ہندوستان

بجنور بم دھماکہ معاملہ میں گواہوں کی جرح سے تفتیشی ایجنسیوں کا جھوٹ ہے نقاب

بجنور بم دھماکہ معاملہ میںگواہوں کی جرح سے تفتیشی ایجنسیوں کا جھوٹ بے نقاب

لکھنو خصوصی عدالت میں استغاثہ کے19ویں گواہ کی گواہیاں اور جرح مکمل

ممبئی۔ ۲۰؍ اگست (پریس ریلیز) اتر پردیش کے شہر بجنور میں۲۰۱۴ء میں ہوئے بم دھماکہ کے الزام میں بر سوں سے قید و بند کے صعو بتیں جھیلنے والے رئیس،عبد اللہ فرقان،ندیم اور حسنہ نامی خاتون کے مقدمہ کی سماعت لکھنو کی خصوصی این آئی اے عدالت میں جاری ہے،اور اس کیس سے متعلق گواہوں کو عدالت میں پیش کیا جا رہا ہے آج یہاں این آئی اے کی خصوصی عدالت میں استغاثہ کی جا نب سے پیش کر دہ ۱۹واں گواہ ڈاکٹر محمد ارشد کی گواہی اور جرح مکمل ہو گئی ہے دوران جرح ڈاکٹر ارشد علی دفاع کے سوالوں کا جواب دینے میں نام کا رہے جس سے تفتیشی ایجنسیوں کا جھوٹ دن بدن بے نقاب ہوتا جا رہا ہے ۔ اس بات کی اطلاع آج یہاں اس مقدمہ میں مفت قانونی امداد فراہم کرنے اور بے گناہ نو جوانوں کی عدالتوں میں پیروی کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہا راشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی نے دی ہے۔ اس مقدمہ کی پیروی کرنے والے ایڈوکیٹ ابو بکر سباق سبحانی نے تفصیلات دیتے ہوئے بتایا کہ آج عدالت میں استغاثہ کی جا نب سے بطور گواہ پیش کیا گیا تھا انہوں ( ڈاکٹر ارشد علی ) نے واردات کے ۹؍ مہینہ بعد ۱۹؍ مئی ۲۰۱۵ ء کو این آئی اے کے طلب کرنے پر یہ گواہی دی تھی کہ واردات کے رات حسنی اور اس کے ساتھ ایک آدمی میری کلینک پر آئے تھے جب کہ میری کلینک اندر سے بند تھی انہوں نے جلنے کا مرہم مانگا تھا ۔جب ہم نے دوران جرح ڈاکٹر ارشد سے اس کے اپنے بچوں کی تاریخ پیدائش ،کلینک رجسٹریشن کرانے ،اس کے نمبر ،اور یہ کہ کتنے پہلے اس کا رجسٹرین ہوا تو وہ جواب دینے میں ناکام کرہے ،دوران جرح یہ بات کھل سا منے آگئی کہ ڈاکٹر ارشد علی بجنور میں غلط طریقے سے کلینک چلارہے تھے جس کا فائدہ اٹھاکر این آئی اے نے انہیں جھوٹا گواہ بننے پر مجبور کر دیا ۔جمعیۃ علماء کے زور دار جرح کی تاب نہ لاکر اکثر گواہ اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ این آئی اے پہلے سے ان کے جھوٹے بیان لکھ رکھے ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے،ان گواہیوں سے اے ٹی ایس اور این آئی اے دونوں تفتیشی ایجنسیوں کا جھوٹ آہستہ آہستہ بے نقاب ہو تا جا رہا ہے ۔ واضح رہے کہ بجنور(اتر پر دیش) میں ۱۲؍ستمبر۲۰۱۴ء میں ایک دھماکہ ہو ا تھا، جس کے بعد یوپی ایس ٹی ایف نے رئیس،عبد اللہ،فرقان،ندیم اور حسنہ نامی ایک خاتون کو گرفتار کرتے ہوئے ان پر ملک کے خلاف جنگ،سازش اور غیرقانونی ہتھیار و دھماکہ خیز مادہ رکھنے کا الزام عائد کرتے ہوئے ان کے خلاف یو اے پی اے کے تحت مقدمہ درج کیا اور اسی کے مطابق ان کے خلاف فرد جرم بھی عائد کیا۔اس کیس کی سماعت پہلے بجنور کی ضلع عدالت میں ہو ئی، اس کے بعد حکومت ہند نے جب یہ مقدمہ این آئی اے کے حوالے کر دیا تواس کی سما عت بجنور ضلع عدالت سے لکھنواین آئی اے کی خصوصی عدالت میں منتقل ہو گئی تھی،اس وقت سے مقدمہ کی سماعت اور جرح لکھنو خصوصی عدالت میں جاری ہے۔اس موقع پر جمعیۃ علماء مہا راشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی نے کہا کہ بجنور کی ضلعی عدالت میں وکلاء نے اس کیس کا با ئیکاٹ کر دیا تھا جس کے بعد ان ملز مین کے اہل خانہ نے اس کیس کی پیروی کرنے کے لئے جمعیۃ علماء مہاراشٹرسے درخواست کی تھی جمعیۃ علماء مہاراشٹر نے اس کیس کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے اس مقدمہ کی پیر وی کے لئے دہلی کے مشہور ایڈوکیٹ ابوبکرسباق سبحانی و دیگر کونامزد کیا ہے اور وہ اس مقدمہ کی پیروی جمعیۃ لیگل ٹیم کے سر براہ ایڈوکیٹ پٹھان تہور خان کی نگرانی میں موثر انداز میں کر رہے ہیں –

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker