ہندوستان

مالیگاؤں 2008 بم دھماکہ معاملہ : سماعت بند کمرے میں کئے جانے کی متاثرین نے مخالفت کی

 

سینئر ایڈوکیٹ بی ایس دیسائی نے کہا کہ این آئی اے عدالت کو سماعت کرنے کا اختیار ہی نہیں ہے

ممبئی:20اگست (پریس ریلیز)

مالیگاؤں 2008 بم دھماکہ معاملے کی سماعت بند کمرے میں کیئے جانے کی قومی تفتیشی ایجنسی NIAکی عرضداشت کی بم دھماکہ متاثرین نے آج مخالفت کی جس کے دوران متاثرین کی نمائندگی کرتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ نے خصوصی این آئی اے عدالت میں کہا کہ این آئی اے عدالت کو این آئی اے کی جانب سے داخل کردہ عرضداشت جس میں سماعت کو In-Camera کیئے جانے کی گذارش کی ہے پر سماعت کرنے کا اختیار ہی نہیں ہے بلکہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کو یہ اختیار آئین ہند نے دیا ہے کہ وہ اس طرح کے معاملات کی سماعت کرے۔

متاثرین کی نمائندگی کرنے جمعیۃعلماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ بی اے دیسائی آج عدالت میں پیش ہوئے اور خصوصی جج ونوڈ پڈالکر کو بتایا کہ انہوں نے گذشتہ کل اضافی عرضداشت داخل کی تھی اور آج وہ بحث کرنے کے لیئے تیار ہیں اسی درمیان خصوصی سرکاری وکیل اویناس رسال نے عدالت سے وقت طلب کیا کہ وہ متاثرین کی جانب سے داخل کردہ عرضداشت پر تحریری جواب داخل کرنا چاہتے ہیں کیونکہ متاثرین نے عرضداشت میں این آئی اے اور سرکاری وکیل پر الزام عائد کیا ہیکہ وہ مخصوص ملزمین کو مدد پہنچانے کی غرض سے یہ سب کررہے ہیں۔

سینئر ایڈوکیٹ بی ایس دیسائی نے خصوصی این آئی اے جج ونود پڈالکر کو مزید بتایا کہ یہ انصاف کا تقاضہ ہے کہ اس اہم معاملے کی سماعت جس پر پوری دنیا کی نگاہیں لگی ہوئی ہیں اوپن کورٹ میں ہونا چاہئے جس پر جج نے انہیں حکم دیا کہ وہ اس تعلق سے این آئی اے کا جواب آنے کے بعد بحث کریں۔

عدالت نے صحافیوں کی جانب سے داخل کردہ عرضداشت پر بھی سماعت این آئی اے کا جواب آجانے کے بعد کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے۔

دوران سماعت عدالت میں جمعیۃ علماء کی جانب سے ایڈوکیٹ انصار تنبولی، ایڈوکیٹ شاہد ندیم، ایڈوکیٹ ہیتالی سیٹھ، ایڈوکیٹ عادل شیخ و دیگر موجود تھے۔

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker