود ہے.

حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ کا مشہور واقعہ ہے ان کی والدہ محترمہ نے کہا کہ بیٹا ہمیں اللہ تعالیٰ کھلاتے ہیں ہمیں جو کھانا ملتا ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی دیتے ہیں اگر تمہیں کھانے کی ضرورت ہو تو مصلی بچھاؤ نماز پڑھو پھر اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کھانا مل جائے گا۔
چنانچہ زمانہ طالب علمی میں جب وہ حصول تعلیم کے بعد گھر لوٹتے تو وضو کر کے مصلی بچھاتے اور نماز پڑھنے کے بعد اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے لگتے پھر گھر کے کسی حصہ میں رکھا ہوا کھانا مل جاتا جسے ان کی والدہ پہلے سے پکا کر گھر کے کسی حصہ میں چھپا کر رکھ دیتی تھی۔
یہ سلسلہ چلتا رہا ایک دن ان کی والدہ کو کسی رشتہ دار کے یہاں جانا ہوا وہاں اچانک خیال آیا کہ آج تو میں نے کھانا بنا کر نہیں رکھا جب میرا بیٹا گھر آئے گا دعا کے بعد اسے کھانا نہیں ملے گا تو اس کا یقین ٹوٹ جائے گا۔ وہ وہاں سے بھاگتی ہوئی گھر کی طرف نکلی راستہ میں اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتے ہوئے کہ اے اللہ میرے بیٹے کا یقین ٹوٹنے نہ دینا۔۔۔۔!! میں نے کافی ہی مشکل سے اس کا یقین بنایا ہے۔ اے اللہ تو لاج رکھ لے۔۔! جب یہ گھر پہنچتی ہے تو بہت گھبرائی ہوئی ہوتی ہے اتنے میں بختیار کاکی کہنے لگتے ہیں کہ امی آج میں نے جتنا لذیذ اور مزیدار کھانا کھایا اتنا مزیدار کھانا اس سے پہلے کبھی نہیں کھایا۔ والدہ نے پوچھا کہ کیسے؟ تو انہوں نے کہا میں جب گھر آیا تو مصلی بچھا کر اللہ سے دعا کرنے لگا کہ اے اللہ آج تو میری والدہ بھی گھر پہ نہیں ہے اے اللہ مجھے کھانا دے دے پھر مجھے ہمیشہ کی طرح کھانا مل گیا۔یہ سننے کے بعد والدہ نے اللہ کا شکر ادا کیا۔
چنانچہ تبھی سے ان کا لقب کاکی ہو گیا کاک ہندی میں روٹی کو کہتے ہیں ان کی والدہ نے اس قدر اپنے بیٹے کے یقین کو بنایا کہ جنت سے ان کے لئے کھانا آ گیا۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے معاشرہ سے بے حیائی، بے پردگی، بے دینی الغرض ہر قسم کی برائی کا خاتمہ ہو تو اس کے لئے ضروری ہے کہ گھر کے عورتوں کی صحیح تربیت کی جائے ان کے اندر دینی حمیت کو جگایا جائے۔ دین اسلام کی تعلیم سے روشناس کرایا جائے۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب ہم عورتوں کے درمیان دین کی دعوت کو چلائیں گے۔ جتنی فکر ہم مردوں کے لئے کرتے ہیں اتنی ہی فکر عورتوں کے لئے بھی کریں گے تب ہمارا معاشرہ راہ راست پہ آئے گا۔ آج ہمارا حال یہ ہے کہ جب نماز کا وقت ہوتا ہے تو ہم گھر سے نکل کر مسجد میں آ جاتے ہیں مگر ہمارے گھر کی عورتیں کچن میں کپڑا دھونے میں گھر صاف ستھرا کرنے میں رہتی ہے نہ ہم انہیں نماز کی دعوت دیتے ہیں نہ ہی انہیں فکر ہوتی ہے۔
کسی کہنے والے نے صحیح کہا کہ *”اگر عورتوں سے تعلیم چھین لیا جائے تو جہالت نسلوں میں سفر کرے گی اور اگر تعلیم کے نام پر پردہ کو چھین لیا جائے تو بے حیائی نسلوں میں سفر کرے گی۔”*
آج ہمارے معاشرہ کے اندر بے پردگی اتنی زیادہ عام ہو چکی ہے کہ ہم اسے گناہ تصور ہی نہیں کرتے ہیں،
اور بعض تو اسے آزادی میں رکاوٹ مانتے ہیں جبکہ حجاب عورت کوآزادی، تحفظ، شناخت عزت ووقار عطا کرتا ہے۔ حجاب اختیار کرکے حیاء و عظمت کی مضبوط ڈھال اپنے گرد قائم کی جاسکتی ہے۔

حجاب امت مسلمہ کی تہذیبی علامتوں میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے، حجاب عورت کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بلکہ اسکی عظمت کی علامت ہے۔
حجاب حکم الٰہی ہے جو بدکاری اور بدنظری سے بچاتا ہے۔ باحجاب عورت کیلئے معاشی ترقی کی راہیں کھلی ہیں۔ حجاب اعلیٰ تعلیم اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں، حقیقت میں حجاب خاموش دعوت دین ہے، دل کا پردہ آنکھ میں حیاء اور نیت کی پاکیزگی کا عملی اظہار حجاب ہے۔

اس لئے آج کے دور میں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ دعوت نسواں کو عام کیا جائے اور اس پر کڑی محنت کی جائے تاکہ ہمارے معاشرہ کے اندر سے برائی دور ہو جائے اور ہمارا معاشرہ پاک صاف اور پاکیزہ ہو جائے۔

اپنی اولاد کی طرف سے عدم توجہی اور لاپرواہی کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان کی تربیت صحیح طور پر نہیں ہو پاتی اور لامحالہ ماحول کے اثرات ان پر مرتب ہو کر رہتے ہیں اور ان کی ذہنیت و خیالات معاشرے کے رنگ سے لازماً متأثر ہوتے ہیں. اور آج کا بچہ تو الحاد‘ کفر‘ بے حیائی اور عریانی‘ ان سب عفریتوں کی زد میں ہے۔
گزشتہ کچھ سالوں سے ارتداد کے جو واقعات ہمارے سامنے آ رہے ہیں اس میں اکثر مسلم بچیوں کو ملوث پایا گیا ہے۔ وہ بچیاں جو کالجوں اور یونیورسٹیوں میں جاتی ہیں دینی تعلیم سے دور ہوتی ہیں اور ان کے گھر میں بھی دینی ماحول نہیں ہوتا وہ مذہب اسلام کی صداقت و حقانیت سے ناواقف ہوتی ہیں جن کی وجہ سے وہ اغیار کے محبت کا شکار ہو کر قیمتی سرمایہ کو کھو بیٹھتی ہیں اس لئے اس بات کی ضرورت ہے کہ عورتوں کے درمیان عورتوں کے ذریعہ ہی دعوت کی محنت کی جائے کالجوں یونیورسٹیوں اور دفاتر میں جانے والی بہنوں کی ذہن سازی کی جائے۔
نپولین نے کہا تھا *”کہ تم مجھے اچھی مائیں دو میں تمہیں بہترین قوم دوں گا۔”*
آپ کامیاب شخصیتوں کی زندگی کا جب مطالعہ کریں گے تو اس کے پیچھے عورت کا کردار نمایاں نظر آئے گا۔
علامہ اقبال کو ان کی ماں بکری کا دودھ پلایا کرتی تھی ایک دن دودھ پیش نہیں کی تو ۔۔۔ علامہ نے ماں سے سبب پوچھا تو ماں نے کہا “کہ بیٹا آج ہماری بکری نے غیر کے کھیت میں گھاس کھا لی ہے اس لئے تجھے دودھ نہیں دی”۔
جس کا نتیجہ آپ کے سامنے ہے کہ جس تقریر میں علامہ اقبال کا شعر نہ ہو وہ تقریر نا مکمل ہے۔
ان کی والدہ کی تربیت کا نتیجہ تھا کہ وہ ہر وقت فکر امت میں ڈوبے رہتے تھے۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ع
*وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ۔*
یہ انہی کا مصرع ہے ۔

آج ہمارا معاشرہ اس بات کا شدید متقاضی ہے کہ عورتوں میں دینی فکر پیدا کی جائے اور ان کی صحیح تربیت کی جائے تاکہ ہماری آنے والی نسلوں میں دین وایمان باقی رہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker