مضامین ومقالات

موجودہ حالات اور شیطانی چالیں( قسط 2)

از قلم: مونس قاسمی لہرپوری خادم مدرسہ عالیہ عربیہ مدینة العلوم اندرا نگر

 

ﺍِﻧَّﻤَﺎ ﺫٰﻟِﻜُﻢُ ﺍﻟﺸَّﻴْﻄَﺎﻥُ ﻳُﺨَﻮِّﻑُ ﺍَﻭْﻟِﻴَﺂﺀَﻩٝۖ ﻓَﻠَﺎ ﺗَﺨَﺎﻓُﻮْﻫُـﻢْ ﻭَﺧَﺎﻓُﻮْﻥِ ﺍِﻥْ ﻛُﻨْﺘُـﻢْ ﻣُّﺆْﻣِﻨِﻴْﻦَ ‏( سورت آل عمرآن ‏ آیت نمبر 175)

ترجمہ …

اس سے زیادہ کوئی(قابل اندیشہ) بات نہیں کہ یہ مخبر شیطان ھے کہ اپنے(ہم مذہب)دوستوں سے (تم کو ڈرانا چاہتا ھے)، سو تم ان سے کبھی مت ڈرنا، اور صرف مجھ سے ہی ڈرنا اگر تم ایمان والے ہو.

اس آیت مبارک سے دو آیت پہلے ایک بڑی معنی خیز اور حکمت سے لبریز آیت موجود ھے

*الَّذِينَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَانًا وَقَالُوا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ*

ترجمہ

جن کو کہا لوگوں نے کہ مکہ والے آدمیوں نے جمع کیا ہے سامان تمہارے مقابلہ کے لئے سو تم ان سے ڈرو
اور زیادہ ہوا ان کا ایمان اور بولے کافی ھے ہم کو اللہ اور کیا خوب کارساز ہے

*آیت کا پس منظر*

تاریخ اسلامی میں ایک غزوہ حمراء الاسد کے نام سے مشہور ومعروف ھے

حمراء الاسد مدینہ منورہ سے ۸ میل کے فاصلہ پر واقع ایک مقام کا نام ھے

اسکا واقعہ یوں ھے کہ جب کفار مکہ احد کے میدان سے واپس ہوے تو راستہ میں اس پر افسوس کیا کہ جیتی جتائی جنگ اور غالب آجانے کے باوجود خواہ مخواہ واپس ہو رہے ہیں ہمیں تو موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوے مسلمانوں پر حملہ کر کے مسلمانوں کو ختم کر دینا چاہیے تھا کفار کے دلوں میں یہ ارادہ ہوا ہی تھا کہ اللہ تعالی نے رعب ڈال دیا اور یہ لوگ مکہ کو سدھار لئے،

لیکن شیطان کب موقع چھوڑتا ھے اس نے کفار کے دلوں میں مزید ایک بات کا وسوسہ ڈالا کہ اگر جنگ کے لئے جا نہیں سکتے تو کم از کم مسلمانوں کے درمیان خوف وہراس اور ڈر کا ماحول تو پیدا کر ہی سکتے ہیں لہذا انھوں نے یہ چال چلی کہ جو مسافر مدینہ کی طرف جا رہے تھے ان کے ذریعہ پیغام بھیجا کہ ہم پہر سے مسلمانوں کو نیست ونابود کرنے کے لئے آ رہے ہیں

ادھر ایمان والوں کے ساتھ تائید ربانی تھی کہ ان کی اس چال پر اللہ تعالی نے مطلع فرما دیا.

تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرما دیا کہ کون ھے جو مشرکین کے تعاقب میں جاے، تو ایسے ۷۰ صحابہ کرام اٹھ کھڑے ہوے جو کل کی جنگ میں شدید زخمی ہو چکے تھے اور کچھ تو اتنے شدید زخم خودرہ تھے کہ دوسروں کے سہارے چلتے تھے، یہ حضرات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تعاقب میں نکلے ،جب مقام حمراء الاسد میں پہونچے تو وہاں نُعَیم بن مسعود ملا، اور اس نے شیطانی چال(شخصی ذرائع ابلاغ)اپناتے ہوے مسلمانوں کے بیچ خوف وہراس کا ماحول بپا کرنے اور توکل علی اللہ پر کاری ضرب لگانے کے لئے ایک خبر پہیلائی کہ ابو سفیان اپنے مزید لشکر کے ساتھ پہر سے مسلمانوں پر چڑھائی کرکے انکو اور انکی شناخت کو جڑ سے اکھاڑ پہینکنے کا پختہ ارادہ کر چکا ھے اور وہ پہر سے مکمل تیاری کے ساتھ آرہا ھے

یہ تھا آیت کا پس منظر

اس سے معلوم ہوا کہ دور نبوت میں بھی ایمان والوں کو اپنے معبود حقیقی سے لا تعلق کرنے کے جو حربـے موجود تھے ان میں سے ایک بہترین حربہ خوف کا ماحول پیدا کرنا بھی تھا تاکہ مسلمانوں میں مادیات کا اور مخلوق کا خوف پہیل جاے اور اللہ کا خوف دل سے نکل جاے جب اللہ کی ذات پر بھروسہ نہ کرکے مخلوق کا خوف دلوں میں جا گزیں ہوگا تو نصرت الہی بند ہو جاے گی اور ہم مسلمانوں پر فتح پا لیں گے-

خوف وہراس، اور وحشت اثر خبروں کی نشر واشاعت کا جو کام دور نبوت میں نعیم بن مسعود نے کیا

کیا وہ طریقہ آج بھی اپناپا جا رہا ھے؟

تو جواب یہ ھےکہ کیوں نھیں

وہ شخصی ذریعہ ابلاغ تھا
لیکن آج کے دور میں
شخصی میڈیا
پرنٹ میڈیا
شوشل میڈیا وغیرہ وغیرہ بھی اس کام کو بڑی سمجھداری کے ساتھ انجام دے رہے ہیں اور مسلمانوں میں خوف کا ماحول قائم کرکے انکے ایمانی جذبوں، انکی فکرو نظر، انکے خوف وخشیت ،اور تقوی وطہارت کے تقاضوں پر اور اخلاص و للہیت پر اور یہ کہ ایک اللہ ہی کی ذات نفع ونقصان کی مالک ھے اس عقیدہ کو خس وخاشاک میں تبدیل کر دینے میں رات دن ایک کئے ہوے ہے

ایسی صورت حال میں

*ہمیں کیا کرنا ھے*
تو عرض یہ ھیکہ
جس طرح حمراء الاسد میں نعیم بن مسعود کی خبر وحشت اثر سن کر صحابہ کرام نے ذرہ برابر بھی ایمانی تقاضوں کو پس پشت نہ ڈال کر سب یک زبان ہوکر بول تھے

*حسبنا اللہ ونعم الوکیل*

کہ ہمیں ہمارے اللہ کی طاقت وقوت اور اسکی قدرت کاملہ پر مکمل بھروسہ ھے کہ نفع و نقصان، موت وحیات سب اسی کے قبضہ قدرت میں ہے ہم ان گیدڑ بھپکیوں سے خوف کھانے والے نہیں ہیں ہمیں ہمارا اللہ کافی ھے

یہ تو وہ منظر تھا کہ خوف وہراس کا مقابلہ بجزء قوت ایمانی کے مضبوط کئے ہوے نہیں ہو سکتا

اسکے علاوہ قرآن کریم نے بڑی وضاحت کے ساتھ یہ بھی بتایا ھے
کہ
یہی نہیں بلکہ ابھی آگے آگے ماحول اس حد تک خراب ہوگا کہ ایسی تکلیف دہ ودل خراش باتیں، شیطانی دوستوں سے سننے کو ملیں گی جو کبھی سوچا نہ گئی ہونگی جیسا کہ

سورہ آل عمران میں آیت نمبر ۱۸۵ میں بتایا گیا ھے

*لَتُبْلَوُنَّ فِي أَمْوَالِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ وَلَتَسْمَعُنّ*
َ *مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا أَذًى كَثِيرًا ۚ وَإِن تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ ذَٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ*

ترجمہ

(ابھی کیا ھے)البتہ آگے آگے اور آزماے جاوگے اپنے مالوں میں (کے نقصان میں)
اقر اپنی جانوں کے نقصان میں اور البتہ آگے کو اور سنو گے بہت سے باتیں دل آزاری کی ان لوگوں سے بھی جو تم سے پہلے آسمانی کتاب دئے گئے اور ان لوگوں سے بھی جو مشرک ہیں اور اگر ان مواقع پر صبر کروگے اور (خلاف شریعت چیزوِں سے)پرہیز رکھوگے تو تمھارے لئے اچھا ہوگا کیونکہ یہ یعنی صبر وتقوی تاکیدی احکام میں سے ہیں

اس سے بھی ایمان والوں کو زہر آلود، اور فرقہ پرستی سے پر ماحول، مذہبی تعصب کی بنیاد پر ایمان والوں کو خوف وہراس میں مبتلاء کیا جاے گا

لیکن ساتھ ساتھ اسکا حل بھی بتایا کہ ہمیں ایک اللہ کی ذات پر، توحید کے تقاضوں پر، اللہ کے احکام کی بجاآوری کرتے ہوے صبر کا مظاہرہ کرتے رہنا ھے اور گناہوں سے بچتے ہوے ایک مالک حقیقی پر ضروری تدابیر اپناتے ہوے بھروسہ کرنا ھے کیونکہ وہ جب چاہے آگ کو گلشن میں تبدیل کر دیتا ھے اور جب چاہے مچھلی کے پیٹ میں حفاظت کرتا ھے -جب چاہے ایک ہی سمندر سے ایمان والوں کو گذار کر نجات دیتا اور غیر ایمان والوں کو ڈبو کر ہلاک کر دیتا ھے

فرعون اور فرعونی طاقتوں کو نیست ونابود کر دیتا ھے

لیکن ایمان اور ایمانی تقاضوں پر عمل اور اللہ سے رشتہ مضبوط رکھنا نصرت الہی کی شرط اول ھے

ایک حدیث شریف میں بتایا گیا ھے کہ جب مسلمانوں میں دو چیزیں آ جائیں گی تو انکی واقعی حیثیت خس وخاشاک اور سمندری جھاگ سے زیادہ کچھ نہ ہوگی

فرمایا

*عَنْ ثَوْبَانَ رضی اللہ عنہ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِؐ یُوْشِکُ الْاُمَمْ اَنْ تَدَاعٰی عَلَیْکُمْ کَمَا تَدَاعَی الْاٰکِلَۃُ اِلَی قَصْعَتِھَا فَقَالَ قَائِلٌ وَمِنْ قِلَّۃٍ نَحْنُ یَوْمَئِذٍ قَالَ بَلْ اَنْتُمْ یَوْمَئِذٍ کَثِیْرٌ وَلٰٰکِنَّکُمْ غُثَاءٌ کَغُثَاءِ السَّیْلِ وَلَیَنْزَعَنَّ اللّٰہُ مِنْ صُدُوْرِ عَدُوِّکُمُ الْمَھَابَۃَ مِنْکُمْ وَلَیَقْذِفَنَّ اللّٰہُ فِی قُلُوْبِکُمُ الْوَھْنَ فَقَالَ قَائِلٌ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ مَاالْوَھْنُ قَالَ حُبُّ الدُّنْیَا وَکَرَاھِیَۃُ الْمَوْتِ۔ (سنن ابو داود باب تداعی الامم علی الاسلام ج٢،ص٢٤٢)*

ترجمہ: حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے ارشاد فرمایا

قریب ہے کہ دوسری قومیں تمہارے خلاف ایک دوسرے کو اس طرح بلائیں گی جیسے (دسترخوان پر) کھانے والے (لذیذ کھانے کے) پیالے کی طرف ایک دوسرے کو دعوت دیتے ہیں۔ کسی نے عرض کیا اس وقت ہماری قلت کی وجہ سے یہ حال ہو گا؟

ارشاد فرمایا: نہیں تم اس وقت تعداد کے اعتبار سے بہت ہوگے لیکن تم سیلاب کے جھاگ کی طرح ناکارہ ہو گے اور اللہ جل شانہ تمہارے دشمنوں کے سینوں سے تمہارا رعب نکال کر تمہارے دلوں میں وھن ڈال دیں گے، کسی نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولؐ! وھن کیا چیز ہے؟ فرمایا دنیا کی محبت اور موت سے نفرت

موجودہ حالات کے تناظر میں اگر دیکھا جاے تو یہی دو چیزیں یعنی دنیا کی محبت اور موت سے کراہت ہمارے قلوب میں مکین ہے

اور دنیا کیا ھے وہی جو توحید کے تقاضوں کے خلاف زندگی گذاری جاے یعنی لہو ولعب اور خدا کی نافرمانی میں زندگی بسر کرنا اور یہ سب شیطانی چالیں ہی ہیں جس کے نرغہ میں مسلمان پھنس چکا ھے اور مسلمانوں کے دلوں سے خدا خدا کو نکال دیا ھے

دنیاوی محبت کیا ھے اس گتھی کو مولانا روم نے مثنوی شریف میں دو لفظوں میں بیان کر دیا ھے

*دنیا چیست.؟ از خدا غافل شدن*

یعنی دنیا وہ ہے جو اللہ سے غافل کر دے اسلئے ہمیں ہر وقت اتباع شریعت اور احکام خداوندی پر کمر کا لینا ہے اگر اطاعت خداوندی پر آمادہ نہ ہوے تو حالات بگڑتے ہی رہیں گے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker