ہندوستان

نابالغ ہوتے ہیں بھگوان، نابالغ کی جائیداد نہیں چھینی جاسکتی

نئی دہلی، 21 اگست (بصیرت نیوز سروس / یو این آئی) سپریم کورٹ میں اجودھیا میں واقع رام جنم بھومی۔ بابری مسجد زمین تنازعہ کے نویں دن کی سماعت آج پوری ہوئی، جس میں رام للا وراجمان نے جہاں اپنی بحث پوری کی، وہیں جنم بھومی پونرودار سمیتی کے وکیل نے بھی اپنی دلیلیں پیش کیں۔
رام للا وراجمان کے وکیل سی ایس ویدناتھ نے چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی صدارت والی پانچ رکنی آئینی بنچ کے سامنے دلیل پیش کی کہ قانون کی طے صورت حال میں بھگوان ہمیشہ نابالغ ہوتے ہیں اور نابالغ کی جائیداد نہ تو چھینی جاسکتی ہے ، نہ ہی اس پر قبضہ کا دعوی کیا جاسکتا ہے

انہوں نے کہا کہ ’’متنازعہ زمین صرف بھگوان کی ہے۔ وہ بھگوان رام کی جائے پیدائش ہے اس لئے کوئی وہاں مسجد بنا کر اس پر قبضے کا دعوی نہیں کرسکتا۔ ’’آئینی بنچ میں جسٹس ایس اے بوبڈے، جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ، جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس ایس عبدالنظیر بھی شامل ہیں۔
مسٹر ویدناتھ نے دلیل دی کہ قبضہ کرکے ایشور کا حق نہیں چھینا جاسکتا ہے۔ جنم بھومی کے تئیں لوگوں کی عقیدت ہی کافی ہے۔ مورتی رکھنا اس مقام کو متبرک بنادیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’اجودھیا کے بھگوان رام للا نابالغ ہیں۔ ایسے میں نابالغ کی جائیداد کو نہ تو بیچا جاسکتا ہے اور نہ ہی چھینا جاسکتا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker