مسلم دنیا

استنبول میں سیلاب، میئر پر کڑی تنقید

 

استنبول کے میئر کے عہدے پر فائز ہونے کے بعد دو مہینوں میں دوسری بار چھٹیوں پر جانے والے اکرم امام اوغلو کو سخت تنقید کا سامنا ہے؛ کیوں کہ ترکی کا سب سے بڑا شهر ہفتے کے روز اچانک سیلاب کی کیفیت سے دوچار ہوا۔ تقریبا دو دہائیوں میں حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی کسی جماعت کے پہلے میئر امام او غلو نے اتوار کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور محکمہ موسمیات پر الزام لگایا کہ اس نے اچانک سیلابی کیفیت کے بارے میں بلدیہ کو بروقت آگاہ نہیں کیا۔ چھٹیوں سے واپس شہر آنے پر میئر کو سوشل میڈیا پر کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا کہ جہاں ان کی ایک کشتی پر گزاری گئی چھٹیوں کی تصاویر کافی پھیلی۔ البتہ امام او غلو کا کہنا ہے کہ وہ صرف دو دن کے لیے گئے تھے اور چھٹیوں کے باقی چھے دن دوسرے شہروں میں ہونے والی تقریبات میں گزارے۔

گرمی کی طویل لہر کے بعد ہفتے کو ہونے والی شدید بارش
نے استنبول اور شمال مغربی ترکی کے متعدد شہروں کو متاثر کیا، جن میں ماہرین نے اچانک سیلاب (flash floods) کی پیشن گوئی بھی کی کہ جس نے مختلف علاقوں میں پبلک ٹرانسپورٹ اور ٹریفک کے نظام کو متاثر کیا۔ اچانک سیلاب سے خاص طور پر نشیبی اور ساحلی علاقے میں کافی تباہی پھیلی، جن میں اینونو، بیشک تاش، اسکودار قارا کوئے ، قانی کوئی اور کاتاش جیسے اہم ٹرانسپورٹ مراکز شامل تھے۔ ضلع فات میں شاخ زریں کے قریب انشا پانی انڈر پاس سے ایک شخص کی لاش برآمد ہوئی۔ خبروں کے مطابق ہوسکتا ہے یہ کوئی بے گھر شخص ہو، جو انڈر پاس میں رہتا ہو جہاں سیلابی پانی 190 سینٹی میٹر تک بلند ہو گیا تھا۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ شخص سیلابی پانی میں ڈوب کر جان سے ہاتھ دھو بیا یا اس سے پہلے ہی بے ہوش یا مردہ تھا۔
باسفورس سے اسکو دار چوک کی طرف جانے والے راستے ایک مرتبہ پھر زد میں آئے کہ جہاں چوک پر سیلاب کی کیفیت تھی اور تصاویر سے ایسا لگتا تھا کہ سمندر زمین سے مل گیا ہے۔ ضلع کے نشیبی علاقوں میں کئی دکانیں اور مکانات سیلاب کی زد میں آ گئے جہاں گزشتہ چند سالوں سے زیر تعمیر برساتی پانی کے نکاس کے لیے سرنگوں سمیت متعدد اہم مقامات ہیں۔ بے او غلو کے علاقے قاسم پاشا کو بھی اچانک سیلاب کا سامنا کرنا پڑا، جس میں متعدد گھر اور دکانیں متاثر ہوئیں۔ باقر کوئے کی ساحلی سڑک، جو باسفورس کے پار جانے والی یوریشیا سرنگ سے منسلک ہوتی ہے، طغیانی کی وجہ سے ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی۔ 558 سال پرانا شہر کا معروف گرینڈ بازار، جو حال ہی میں چھت اور بنیادی ڈھانچے کی تزئین و آرائش کے مراحل سے گزرا، بھی فوری سیلاب سے متاثر ہوا۔

آو جیلر، سیفاکوئے، باخچہ لی ایولر، چتالجا، زیتن بورنو، سرائیر ، فاتح، ایسن یورت، قاضی کوئے، اسکو دار، تزلا اور پنیرک ایسے اضلاع تھے کہ جہاں سب سے زیادہ بارش ہوئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کچھ علاقوں میں صرف ڈیڑھ گھنٹے میں 113 کلو فی مربع میٹر بارش ہوئی، یعنی اتنی بارش جتنی عموما پورے موسم سرما میں ہوتی ہے۔ یورپی علاقے امینونو چوک پر راہ گیروں کے لیے بنائے گئے ایک انڈر پاس میں سیلابی پانی چلا گیا جس سے اندر موجود دکانوں کو شدید نقصان پہنچا۔ اسکودار میں شدید بارش کی وجہ سے ایک سڑک میں گڑھا بن گیا۔

۔ CHP اس طرح شهر کو چلائے گی؟”
استنبول سٹی کونسل میں انصاف و ترقی پارٹی (آق پارٹی) کونسل اراکین کے رہنما محمد توفيق گوکسو نے کہا کہ اس تباہی کی ذمہ دار امام او غلو انتظامیہ تھی۔ انہوں نے ایک اخبار سے گفتگو میں کہا کہ تباہی شہر کے بنیادی ڈھانچے کی وجہ سے نہیں، بلکہ شہری انتظامیہ کے معاملات کو سنبھالنے کی وجہ سے آئی ۔ محکمہ موسمیات اور دیگر اداروں نے ایک دن قبل بارش سے خبردار کیا تھا اور اگر بلدیہ بروقت اقدامات اٹھاتی تو ہمیں ایسے مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ بد قسمتی سے اس نے ایک مثال قائم کردی ہے کہ جمہور خلق پارٹی (CHP) کس طرح شہر کو چلائے گی۔ انہوں نے امام او غلو کی پارٹی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ امام اوغلو نے بلدیہ عہدیداروں کے ساتھ مل کر گزشتہ روز امینو نو اور اسکودار کے علاقوں کا دورہ کیا کہ جہاں امینو نو میں ایک دکاندار نے امام او غلو پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ” میئر صاحب کہاں تھے آپ؟ آپ کو (ہفتے والے دن ہی) یہاں ہونا چاہیے تھا۔ بلدیہ کا ایک بھی اہلکار یہاں نہیں تھا۔

متاثرہ علاقوں کے دورے کے بعد امام او غلو نے تسلیم کیا کہ محکمہ موسمیات نے بلدیہ کے ڈیزاسٹر کوآرڈی نیشن سینٹر کو پہلے ہی انتباہ جاری کر دیا تھا؛ لیکن دعوی کیا کہ یہ ایک معمولی سا انتباہ تھا۔ انہوں نے مناسب اطلاع نہیں دی، یہ محض درمیانے درجے کی تنبیہ تھی، اور بروقت بھی نہیں کی گئی۔ ایجنسیوں کو اپنا قبل از وقت انتباه کا نظام بہتر کرنا چاہیے۔ امام او غلو نے فوری بحالی کا عہد کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے نقصان کا اندازہ لگا لیا ہے اور ہمارا عملہ میدان میں موجود ہے۔” شدید بارشیں ترکی کے شمال مغربی حصے میں ہوئیں، ترک محکمہ موسمیات (TSMS) نے دارالحکومت انقرہ کے لیے بھی پیشن گوئی کی تھی۔ ان بارشوں سے درجہ حرارت 5 سے 10 درجہ سینٹی گریڈ کم ہونے کا امکان ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker